بھارت سے ادویات کی درآمد

بھارت سے ادویات کی درآمد

  

وزیراعظم عمران خان نے جان بچانے والی ادویات کی آڑ میں بھارت سے معمول کی ادویات درآمد کرنے کا نوٹس لے لیا،انہوں نے اپنے معاونِ خصوصی برائے احتساب کو تحقیقات کی ہدایت کر دی یہ معاملہ کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں مزید429 ادویات درآمد کرنے کی سمری پیش کرنے پر سامنے آیا۔بھارت سے جو ادویات درآمد کی گئیں ان میں معمول کی ادویات، وٹامنز وغیرہ بھی شامل ہیں، کابینہ اجلاس میں وزیراعظم اور دوسرے کئی وزراء نے ان درآمدات پر سوال اٹھائے تھے، استفسار پر معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے تھے اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ درآمدی فہرست کی تیاری ان کے علم میں نہیں،کابینہ نے زندگی بچانے والی ادویات کے سوا بھارت سے مزید دوائیں درآمد کرنے کی سمری مسترد کر دی تھی۔

کابینہ نے اگر صرف لائف سیونگ ڈرگز درآمد کرنے کی اجازت دی تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی ادویات کیونکر درآمد ہو گئیں۔یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ نہیں، سادہ ہے اور اس کی تحقیقات بھی کوئی مشکل نہیں،تھوڑی سی جستجو کے بعد ساری حقیقت سامنے آ سکتی ہے،جب کابینہ نے مخصوص قسم کی ادویات کی اجازت دی تھی تو پھر یہ کون لوگ تھے،جنہوں نے اس کے پردے میں ایسی دوائیں بھی منگوا لیں، جو پاکستان میں آسانی سے دستیاب ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت ملکی دوا ساز کمپنیاں بھی ایسی دوائیں بنا رہی ہیں،ظاہر ہے ایسی دواؤں کی درآمد کی چنداں ضرورت نہ تھی،لیکن ان لوگوں کے حوصلے اور جرأت کی داد دینی چاہئے،جنہوں نے ایسی دوائیں منگوانے کی اجازت بھی دے دی،ظاہر ہے جنہوں نے ایسا کیا اُن کا خیال ہو گا کہ معاملے پر پردہ پڑا رہے گا، ویسے بھی جب مفادات عزیز ہوں تو عقل پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے اور مفاد پرست جرأت کے ساتھ ایسے اقدامات کر گزرتے ہیں، جن کے بارے میں اُنہیں معلوم ہوتا ہے کہ درست نہیں، اربوں روپے کے اس سودے کی بہتی گنگا میں انہوں نے بھی ہاتھ دھوئے ہوں گے،جنہوں نے یہ ادویہ درآمد کیں،جنہوں نے مارکیٹ میں فروخت کیں،ان سب لوگوں نے منافع کمایا تو اجازت دینے والے بھی تو محروم نہیں رہے ہوں گے۔اگر اس میں اُن کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہ ہوتا تو انہیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ لائف سیونگ ڈرگز کی درآمد کی اجازت کے پردے میں وٹامنز وغیرہ بھارت سے منگوانے کی اجازت دیتے۔

اِس سے پہلے بھی صحت کے شعبے میں ایسے سکینڈل منظرِ عام پر آ چکے ہیں اور ایسے ہی ایک معاملے میں ایک وزیر کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے تھے، پھر شاید اُنہیں دوبارہ کہیں اِدھر اُدھر اکاموڈیٹ کر لیا گیا،اِس لئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا وہ کمائی کر کے اگر سائیڈ لائن بھی ہو گئے تو ان کی حد تک یہ کوئی مہنگا سودا نہیں،دراصل لکیر پیٹنا ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ جب غلط کام ہو رہا ہوتا ہے تو کوئی نہیں بولتا، نہ ہاتھ روکتا ہے، حالانکہ بہت کچھ بہت سے لوگوں کے علم میں ہوتا ہے، ادویات کی درآمد کے اِس معاملے ہی کو لے لیں، معاونِ خصوصی کہہ رہے ہیں کہ وہ درآمد کی جانے والی ادویات کی فہرست سے لاعلم تھے۔اگر یہ درست ہے تو کیا لاعلمی کی کوئی سزا نہیں اور مشیر صحت اس کے سزاوار نہیں،معلوم ہوتا ہے ان سے کسی نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ وہ لاعلم تھے یا اب تجاہل ِ عارفانہ سے کام لے رہے ہیں یا پھر انہوں نے یہ سمجھ کر دانستہ پردہ پوشی کی کہ شاید وقت کے ساتھ اس کیس کی فائلیں گرد آلود ہو جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ مزید دوائیں منگوانے کی تجاویز پر مشتمل سمری بھی کابینہ کو پیش کر دی گئی وہ تو اچھا ہوا کہ یہ مسترد ہو گئی،ورنہ تجویز پیش کرنے والوں نے تو اپنی چال چل ہی دی تھی،اُنہیں پہلے سے معلوم ہو گا کہ سمری مسترد بھی ہو سکتی ہے،لیکن انہوں نے موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔اب معاملے کی تحقیقات ہوں گی تو پتہ چلے گا کہ کسی قصور وار کو سامنے لایا جاتا ہے یا بیورو کریسی سارے معاملے کو بھول بھلیوں میں اُلجھا کر ذمے داروں کو صاف بچا لیتی ہے۔ اِس ضمن میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے تو تحقیقات پارلیمانی کمیٹی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم کے پاس چونکہ صحت کا محکمہ بھی ہے اس محکمے کا کوئی وزیر نہیں،اِس لئے اُن پر بھی درآمدات کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

جہاں تک بھارت کے ساتھ عمومی اشیا کی تجارت کا معاملہ ہے اس پر ہمارے ہاں ہمیشہ ہی اختلاف پایا جاتا ہے، بعض حلقے بھارت کے ساتھ تجارت کا دائرہ وسیع کرنے کی حمایت کرتے ہیں تو دوسروں کے نزدیک ایسی تجارت پسندیدہ نہیں ہے، جنہیں اس تجارت میں فائدہ ہے انہوں نے اس کے لئے راستے بھی نکالے ہوئے ہیں،بہت سی بھارتی کمپنیوں نے اپنے دفائر بیرونِ مُلک بھی بنائے ہوئے ہیں جہاں سے وہ بھارتی مصنوعات پاکستان کو برآمد کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کوئی نہ کوئی ادارہ ان اشیا کی پاکستان میں درآمد کی اجازت دیتا ہے تو یہ ہماری مارکیٹ میں آتی ہیں،حالانکہ اس بالواسطہ طریقے سے یہ اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔اگر براہِ است بھارت سے درآمد ہوں تو یہ نسبتاً سستی پڑ سکتی ہیں،لیکن ضابطوں کی سختیوں نے چونکہ یہ راستے کھلے نہیں رکھے اِس لئے تاجر چور دروازوں سے درآمد کرتے ہیں،سمگلنگ اس کے علاوہ ہے اور ان سمگل شدہ اشیا کی فروخت کے مراکز سے ہر کوئی باخبر ہے۔ لاہور میں کئی معروف علاقے بھارتی اشیا کی فروخت کے لئے مشہور ہیں اور جن کو یہ چیزیں درکار ہوتی ہیں وہ آسانی سے خریدتے رہتے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ سرکاری ٹیلی ویژن پر ان اشیا کے اشتہار بھی چلتے ہیں جو دبئی وغیرہ کے راستے ”قانونی طور پر“ بھارت سے درآمد ہوتی ہیں اور اب تک ہو رہی ہیں،بھارت سے اگر تجارت نہیں کرنی تو پھر چور دروازے بھی بند ہونے چاہئیں اور سرکاری ٹی وی پر ان مصنوعات کی تشہیر بھی نہیں ہونی چاہئے، لیکن ایسے تضادات تو ہمارے معاشرے میں عام ہیں، کوئی چاہے بھی تو پنبہ کہاں کہاں رکھے گا؟اِس لئے یہ ہمارا مُنہ چڑاتے رہتے ہیں،ہم بھارت سے تجارت کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور بھارتی اشیا سے مستفید ہونے میں بھی کوئی بُرائی نہیں سمجھتے، اب جبکہ بھارت سے ادویات کی درآمد کا معاملہ سامنے آیا ہے تو لگے ہاتھوں باقی اشیا کی تجارت کا جائزہ بھی لے لینا چاہئے کہ جو چیزیں منگوائی جا رہی ہیں اُن کی ہمیں ضرورت بھی ہے یا نہیں اور اگر اُن کا متبادل مقامی منڈیوں میں موجود ہے تو ان کی درآمد کی ضرورت کیا ہے،بھارت سے تجارت پر پابندی کے باوجود چور راستے موجود رکھنے ہیں تو زیادہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ سیدھے سبھاؤ براہِ راست بھارت سے منگوائی جائیں، کان کو اُلٹے ہاتھ سے پکڑنے کی کیا ضرورت ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -