لاک ڈاون میں نرمی اور کرونا کی سرگرمی

لاک ڈاون میں نرمی اور کرونا کی سرگرمی
لاک ڈاون میں نرمی اور کرونا کی سرگرمی

  

تحریر: ثوبیہ عباس

وزیر اعظم نے ایک پریس کانفرنس میں لاک ڈاون میں نرمی اور کاروبار بتدریج کھولنے کا اعلان کیا ہے اس سے کاروباری حلقے اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے گوکہ یہ ایک نام نہاد قسم کا لاک ڈاون تھا جس کو حکومتوں نے سختی سے نافذ کیا تھا نہ ہی عوام نے کوی اسکی اتنی پیروی کی تھی گروسری اور دیگر شاپنگ مالز رش سے بھرے تھے اور سماجی فاصلہ جو وضع کیا گیا تھا اسکی دھجیاں بھی اڑای جا چکی تھیں اس لیے حکومت نے اس سمارٹ یا جزوی لاک ڈاون کو ہفتے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ دھیرے ہی سہی گلشن کا کاروبار تو چلے ۔

عوام کی ایک بڑی تعداد جو کما کر کھانے پر یقین رکھتی ھے دو ماہ سے گھروں میں محصور ہے ان میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور بچے بچیاں بھی شامل ہیں جو محنت مزدوری کر کے گھر کا خرچ چلانے میں معاون ہیں کرونا کی وجہ سے ایک بڑی تعداد، نے ان کام کرنے والوں کا گھروں میں داخلہ بند کر دیا تھا مزدورں کا اطمینان اپنی جگہ لیکن ڈاکٹرز میں اس خبر سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جوں جوں سماجی ربط بڑھے گا کرونا میں اضافہ ہی ہو گا لہذا کچھ حلقوں میں اسے "آ کرونا مجھے مار "کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے سمارٹ لاک ڈاون کے باوجود ملک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد اور اموات میں اچانک اضافہ تشویشناک ہے زرا سوچیے کہ اگر سمارٹ لاک ڈاون بھی نہ ہو گا تو پھر کیا عالم ہو گا اگر وفاقی اور صوبای حکومتوں نے زرا سنجیدگی سے کوئی پالیسی بنا کر کام کیا ہوتا تو آج اتنے مریض نہ ہوتے ۔

ہماری حکومت سے کہیں زیادہ سرگرمی سے کرونا اپنا کام دکھا رہا ہے، کام تو اسوقت ہسپتالوں میں بھی دکھایا جا رہا ہے مریض چاہے ذیابیطس کا ہو یا گردوں کا، اسے کرونا کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں ساتھ ہی ہسپتال ایس او پی ز کے تحت کرونا ٹیسٹ لازمی ہے اتنے میں مریض کے ساتھ جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو جاتا ہے میت کی وصولی بھی اتنی آسان نہیں ہوتی اور لواحقین اگر غریب ہیں تو جس مشکل سے انہیں گزرنا پڑتا ہے اندازہ کرنا مشکل نہیں لیکن عوام کے درد کا درماں کون کرے ریاست انتقامی اور سیاسی بکھیڑوں میں الجھی ہے حکومت کی پہلی ترجیح سندھ حکومت پر تنقید اور شہباز شریف کی گرفتاری ہے ان اہم کاموں میں حکومت شد و مد سے مصروف ہے اتحادیوں کو بھی جھٹکے دی رہی ہے کہ وہ "بندے " بن کر رہیں اور کسی سیاسی جوڑ توڑ سے گریز کریں ۔

اعلیٰ عدلیہ نے بھی حکومت کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ امدادی رقوم اس حد تک ضرورت مندوں کو نہیں پہنچی جس کے دعوے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ایک مخصوص طبقہ جو یہ رقم لینے کا قایل نہیں وہ کاروبار کھلنے کا منتظر ہے ایسے لوگوں کے لیے دوہری پریشانی ہے گھر بیٹھیں تو، بھوک سے مرتے ہیں باہر نکلتے ہیں تو کرونا جیسی عفریت نگلنے کو تیار ہے عدلیہ نے انصاف کے نظام سے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے یقینی طور پر ایک عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا اور کئی بے گناہ جیل میں مدتوں ناکردہ سزا بھگتتے رہتے ہیں سانحہ ساہیوال کے ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیے گئے ہیں ۔

ملزمان کو سزا دینا عدالتوں کا کام ہے سب شواہد، موجود تھے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ با اثر ملزمان مظلوموں کو ڈرا دھمکا کر اپنی مرضی کے بیانات دلوا لیتے ہیں اور نہ چاہتے ہوے بھی لوگ مجبور ہو جاتے ہیں کہ ملزمان کو شناخت نہ کریں یوں عدم ثبوت کی بنا پر یہ لوگ بری ہو جاتے ہیں وزیر اعظم نے عندیہ دیا تھا کہ حکومت اس مقدمے کی پیروی کرے گی اور مظلوم بچوں کو انصاف دلانے گی لیکن انکے باقی وعدوں کی طرح یہ بھی وفا نہ ہو سکا، ادھر افشاں اپنے لیے انصاف کی تلاش میں بچوں کے ساتھ سڑکوں پر خوار ہوتی ہے ڈاکٹر وینٹی لیٹر کی تلاش میں تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان اقتدار کے حصول کے لیے بایئس سال جدوجہد کی ، کیوں کی؟ یہ ہم نہیں کہتے اگر ابن انشا ہوتے تو شاید کمال معصومیت سے کہہ لیتے خلق خدا تو بس یہ کہتی ہے کیا ہوا تیرا وعدہ کدھر گیے وہ بلند و بانگ دعوے جو صحت انصاف اور تعلیم کے حوالے سے کیے جاتے تھے، ایک بہت جید صحافی جو آجکل وزیر اعظم کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں سابقہ حکومت میں انصاف کے لیے رو رو کر دہائیاں دیا کرتے تھے، کرتے اب بھی وہی کچھ ہیں مگر کمال سادگی سے ملبہ پچھلی حکومت پر ہی گرا دیتے ہیں موجودہ حکومت پر آنچ آنے نہیں دیتے اسلیے خانصاحب کے پسندیدہ ہیں، انکا فرمان ہے کہ غریب کو کبھی انصاف، نہیں ملا بلاشبہ ہمارے ملک میں کبھی عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا مگر یہ پرانی باتیں ہوئیں اب تو امیر بھی روتا نظر آرہا ہے چاہے میر شکیل الرحمٰن ہوں یا ڈاکٹر فرقان سب ایک جگہ ہیں ۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک ہے جبکہ پاکستان ایک عام بندے کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہو چکا ہے لیکن چونکہ رپورٹ صحافیوں کے بارے میں ہے تو یقیناً یہ بات سچ ہے کہ ہمارے ملک میں سچ، کی آواز نکالنا خودکشی کے برابر ہےصحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر حقائق سامنے لاتے ہیں مگر سچ کی پاداش میں جان سے جاتے ہیں جہاں ایک عام آدمی اور صحافی کے لیے ملک خطرناک ہے وہاں صاحب اختیار و اقتدار کے لیے جنت ہے میڈیا جسے بہت بااختیار سمجھا جاتا ہے یہ اتنا ہی بے اختیار بھی ہے اب میر شکیل گزشتہ دو ماہ سے جیل میں ہیں اور یہ دیکھ کر خان صاحب کو روحانی بالیدگی کا احساس ہوتا ھے کہ انکے مخالفین جیل میں ہیں ۔

صحافیوں کے بارے اس رپورٹ کو، حکومت نے توجہ کے قابل نہیں سمجھا لیکن آٹا، چینی سکینڈل کے حوالے سے جو فارنسک رہورٹ آنی تھی اور زمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی تھی اسکا دور دور تک کوی پتہ نہیں ہے اسکے بعد حکومت نے دعویٰ کیا کہ منہگی بجلی خریدنے کے زمہ داران کو کٹہرے میں لاے گی شنید تھی کہ جلد ہی کاروای ہونے جا رہی ہے لیکن ایسا، نہ ہو سکا معلوم ہوا ہے جن صاحبان نے یہ رپورٹس دینی تھیں انہیں کرونا ہو گیا ہے اب ایک نیا سکینڈل سر اٹھا رہا ہے بھارت سے ادویات منہگے داموں منگانے کا قضیہ پیدا ہو جکا ہے اور ہمیشہ کی طرح ہر پٹھے کام میں وزیر صحت کا نام آ جاتا ہے شاید وہ جو بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہو گا پر یقین رکھتے ہیں اسلیے کبھی تفتان کے زایرین کو بھرہور طبی سہولیات نہ دینا، ماسک سپلای وغیرہ وغیرہ میں انکا نام تھا کبھی وہ غلط اعداد و شمار دے دیتے ہیں۔

وزیر اعظم کو اپنے دایئں بایئں بیٹھے وزرا کے کارناموں پرسنجیدگی سے غور کرنا چاہیے عوام بچاس لاکھ گھر اور نوکریوں کے وعدے بھول کر اپنے حالات میں شاکر ہو جاے گی لیکن آپ کی بایئس سالہ جدوجہد کو فراموش کر دے گی.

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -