اِتنے مانوس صیاد سے ہو گئے

اِتنے مانوس صیاد سے ہو گئے
اِتنے مانوس صیاد سے ہو گئے

  

فلم کا نام تو ذہن میں نہیں آ رہا، بس اتنا یاد ہے کہ مشہور ایکٹر ندیم نے اُس میں ایک مفلوک الحال نوجوان کا کردار ادا کیا تھا۔ پھر جیسا کہ روایتی فلموں میں ہوتا ہے، ہمارا ہیرو راہ چلتے چلتے ایک سیٹھ کی کار سے ٹکرا گیا۔ سیٹھ صاحب، جن کا کردار مقبول مزاحیہ ایکٹر لہری نے ادا کیا، بیٹی کے ساتھ کار سے اترے اور دونوں نے مل کر نیم زخمی نوجوان کو پچھلی سیٹ پہ لٹا دیا۔ نوجوان بظاہر درد سے کراہ رہا تھا۔ کار دوبارہ چلی تو لہری نے پوچھا ”کیوں برخوردار، کوئی کام وام بھی کرتے ہو؟“ ”جی نہیں“۔ ”تو گزر بسر کیسے ہوتی ہے؟“ ”بس جی، آپ جیسا کوئی آدمی گاڑی کے نیچے دے دے تو کچھ پیسے مِل جاتے ہیں“۔ ”تو آئندہ کام کرنے کا ارادہ ہے یا محض ایکسیڈنٹوں پر ہی گزارہ ہوگا؟“۔ اِس پر ندیم لاجواب ہو کر دوبارہ کراہنے لگتے ہیں۔ گاڑی چلتی رہتی ہے۔

کورونا رُت میں نو عمری میں دیکھی ہوئی یہ فلم ایک خاص وجہ سے یاد آئی۔ وجہ یہ کہ ہمارے یہاں علمی بحث میں دلائل کو کمزور پڑتا دیکھ کر اکثر دانشور کلامِ اقبال کو اپنی کمک پہ لے آتے ہیں۔ اِس کے اُلٹ، مشکل حالات میں میرا رُخ عام طور پر بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری کی طرف ہوتا ہے۔ وہ نہ ملیں تو لہری کا دروازہ کھٹکھٹا دیتا ہوں، جو عملی زندگی میں وہی کچھ تھے، جو فلموں میں۔ لہری کے گھر پہنچتے ہی ایک سنڈے میگزین کے رپورٹر نے انہیں جوتے پالش کرتے دیکھ کر پوچھا تھا ”آپ اپنے جوتے خود پالش کرتے ہیں؟“ جواب ملا ”توآپ کسی اَور کے جوتے پالش کرتے ہیں؟“ اِس آخری اخباری انٹرویو کی پوری روئداد دلچسپ ہے اور اختتامی حصہ پر تو واقعی اُنفرادیت کی مہر تھی۔ مرغوب لباس، دل پسند رنگ اور ترجیحی کھانے کے بعد سوال ہوا ”آپ کا پسندیدہ مشروب؟“ جھٹ کہا ”مشروبِ مغرب“۔

یہ پس منظر اِس لئے کہ مارچ کے وسط میں کورونا کی جبری بندش شروع ہوئی تو دو سینئر شہریوں پر مشتمل ہمارے کنبے نے بھی پالیسی ساز حکومتی اداروں کی پیروی میں چند بڑے بڑے فیصلے کئے تھے۔ پہلا فیصلہ یہ کہ جہاں تک ممکن ہو، گھر سے باہر نہ نکلا جائے۔ نکلیں تو خلائی مخلوق کی طرح ماسک پہن کر۔ واپس آ کر صابن مل مل کے گرم پانی سے نہائیں اور کپڑے بدل لیں۔ دوسرا فیصلہ اِس عزم کی یومیہ تجدید کا تھا کہ کچھ ہو جائے اپنا مُوڈ اچھا رکھنا ہے۔ مقامِ شکر کہ دو ایک فنی خرابیوں کے باوجود ہمیں اِن فیصلوں کا لاک ڈاؤن ریلیکس نہیں کرنا پڑا۔یہی نہیں، گھر کی50فیصد آبادی رمضان میں روزہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ دن کا بیشتر وقت تلاوت میں گزار رہی ہے۔ ”ایک قرآن ختم کیا ہے ساری دُنیا کے نام، دوسرا پاکستان کی خاطر، اب اپنے اور شاہد کے لئے پڑھ رہی ہوں“۔

یہ تو ہو گیا روحانی نشوونما کا سامان۔ پھر بھی آپ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لیٹے ہوئے نیم زخمی اداکار سے پوچھنا چاہیں گے کہ برخوردار، کورونا رُت میں گھر بیٹھے بیٹھے کوئی کام وام کرنے کا ارادہ کیا یا اب بھی محض ایکسیڈنٹوں پر گزارا ہو رہا ہے۔ سوال سیدھا سادہ، برمحل اور حقیقت پسندانہ ہے۔ بالکل مرزا غالب کے اِن الفاظ جیسا کہ ”ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں، کھائیں گے کیا“۔ اللہ مسبب الاسباب ہے،اِس لئے مسئلے کا حل بھی غالب مرحوم ہی کے انداز میں نکلا۔ روحانی نشوونما کا سامان کرنے والی گھر کی آدھی نفری دین اور دنیا دونوں میں سُرخرو ہے۔ سو، غالب کی پنشن کی طرح اسکول کی ملازمت سے بس اتنی تنخواہ کا آسرا ہے کہ جان و تن کا رشتہ برقرار رہے، مگر طبیعت میں خوشحالی کا تکبر پیدا نہ ہونے پائے،جو تکبر پیدا ہوا اُس کا تعلق کچھ ایکسیڈنٹوں کے ساتھ ہے۔

زمانی ترتیب سے چلوں تو ایک بڑا حادثہ گزشتہ رمضان میں میری چہیتی ہونڈا سوک کی رخصتی ہے۔ پروسیجر کی مار سے بچنے کے لئے شہزاد مکینک سے رابطہ کیا تھا۔ پوچھنے لگے ”بھائی جان، کتنے میں ڈن کروں؟“ کہا کچھ سمجھ نہیں۔ ”دیکھیں سولہ سو سی سی ہے اور سولہ سال پرانی مگر نقص کوئی نہیں۔ ٹائروں کو چند مہینے ہوئے ہیں، بیٹری بالکل نئی۔ آپ آٹھٓ مانگیں، ساڑھے سات میں نکال دیں گے“۔ اگلے ہی دن گوجرانوالہ سے بھائی کا فون آ گیا اور قیمت پوچھی۔ مَیں نے شہزاد کا نام لے کر پوری چالاکی افشا کر دی۔ بھائی نے قہقہہ لگایا اور کہا: ”کار ابھی میرے دوست نوید کو بیچ دیں، پیسے دو روز میں پہنچ جائیں گے“۔ آپ کو شک گزرا ہوگا کہ نوید نے رقم ادا نہ کی اور یہ حادثہ ہے۔ نہیں جناب، آپ میرے بھائی اور اُن کے دوستوں کو نہیں جانتے۔ ہمیں تو پائی پائی مِل گئی اور یہی ایکسیڈنٹ تھا۔

ایکسیڈنٹ اِن معنوں میں کہ وسائل کی فراوانی توقعات کا بحران پیدا کرتی ہے۔ مہنگائی کے دَور میں مقررہ آمدنی والوں کی اوقات کو سامنے رکھیں تو بات مزید واضح ہو جائے گی،چونکہ اللہ کو جان دینی ہے (جس کا فوری امکان کورونا رُت میں بڑھتا جا رہا ہے) اِس لئے اب کھُلے بندوں ایک اعترا ف کر ہی لینا چاہئے۔ وہ یہ آپ کا یہ کالم نویس اپنی طبعی شرافت کے باوجود پچھلے روزوں سے لے کر تازہ رمضان المبارک تک ایک اچھی سی نئی کار خریدنے کے امکان پر کسی کو بتائے بغیر خود اپنے آپ سے کبڈی کھیلتا رہا ہے۔ لوگ کہیں گے پاگل ہو گئے،سات آٹھ لاکھ میں نئی گاڑی؟ مَیں کھچرے وزیروں کی طرح یہ سوچ کر ہلکا ہلکا مسکراؤں گا کہ اِن بے چاروں کو دوہری شہریت والوں کے وسائل کا کیا علم۔ کسی نے مزید پوچھا تو پینترا بدل کر جوش سے کہا جا سکتا ہے ”ابے چُپ کر، یہ سی بی آر کے ساتھ میرا ذاتی معاملہ ہے“۔

معروف تخلیق کار ٹی ایس ایلیٹ کہہ گئے ہیں کہ کسی بھی شاعر کے لئے اُس کا تازہ خیال ایک نئی واردات کی طرح ہوتا ہے جو اُس کے فکری نظام کو بدل کر رکھ دیتی ہے،جس بھائی نے پرانی کار ٹھکانے لگانے میں مدد دی تھی، کورونا رُت میں چھ چھ فُٹ اصول دُوری کے اصول نے اُن کے ساتھ فون کے رابطے کو آج کل اور مضبوط کر دیا ہے۔ کہنے لگے کہ لاک ڈاؤن کے پیش ِ نظر نفسیاتی مریض اب آن لائن ہی دیکھتا ہوں۔ اِس سے ارتکازِ توجہ بہتر ہو گیا ہے اور خرچہ بھی کم۔ بھئی وہ کیسے؟ دیکھئے ایک تو یہ انکشاف ہوا کہ انسان کو زیادہ کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ایک پتلون اور دو ٹی شرٹس کافی ہیں۔ دوسرے گاڑی چلانے کی نوبت نہیں آتی، پٹرول ڈلوائے پورا ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے۔ یہ آخری بات مجھے لڑ گئی ۔ سوچا کہ اگر ہم دو افرادِ خانہ کے لئے ایک کار کافی نہیں تو یار، لعنت ہے ایسی زندگی پر۔ فالتو کار، میز کرسیاں، کوارٹر پلیٹیں،آہستہ آہستہ سب کچھ ختم۔ وجود ہلکا پھلکا ہو گیا۔

اِس دوران وہ دو درسگاہیں،جہاں مَیں اُستادی کی ایکٹنگ کرتا ہوں، آن لائن تدریسی پروگرام متعارف کرا چکی ہیں۔ہفتے میں تین روز وہی دو ٹی شرٹس اور ایک پتلون والا فارمولا۔ باقی وقت فی ہفتہ چالیس جمع چالیس جمع چالیس، ایک سو بیس اسائن منٹس پہ نظر ثانی۔ مطلب ہے خبروں کے متن کی پڑتال، حقائق کی تصحیح، زبان میں امکانی بہتری۔ معاوضے کا چیک تو خیر سمسٹر مکمل ہونے پر ہی ملے گا، لیکن اُس بندے کی خوش حالی کا کیا کہنا،جس کی جیب میں پچھلے رمضان بیچی گئی کار کی ’ادھی پچدھی‘ رقم ابھی تک پھدک رہی ہے۔ پرسوں سوچا کہ دو ماہ پرانا لاک ڈاؤن مزید دو مہینے طول کھینچ لے تو بھی مجھے دیہاڑی دار مزدوروں سے کیا لینا دینا، میرے گلشن کا کاروبار تو چلتا ہی رہے گا۔ اب کل سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا سُن کر ایک دھڑکا سا لگ گیا ہے اور ایک بار پھر فلم ’بازی‘ میں حبیب ولی محمد کا وہ نغمہ حافظے میں گونج رہا ہے، جس کی عکس بندی ندیم ہی پہ ہوئی تھی۔روز الہ آباد کے بول ملاحظہ ہوں۔

آشیاں جل گیا گلستاں لُٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے اِتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -