" میری ماں تجھے سلام "

" میری ماں تجھے سلام "

  

انسان کےدل ودماغ میں جب ماں کا نام آتا ہےتو محبت شفقت پیار ممتا کی ایک حسین دل کو موہ لینے والی تصویر ابھر آتی ہے ماں محبت کا روپ ہے باپ شفقت کا روپ ہے انسانوں میں اگر محبت کا نظارہ دیکھنا ہوں تو ماں کی محبت کا نظارہ دیکھوں ماں کی محبت کامل محبت ہے دنیا میں کوئی ماں ایسی نہیں جو اپنی اولاد پر قربان نہ ہوتی ہوں ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے جس کی گہرائیوں کو آج تک کوئی ناپ سکاہے نہ ناپ سکےگا ماں کی محبت اللہ تعالی کی ایک عظیم انمول نعمت ہے ماں کی محبت وہ سدابہار پھول ہےجس پر کبھی خزاں نہیں آتی ماں تو ہمیشہ روز اول سے اولاد پر قربان ہوتی آئی ہے ۔

اللہ رب العزت نے شریعت میں ماں کا بہت بلند مقام بنایا ہے ماں کی گود بچے کی ابتدائی تربیت گاہ اوربچے کاپہلامدرسہ  ہےانسانی زندگی کی ابتداءماں کے بطن سےہوتی ہےبزرگ فرماتے ہیں کہ ماں کی دعا جنت کی ہوا ہوتی ہے جو شخص دل سے محبت سے ماں کے چہرے پر نظر ڈالتا ہے تو اللہ رب العزت اس کو ایک حج اور عمرے کا ثواب عطا فرماتا ہے اللہ تعالی نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے وہ خوشنصیب انسان ہے جہنوں نے ماں کی دعائیں لےلیں ماں کو راضی کرلیا اور ماں باپ کی خدمت کرکے اپنی  آخرت سنوار لی ۔

اسلامی واقعات کی کتابوں میں ایک قصہ  کافی مشہور ہےکہ ایک ولی تھے ان کی والدہ فوت ہوگی اللہ رب العزت نےالہام فرمایا کہ اےمیرےپیارےبندے جس کی دعائیں تیری حفاظت کیا کرتی تھی وہ اب اس دنیا سے رخصت ہوگی اب ذرا سنبھل کےزندگی گذارنا ماں کی دعائیں اولاد کےگہرد پہرہ دیتی ہے اولاد کو پتہ نہیں ہوتا کہ ماں کب اور  کہاں بیٹھی  دعائیں دےرہی ہوتی ہے ماں چاہیے کتنی ہی بوڑھی ضعیف ہوجائے ماں پھر بھی رحمت شفقت برکت کا سایہ ہوتی ہے دنیا میں ماں سے زیادہ جلدی معاف کرنے والا کوئی نہیں ماں کبھی بھی اپنی اولاد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔

دس مئی کو  پاکستان سمیت دنیا بھر میں مدرز ڈے منایا جارہا ہے اس دنیا میں آنےکی ترتیب توہےمگر دنیا سے جانے کی کوئی ترتیب نہیں ہے پچیس  جنوری "2020"بروز ہفتہ  کومیرے بھتیجے فرقان کاولیمہ کی دعوت تھی الحمدللہ اس ولیمہ دعوت میں میری ماں  نےاپنے پوتے کی شادی میں خوب انجوائےکیا ولیمے میں کراچی،حیدرآباد،ملتان،ٹنڈہ الہ یارسے آئے ہوئے مہمانوں کو رخصت کیامیری ماں کاتعلق ملتان پنجاب سےہے میری ماں  نے فرقان کی شادی میں  ملتان سے آئی ہوہی میری بہن کو روک لیاتھاتیس جنوری "2020"بروز جمعرات چار جمادی الثانی "1441"  ھجری کو رات بارہ بجکر پنتیس منٹ پر میری پیاری ماں چند منٹوں میں  آناً فاناً میں اللہ کو پیاری ہوگی اس وقت مجھے سمجھ میں آیا کہ زندگی ایک پانی کا بلبہ ہے میں ایک صحافی ہوں  صحافی کی زندگی بھی عجیب زندگی ہوتی ہے صحافی زندگی بھر اپنے قلم سے معاشرے میں لوگوں کےدکھ درد مسائل کو اجاگر کرنے میں وقف رہتا ہے مگر صحافی اپنا دکھ درد کس سے بیان کریں ؟

میری ماں محبت کرنے والی انتہائی ملنسار خاتون تھی میری ماں ایک سایہ دار شجر کی مانندتھی اس شجر سے ہرکوئی مستفیدہوتا  تھا  میری ماں نےلوگوں میں اپنے اڑوس پڑوس میں ہمیشہ خوشیاں بانٹی لوگوں کےدکھ درد میں ہمیشہ شریک ہوئی میری ماں  غریبوں کا دکھ درد محسوس کرنے والی شفیق خاتون تھی انسان رب کی رضا پر راضی ہے انسان کےاختیار میں کچھ نہیں ہے ماں کےیوں اچانک چلے جانے سے میری زندگی ویران اور اداس ہوگی ماں کی وفات کےبعد زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہےکہ جب میں نے اپنی ماں کی کمی محسوس نہ کی ہوں میرے والد کی وفات کےبعد میرازیادہ  تر وقت ماں کےساتھ ہی  گذرتا تھا اللہ تعالی نے مجھے جو توفیق دی وہ میں  ماں کی جو خدمت کرسکا اللہ تعالی میری اس ٹوٹی پھوٹی خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے ۔آمین 

ماں کی یوں اچانک جدائی پر دل کو صبر نہیں آتا ہے کمرے ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہےکہ ماں میرے ساتھ ہے زندگی میں ماں کےساتھ بیتے دن اور منظر ہروقت نگاہوں کےسامنے آجاتے ہیں ماں کی آواز میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے اب ماں کےبغیرزندگی بےمعنی لگتی ہے ہروقت ماں کےبھٹکے آتےہیں ماں جب چلی جاتی ہے تو پھر احساس ہوتا ہےکہ ماں کی دعائیں کیا کام دکھاتی تھی آج میں جوکچھ ہوں جس مقام پر  ہوں وہ میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے میں ماں کی جدائی پر  اپنی دلی کفیت لفظوں میں  بیان نہیں کرسکتا  مائیں مرکر بھی جدا نہیں ہوتیں محبت ان کی یوں محسوس ہوتی ہےکہ جیسے شائد ابھی زندہ ہوں کسی نےکیا خوب کہا ہےکہ

 "وہ میرے ساتھ روتی ہے وہ میرے ساتھ ہنستی ہے" 

"مری کب میری ماں وہ اب بھی دل میں بستی ہے" 

"زمانےبھرمیں مل نہیں سکتا بدل اس کا" 

"فقط ماں اک ہستی ہے فقط ماں اک ہستی ہے" 

ماں کا کوئی دوسرا بدل نہیں ہوسکتا جو محبت ماں کےدل میں ہوتی ہے کوئی اسکا نعم البدل نہیں ہوسکتادنیامیں کوئی   ماں کی محبت کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے ماں ماں ہوتی ہے ماں اپنے فرمابردار بچوں سے بھی محبت کرتی ہےتو ماں اپنے بگڑے بچوں سے محبت کرتی ہے بگڑے بچوں کو راہ راست پر لانےکےلیے ماں تمام جتن کرتی ہے ماں اپنے بچوں کےآرام انکے سکون کےلیے ہرطرح کی تکالیف برداشت کرتی ہے ماں اپنے بچوں کےلیے سردی گرمی دیکھتی ہے ماں تو بس چاہتی ہےکہ میرے بچے سکھی رہیں اولاد کی خاطر ماں اپنے ارمان اپنی خوائشات اپنے بچوں پرقربان کردیتی ہے  میری  ماں کی یوں اچانک جدائی سے محسوس ہوتا ہےکہ میرا سب کچھ میرا اثاثہ میری عظیم ترین ہستی ایک دم یوں جدا ہوجائے گی ایسا سوچا نہ تھا مگر مشیت ایزدی کےآگے سر تسلیم خم ہے اللہ تعالی مجھے صبر دیں میری ماں نے ہر موقع پر خوشی غمی زندگی کے تمام  مسائل میں میری رہنمائی کی  میری ماں کی دعائوں سے  میرے معاملات سیدھے ہوجاتے میری ماں گھرکےاندر محبتوں کو جوڑنے کا مرکز بنی ہوئی تھی جب ماں ہم سے جدا ہوتی ہےتو پھر احساس ہوتا ہےکہ ہم اب ماں جیسی عظیم نعمت سے محروم ہوگئے ہیں یہاں میں ان لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر دل سے ادب سے درخواست کرتا ہوں کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جن کےماں باپ حیات ہے وہ اپنے ماں باپ کی دل سے قدرکریں اورماں باپ کی خدمت کرکے جنت کے مستحق بنے ماں باپ جیسی عظیم ہستیاں دوبارہ نہیں ملتی ہےجن کی مائیں اللہ کوپیاری ہوچکی ہے وہ اپنی خالہ کی دل سےخدمت کریں حدیث پاک میں آتاہےکہ ایک نوجوان حضوراکرمﷺ کی خدمت میں حاضرہواکہ اےاللہ کے نبیﷺ میں اپنی والدہ کی خدمت نہیں  کرسکااوروہ دنیاسے چلی گی آپ   ﷺ نےفرمایاکیاتماری خالہ ہے اس نےکہاجی ہاں آپ ﷺ نےفرمایاپھراس کی خدمت کرلوں حدیث پاک کےمطابق ماں  کی خدمت کرنایا ماں جن کےساتھ محبت کاتعلق رکھتی تھی ان کےساتھ عقیدت و محبت کاتعلق رکھنا بھی ماں کی خدمت کاحصہ ہے اس رمضان المبارک میں مجھے ماں کی جو کمی محسوس ہوئی ہےوہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا خصوصاً افطار کےوقت ماں کی بہت یاد آتی ہے رمضان المبارک کی رحمتیں برکتیں جاری  ہے ان بابرکت لمحات میں میری اللہ تعالی سے دلی دعا کہ یااللہ میری ماں باپ عزیز رشتہ داروں سمیت جو مسلمان فوت ہوچکے ہیں ان سب کی مغفرت فرما میری ماں کےدرجات کو بلند فرما میری ماں کو جنت الفردوس میں مقام ارفع میں اعلیٰ مقام عطا فرما ۔آمین 

یااللہ میری ماں کی بخشش فرما  رحمتیں عطا فرما ۔آمین 

ماں وہ نعمت اور عظمت ہےجس کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں ہے ماں پیار کا وہ انمول پھول ہے جس کی خوشبو سے پورا گھر مہک اٹھتا ہے کسی شاعر نے ماں کےحوالے سے کیا خوب ارشاد فرمایا ہےکہ۔

"پھولوں کی خوشبو بہاروں کی برسات ماں ہی تو ہے "

"مہک رہی ہےجس سے میری کاہنات ماں ہی توہے"

"سچی ہے جس کی محبتیں سچی ہے جس کی چاہتیں "

سچے ہیں جس کے پیارکے جذبات ماں ہی تو ہے "

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -