برصغیر کے جاتی سسٹم میں مسلمانوں کا مقام(2)

برصغیر کے جاتی سسٹم میں مسلمانوں کا مقام(2)
برصغیر کے جاتی سسٹم میں مسلمانوں کا مقام(2)

  

زیادہ تعداد میں مسلمان گزشتہ 8 صدیوں میں بنے۔ بہت کم مسلمان ایسے ہونگے جو اونچی ذاتوں سے آئے ہوں خاص طور سے شمال مغربی ہندوستان میں زیادہ تر ہندہ اولیأ کرام کی صحبت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے۔ اس قسم کی تبدیلیِ مذہب Emotional یعنی نیک جذباتیت پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسی تبدیلیِ مذہب میں عقل و دانش اور مطالعے کا کم ہی دَخل ہوتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہندو جاتیوں میں روحانی تشنگی اسلام کی آمد سے پہلے ہی موجود تھی۔ بھگتی تحریک دراصل 5ویں صدی عیسوی سے شروع ہو کر 16 ویں صدی تک پورے زور و شور سے جاری تھی۔ اسی دوران جہاں مسلمان تعداد میں بڑھ رہے تھے اُن ہی دِنوں ہندوؤں کی ذات پات سے متنفر ہو کر باباگورو نانک نے بُت پرست ہندؤں کی چھوت چھات کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ بابا جی خود بھی ایک ویش گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ویش (بنیا ذات)شودر ذات سے ایک درجہ اونچی ہے۔ جب بابا جی نے اپنے خیالات کو ایک مذہبی فکر کی شکل دی تو اُن کا ساتھ صرف نیچی ذاتوں کے ہندؤں نے ہی دیا۔ اپنی اس دلیل کو، کہ مِن جملہ تبدیلیِ مذہب معاشرے کے پسے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں، اس مثال سے سمجھا تا ہوں، آپ انگریزوں کی آمد کے بعد ہندوستان میں مسیحی مذہب کی ترویج کا مطالعہ کریں۔ ہندو جاتی سسٹم کے ٹھکرائے ہوئے لوگ زیادہ تر عیسائت کی طرف راغب ہوئے۔ چونکہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت بھی نو مسلموں کی تھی اس لئے عیسائی Converts کے ساتھ مسلمان بھی چھوت چھات کی علّت سے آزادنہ ہو سکے۔ صفائی کرنے والے اور ہمارا بول و براز اُٹھانے والے مسیحی کے ساتھ ہم مسلمان کھانا نہیں کھا سکتے تھے۔ ہم نے اُن کو عزت کانام مہتر یا جمعدار تو دے دیا لیکن اُن کو اپنے ساتھ نہ بٹھایاحالانکہ عرب مسلمان ممالک میں، ایران، اور ترکی میں یہ ہی کام مسلمان کرتے ہیں اور مسلمان معاشرے میں اُن سے کوئی بھی چھوت چھات نہیں رکھتا۔

ہندوستان کا قدیم جاتی سسٹم معاشرتی طور پر رد کیا جاسکتا ہے لیکن Ethnolog یعنی نسلی خواص کی جانچ کے مطابق، اعلیٰ نسل، ذہنی اور جسمانی طور پر زیادہ صحت مند ہوتی ہے اور کم تر نسلوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھی اعلیٰ نسل کے قبیلوں میں ہی پیدا کئے اگرچہ اُن سے کام کم ذات والے لوگوں کی طرح لئے۔ چرواہا گیری تو سب نے کی گو ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے زمانہ بلوغت سے ہی تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔ اللہ تعالیٰ ہم انسانوں کو تقویٰ کے حوالے سے برابر کا قرار دیتا ہے۔ عجمی اور عربی میں کوئی فرق نہیں رکھتا،لیکن اہلیت، جدّت،شجاعت، دیانت، علمیت اور امانت کے لحاظ سے مختلف نسلیں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں یورپی اقوام دنیا کے بقیہ براعظموں کے باسیوں سے زیادہ ذہین، جفاکش، جدّت طراز اور علم میں بہت آ گے ہیں۔ امریکہ، کینڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے باشندے بھی یورپی نسل سے ہیں یہا ں تک کہ یورپی نسل کے اسرائیلی (جو پہلے Gentile کہلاتے تھے اور پیدائشی یہودی نہیں تھے)انہوں نے بھی کثرت سے ہر شعبے میں ایجادات کیں، ان ہی نے فوج کشی کر کے ایشیاء اور افریقی ممالک کو فتح کیا اور وہاں علم اور سائنس کو پھیلایا۔ عربو ں اور دوسرے مسلمانوں کا عظیم کارنامہ یہ رہا کہ وہ علم، سائنس اور ٹیکنا لوجی کے حامل (Carriers) بن کر اپنے سنہری دور میں ساری دنیا میں علم کی روشنی پھیلاتے رہے۔ شمالی ہندوستان کے مسلمان چونکہ بہت کم اُونچی جاتیوں سے آئے تھے اس لئے ہم پاکستانی مسلمان جفاکش اور محنتی ضرور ہیں لیکن ہم ethenicallyکمزور ذہن اور معاشرت کے حامل ہیں۔ اسی لئے سچ پوچھیں تو ہم نے اپنے طور پر کچھ بھی ایجاد نہیں کیا۔ ہم نئے تصوّرات اور سائنس وٹیکنالوجی میں نقل تو کر سکتے ہیں، ہمارے عوام کی زیادہ تعداد ہندؤں کی چھوٹی ذاتوں سے آئی ہے اس لئے ہم میں genetic کمزوریا ں ہیں۔ ہم جذباتی ہیں، ہم احساسِ کمتری کی وجہ سے Honour killing کرتے ہیں۔ قانون شکنی میں اپنی شان سمجھتے ہیں، تھوڑی سی بھی ہمیں اہمیت مل جائے تو ہم ظالمانہ حد تک اپنے سے کم تر سے تکبرّکا روّیہ اپنا لیتے ہیں۔ یہ سب احساس کمتری کی مختلف اشکال ہیں ہم مسلمان تو بن گئے لیکن ہندؤں کی ثقافت اور معاشرت کی بُری روایات کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارے ہاں آج بھی طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کو معقول نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ کاروکاری، قرآن سے شادی، ونی اورخرکاری، یہ تمام ریت و رواج یا مظالم، اسلام کے دائرے میں نہیں آتے۔ ایسی برائیاں آپ کو پاکستان کے علاوہ دوسرے مسلمان ممالک میں نظر نہیں آئیں گی۔ آپ کی دلچسپی کے لئے یہ بتاتا چلوں کہ وہ تمام مسلم مما لک جو ساحلوں پر واقع ہیں وہاں اسلام عربوں اور اناطولیا کے تاجروں کے ذریعے پہنچا۔ اُندلس سے ہوتے ہوئے شمالی افریقہ سے جنوبی ہندوستان کو چھوتے ہوئے مشرقِ بعید کے تمام مسلمان ممالک میں ذات پات کا چرچا نہیں ہے۔ البتہ قبیلہ نوازی ہو سکتی ہے جو ان ساحلی ممالک میں اب ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ شمالی ہندوستان کا وہ حصہ جو پاکستان کہلاتا ہے وہاں مسلمانوں کی زیادہ تعداد جذباتیت، خوف اور روحانیت کی تسکین کے لئے مسلمان ہوئی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شمالی ہندوستان کے مسلمان علماء نے عامتہ المسلمین کو اسلام کی دانش و حکمت سمجھانے کے لئے بڑے مدرسے بنائے اور قرآنِ مجید کی انفرادی تفسیریں لکھ کر ہم مسلمانوں کو مزید فرقوں میں بانٹ دیا۔

ہمارے ملک میں کم از کم 1500 سے زیادہ مفتی ہیں ہزاروں علماء ہیں لاکھوں امام مسجد ہیں ان میں سے کوئی بھی تو ہماری بگڑی ہوئی معاشرت کو ٹھیک کرنے کے لئے قدم نہیں اُٹھاتا۔ ہر کوئی کسی نہ کسی شکل میں سیاست میں ملوّث ہے یا اپنے مسلک کی برتری کے لئے کو شاں ہے یا مسجدوں کے لئے چندے اکٹھے کرنے میں مصروف ہے۔کسی کو اِسلامی معاشرے کی تشکیل کا ذرّہ بھر خیال نہیں آتا سوائے نعرے بازی کے۔ آج یہ مولوی سڑکوں پر کھڑے ہو کر دھواں چھوڑتی گاڑیوں اور بے ہنگم ٹریفک کو ٹھیک کرنے پر لگ جائیں تو سالوں کی عبادت کا ثواب پائیں گے۔ (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -