پولیس ملازمین حکومتی توجہ کے منتظر 

پولیس ملازمین حکومتی توجہ کے منتظر 
پولیس ملازمین حکومتی توجہ کے منتظر 

  

تحریر:سعدیہ مغل 

‎محکمۂ پولیس کسی بھی قوم اور معاشرے کی اصلاح و فلاح اور ترقی و بلندی کا ایک اہم ترین شعبہ تصور کیا جاتا ہے، اِس شعبے کے قیام کا مقصد معاشرے سے جرائم ، بدعنوانیوں اور خلافِ قانون حرکات کو ختم کرکے اُس کو پاکیزہ اور صاف بنانا ہوتا ہے، تاکہ معاشرہ کامیابی  و کامرانی کی منازل طے کرکے دُنیا میں امن و امان اور راحت و اطمینان کا ذریعہ بنے، لوگوں کے مال و جان، عزت و آبرو، اور اُن کا تشخص محفوظ رہے، اور وہ سکھ، چین، اور عافیت کی زندگی گزار سکیں،چنانچہ  یہ حقیقت ہے کہ جس قوم اور معاشرے میں محکمہ   پولیس جتنا مضبوط اور مستحکم ہوگا جرائم اور بدعنوانیاں اُس میں اُتنی ہی کم ہوں گی اورامن وامان اور حفظ و سلامتی اُس میں اُسی قدر زیادہ ہوگی۔

‎صدیوں پر محیط انسانی تاریخ کے دوران مختلف ناموں سے پولیس ہی معاشرے سے جرائم کے خاتمے ،امن کے قیام اور قانون کی بالا دستی کے لیے اپنامتعین کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گیرائی اور گہرائی ضرور پیدا ہوئی ہے تا ہم کوئی بھی اور ادارہ اس کی جگہ نہیں لے سکا ہاں البتہ سہولت کاری کے لیے ریاست کے مختلف ادارے‘ پولیس کی معاونت کی ذمہ داریاں ضرور نبھاتے ہیں ایک عرصے سے مسائل و مشکلات کے سبب پاکستان و ازادکشمیر  میں پولیس کی ذمہ داریوں میں اور بھی زیادہ  اضافہ ہوگیا ہے یہ علیٰحدہ بات ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس قومی ادارے کو مناسب وسائل کی فراہمی ، قوانین میں تبدیلی ،میرٹ کی بالادستی ،تربیت کی مناسب سہولتیں ،آزاد ی عمل اور پوسٹنگ اور ٹرانسفرز میں اشرافیہ اوربر سر اقتدار طبقات سے وہ آزادی حاصل نہیں ہو سکی جو کسی بھی جمہوری اور فلاحی معاشرے کا طرہ امتیاز سمجھی جاتی ہے۔پاکستان اور آزاد کشمیر میں کمزور جمہوری حکومتوں کے نتیجے میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح پولیس کا ادارہ بھی روبہ زوال ہو۱ہے وسائل کی کمی ،نت نئی شکل میں سامنے آنے و۱لے جرائم کے خاتمے کے لیے ناگزیر قانون سازی سے اجتناب ،جزاءو سزا کے کمزور پڑتے محکمانہ رویے ،وی وی آئی پیز موومنٹ کے لیے پولیس کی پہروں ڈیوٹیاں ،پوسٹنگ ،ٹرانسفر میں سیاسی مداخلت ،بر سر اقتدار سیاسی جماعتوں کی طرف سے پولیس کو سیاسی اور گروہی مقاصد کے لیے استعمال کر نے کے بڑھتے ہوئے ہمارے رجحانات ،منتخب عوامی نمائندوں کی بے جا مداخلت ،نچلی سطح کے پولیس اہلکاروں کی گھروں سے سینکڑوں میل دور تقرریاں،ڈیوٹی کے دوران مناسب آرام کے لیے وقفہ نہ ملنا ،مناسب الاونسز کا نہ ملنا، جیسے عوامل نے سلامتی سے وابستہ اس ادارے کی کارکردگی پرانتہائی مضر اثرات مرتب کیے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ شہداءکے وارث پولیس کوبھی بحیثیت ایک قومی و ریاستی ادارہ‘قوم کے لیے بائنڈنگ فورس افواج پاکستان اور دیگر سکیورٹی اداروں کی طرح سیاست سے مبرہ رکھااور مالی اور انتظامی سطح پر مکمل خودمختاری دی جائے اس سے ناصرف ملک میں مثالی طور پرامن قائم ہو سکے گا بلکہ عام آدمی کی پولیس کے ادارے سے وابستہ شکایات کا ازالہ بھی ممکن ہو گا۔ 

‎اِس حوالے سے اگر ہم خاص طور پر آزاد کشمیر کا جائزہ لیں تو بڑے افسوس کے ساتھ ہمیں اِس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ آزاد خطہ کے قیام  کے وقت سے لے کر آج تقریباً پون صدی گزرنے کے بعد تک بھی ہمارے محکمۂ پولیس کیساتھ امتیازی سلوک جاری ہے  ۔کسی بھی موقعہ پر پولیس آگے ہوتی ہے پولیو/سروے،مردم شماری ،پروٹوکول ،اعلی شخصیات کی حفاظت،کورونا سے بچاؤ کی مہم،احتجاج کنٹرول کرنے کےلیے پولیس ،مار کھانے کے لئے بھی پولیس،مگر  ان مالی اعانت پر دوڑائی جائے تو بہت ہی دکھ ہوتا ہے 2300روپے ماہانہ ہاوس رینٹ کےلئے 1000 روپے ماہانہ راشن الاؤنس کےلیے؟2000روپے ماہانہ کنونس الاؤنس کے لیے؟3500روپے ماہانہ رسک الاؤنس کےلیے ؟ یہ وہی رسک الاؤنس ہے جس کے بارہ میں محکمہ فنانس  اور حکومت کہتی ہے کہ یہ اضافی الاؤنس لے رہےہیں انکو تنخواہ میں %25 اضافہ نہ دیا جائے.ضرورت اس امر کہ ہے کہ  ڈوگرہ دور سے رائج چند سو روپے کے الاؤنسز پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ جہاں حکومت دیگر محکموں کے ملازمین کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے رہی ہے تو وہاں پولیس کے چھوٹے ملازمین کے دیرینہ مسائل کو بھی حل کرے۔

مزید :

بلاگ -