کیا کورونا وائرس کی دوسری لہر آرہی؟ وہ ممالک جہاں کئی دن بعد نئے کیسز سامنے آنے لگے

کیا کورونا وائرس کی دوسری لہر آرہی؟ وہ ممالک جہاں کئی دن بعد نئے کیسز سامنے ...
کیا کورونا وائرس کی دوسری لہر آرہی؟ وہ ممالک جہاں کئی دن بعد نئے کیسز سامنے آنے لگے

  

بیجنگ،سیول(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائر س کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاون میں گرمی کی بات ہو رہی تاہم دوسری جانب چین اور جنوبی کوریا میں ایک بار پھر کووڈ انیس کے کیسز سامنے آنے لگے ہیں جس سے یہ خدشہ پیدا ہورہا ہے کہ کہیں کوروناوائرس کی دوسری لہر تو نہیں اٹھ رہی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق  گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں جنوبی کوریا میں کورونا کے 34 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو ایک ماہ میں سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دارالحکومت سیئول میں ایک مصدقہ متاثر شخص کے نائٹ کلب جانے کی وجہ سے نائٹ کلبز جانے والے افراد میں وبا کی ایک چھوٹی سی لہر پھیلی تھی۔کورین سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق ان نئے متاثین میں سے 26 مقامی طور پر متاثر ہوئے جبکہ آٹھ متاثرین بیرونِ ملک سے آئے ہیں۔اتوار کو سامنے آنے والی تعداد نو اپریل سے سب سے زیادہ تھی۔ چین کے بعد وبا ابتدائی طور پر سب سے زیادہ جنوبی کوریا میں پھیلی تھی مگر اس پر قابو پا لیا گیا تھ۔ جنوبی کوریا نے گذشتہ 10 دنوں تک یا صفر یا نہایت کم مقامی متاثرین کی اطلاع دی تھی اور یومیہ مجموعی تعداد حالیہ ہفتوں میں 10 یا اس سے بھی کم رہی۔

دوسری جانب چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مزید 14 متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ 28 اپریل کے بعد سامنے آنے والے نئے متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ان میں سے دو کیس بیرون منلک سے منتقلی کبکہ 12 مقامی منتقلی کے ہیں تاہم کوئی نئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔

چین میں کورونا وائرس سے اب تک 82901 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 4633 ہے۔

 ادھرکینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبوں نے اپنی معیشتیں کھولنے میں جلد بازی کی تو کورونا وائرس وبا کی دوسری لہر کینیڈا کو ‘رواں گرمیوں میں ایک مرتبہ پھر نظربند کر دے گی۔’

سپین کے وزیراعظم نے بھی دوسری لہر سے بچنے کیلئے لاک ڈاون میں نرمی کے دوران احتیاط کرنے کی تلقین کی ہے۔

خیال رہے دنیا میں متاثرین کی کُل تعداد 40 لاکھ 24 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور عالمی سطح پر کم از کم دو لاکھ 79 ہزار 313 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جہاں 13 لاکھ سے زائد افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 79 ہزار 794 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ برطانیہ ہلاکتوں کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -