دوہرے معیار

دوہرے معیار
دوہرے معیار

  

کبھی ماضی میں  جھانکیں تو ایک آواز آپ کو ماضی کے جھروکوں میں اکثر سنائی دے گی۔  جائے وقوع اسلام آباد کا ڈی چوک تھا، ایک کنٹینر پر صبح  شام  دعووں کا پلاؤ عوام کو کھلایا جاتا تھا کہا جاتا تھا کہ تحریک انصاف دو نہیں ایک پاکستان  پر یقین رکھتی ہے۔ ایک پاکستان ،مطلب جہاں سب کے لیے قانون ایک ہو ۔ جہاں انصاف کی فراہمی یقینی ہو ۔ خوشنما دعووں اور وعدوں کے انبار تھے کہ عوام مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ عوام نے تحریک انصاف سے امیدیں وابستہ کیں تو وہیں  پس پردہ بھی تحریک انصاف کی مدد ہوئی۔

 2018میں پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی تو اپوزیشن کو پس زنداں بھیجنے کے لئے سرتوڑ کوششوں کا آغازکردیا گیا۔ خاص طور پر مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگانے اور مائنس نواز فارمولے کو اپنانے کی کوشش کی گئی۔ لیگی رہنماؤں کو بیسیوں ماہ جیلوں میں گزارنے پڑے  جب کسی پر کچھ ڈالنے کو نہ سوجھا تو کسی پر غداری کے مقدمے بنے اور کسی کو منشیات کے مقدمے میں جیل کی ہوا کھانا پڑی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن رہنماؤں پر کچھ ثابت نہ ہوا تو رہائی کے پروانے جاری ہوئے۔  یہ سب بیان کرنے کا مقصد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائی اور  طبی معائنے کے لیے  بیرون ملک روانگی کی اجازت نامے پر بپا ہنگامے   اور حکومتی بوکھلاہٹ کو بیان کرنا ہے۔

آشیانہ ریفرنس اور منی لانڈرنگ کے الزام میں 28ستمبر2020کو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو لاہور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت واپس لینے کے بعد گرفتار کیا گیا ۔متعدد عدالتی پیشیوں کے بعد کچھ ثابت نہ ہوا تو لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت لاکھ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔ لاہور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ شہباز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی، نہ ہی شہبازشریف کے اکاؤنٹ میں کوئی غیر قانونی ذرائع سے رقم کی منتقلی ہوئی اور اثاثوں کے معاملے پر بھی  مکمل تفتیش نہیں کی گئی۔ عدالتی فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ  نیب الزامات کے ثبوت دینے میں ناکام رہا ہے۔ اور اس طرح ایک عوامی نمائندے،  ملک کے سب سے بڑے صوبے کے تین بار وزیراعلیٰ رہنے والے  شخص کو سیاسی عناد کی بھینٹ چڑھا کر قیدو بند میں رکھا گیا۔

اب شہباز شریف نے طبی معائنے کے لیے  بیرون ملک جانے کی اجازت کےلیے لاہورہائیکورٹ میں اپیل دائر کی ۔ عدالت نے فوری سماعت کی اور صحت کی صورتحال  کے پیش نظر شہباز شریف کو مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت  دے دی۔ بس یہ اجازت کی خبر نشر ہونا تھی کہ حکومتی کیمپوں میں بھونچال آگیا۔ ہر وزیر مشیر اپنے طور ایک دوسرے سے بڑھ کر عدالتی فیصلے کے خلاف بیان بازی کرنے لگا جو تادم تحریر جاری  ہے۔ اجازت ملنے پرجب شہباز شریف  مقررہ تاریخ اور وقت پر بیرون ملک روانگی کے لیے ائر پورٹ پہنچے تو عدالتی اجازت نامہ  ہونے کے باوجود امیگریشن کارڈ جاری ہونے کے بعد شہباز شریف کو آف لوڈ کردیا گیا اور کہا گیا کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ہے لہذا بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اب ایک دوسرا منظر بھی ملاحظہ ہو۔ معاون خصوصی زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں تھا۔موصوف نے وزیراعظم کے ہمراہ بیرون ملک پرواز بھرنی تھی کہ ای سی ایل میں نام ہونے کی وجہ سے ائرپورٹ پر روکا گیا۔ بس پھر کیا تھا ایک پاکستان اور ایک قانون کا نعرہ لگانےو الوں نے’’ پُھرتیاں ‘‘ دکھائیں اور زلفی بخاری کا نام آدھے گھنٹے کے اندر اندر ای سی ایل سے نکلوا کر بیرون ملک بھیج دیا۔  آج  شہباز شریف کی رہائی اور بیرون ملک روانگی کی اجازت ملنے پر واویلا کرنے والے بتائیں گے کہ زلفی بخاری کانام آناً فاناً کس قانون کے تحت ای سی ایل سے نکلوایا گیا۔ کیا  انصاف کی فراہمی اور یکساں قانون کا اطلاق صرف وعدوں اور باتوں تلک ہی محدود تھا یا اپنوں کے لئے قانون اور جبکہ مخالفین کے لئے اور ہے۔ نئے پاکستان کا دم بھرنے والے بتانا پسند کریں گے کہ  چینی آٹا سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کس قانون کے تحت  کارروائی کے معاملے میں حیل و حجت سے کام لیا جارہا ہے۔ ہر وقت مختصر اور شفاف کابینہ کے نعرے بلند کرنے والے بتانا پسند کریں گے کہ کس قانون کے تحت  چینی آٹا سکینڈل میں ملوث افراد تاحال کابینہ کا حصہ ہیں۔

حالیہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کا دوہرا معیار ہے۔ اپنے قریبی اور چہیتے افراد کے لیے قانون میں لچک نکل آتی ہے جبکہ حزب اختلاف والوں کے حق میں عدالتیں فیصلے دیں تو وہ بھی حکومتی اراکین کو ہضم نہیں ہوتے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ  معاملہ کوئی بھی قانون کا اطلاق ہر کسی پر یکساں ہونا چاہیے اگر شہباز شریف  کا نام ای سی ایل سے نکالنا  غلط ہے کہ تو پھر  جواب  اور دلیل اس کی بھی ہونی چاہیے کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے آدھے گھنٹے کے اندر اندر نکالنا کیسے جائز اور قانون تھا؟

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -