لڑکھڑایا مگر چلتا رہا

لڑکھڑایا مگر چلتا رہا
لڑکھڑایا مگر چلتا رہا

  

تبصرہ : محمد ظاہر بھٹی

میں عبدالمجید خان صاحب کے چار سفر ناموں کامطالعہ کر چکا ہوں۔’پھر اڑتے پتوں کے پیچھے، بستی بستی پھرا مسافر، اور پھر سات سمندر دور، اوراب’لڑکھڑایا مگر چلتا رہا‘ چاروں سفر نامے مصنف کی پاکستان،کینیڈا،حجاز مقدس اور انگلستان یاترا  پر مشتمل سفر اور سیاحت کی روئداد ہے۔  

مصنف لاہور میں اپنی شریک حیات کے ساتھ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں ان کا بیٹا اپنے بچوں اور فیملی کے ساتھ کینیڈا میں رہائش پذیر ہے جب کہ ان کی بیٹی اپنے بچوں اور خاوند ناصر خان کیساتھ انگلینڈ میں مقیم ہیں۔ بچوں کی محبت او رچاہت انھیں ہرسال  دوسال  بعدکینیڈا اور انگلینڈ کی یاترا کے لئے لے جاتی ہے۔وہ نوجوانی سے سیروتفریح  اور سیاحت کے شوقین رہے ہیں اس طرح ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انکا یہ مشغلہ جاری و ساری ہے جسے وہ اپنی ادبی زبان میں ’آوارگی‘ کا نام دیتے ہیں۔

رانا صاحب سرکاری محکمہ میں آڈٹ آفیسر تھے۔ آڈٹ کے لئے انھیں پورے پاکستان کے کئی شہروں اور قصبوں میں جانا پڑتا تھا اس طرح  وہ ساری عمر’اڑتے پتوں کے پیچھے‘  ’بستی بستی پھرا مسافر‘ کا عملی نمونہ رہے ہیں۔وہ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں کہ سرکاری کام اورآڈٹ کے ساتھ ساتھ انکا سیاحت کا ذوق بھی پورا ہوتا رہا۔

 عبدالمجید خان صاحب ساری عمر ارض مقدس پاکستان میں پنجاب اور  سندھ کے میدانی علاقوں سے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک اور ’خیبرپی کے‘ناران کاغان کی حسین ترین وادیوں کی یاترا  اور شوگران کی پر خطراوربلند و بالا چوٹیوں تک پہنچنے کے لئے سفر کرتے رہے لیکن رب کی خاص مہربانی سے کبھی کسی حادثہ سے دو چار نہیں ہوئے تھے۔لیکن بدقسمتی سے دو سال پہلے اپنے ہی گھر کے پاس سڑک کراس کرتے ہوئے حادثہ کا شکار ہو گئے اس حادثہ میں ان کا گھٹنا تین جگہ سے ٹوٹ گیا لیکن ہمت نہ ہاری اور چھ مہینے سال بعد دوبارہ سٹک کی مدد سے چلنے کے قابل ہو گئے۔اسے کہتے ہیں ’ہمت مرداں مدد خدا‘میں سمجھتا ہوں عبدالمجید صاحب اس حادثے کی وجہ سے لڑکھڑائے ضرور مگر ہمت نہ ہارے اور ایک مرتبہ پھر بچوں کو ملنے کی ’تانگ‘ میں پھر سات سمندروں پار رخت سفر باندھ لیا۔

سفر کے آغاز میں لاہورایئر پورٹ پر روانگی پر عملہ کے عدم تعاون کی وجہ سے کچھ پریشانیوں کو سامنا کرنا پڑا جس کا ذکر انھوں نے کتاب کے آغاز میں کیا ہے۔ اس پر مجھے بھی افسوس رہے گا کیونکہ میں نے جس دوست پروٹوکول آفیسرکی ذمہ داری لگائی تھی وہ کسی وجہ سے پوری نہ کر سکا جس پر میں شرمسار ہوں۔ بہرحال اس پر اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ’ہم بے وفا  ہر گز نہ تھے پر ہم وفا کر نہ سکے‘۔

 اپنے اس سفر میں جو دیکھا اسے بغیرکسی لفاظی اور لگی لپٹی کے بیان کر دیا۔ ان کے اسلوب میں وہی سادگی،شستگی اور ایک ربط نظر آتا ہے جو ان کی تحریروں کا خاصہ رہا ہے جو ہم ان کے پہلے سفر ناموں میں دیکھ چکے ہیں۔

زیر نظر کتاب میں بھی اپنی سفری آپ بیتی کو پوری ترتیب اور روانی سے انتہائی دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری  بور نہیں ہوتا بلکہ اپنے آپ کو ہم سفر محسوس کرتا ہے۔یہی ان کی تحریر کاسحر ہے کہ قاری اتنا محو ہو جاتاہے کہ کبھی اپنے آپ کو گوروں کے دیس کینیڈا کے خوبصورت شہر کیلگری کی یاترا کرتے ہوئے محسوس کرتا ہے اور اسی رو میں لاہور کی سیر کر رہا ہوتا ہے اور کہیں ناران کاغان کی دلفریب وادیوں میں کھویا ہوا محسوس کرتا ہے۔ایک منجھے ہوئے لکھاری کی یہی کامیابی ہوتی ہے کہ اس کی تحریروں کو دلچسپی اور شوق سے پڑھا جائے۔ 

عبدالمجید صاحب ایک حساس لکھاری ہیں وہ یورپ اور کینیڈا میں بھی اپنے وطن کو نہیں بھلا پائے۔ اس سفر نامہ میں اپنے لڑکپن اور نوجوانی کے خوبصورت دنوں کو بھی یاد کرتے نظر آتے ہیں ماضی کے ان حسین  یادوں کے سفر کو بھی قلم بند کیا ہے کہ وہ کس طرح پہلی مرتبہ 1967 میں اپنے گاؤں سے بڑے بھائی کے ساتھ کالج میں داخلہ کے لئے لاہور جیسے بڑے شہر میں آئے تھے۔پہلی مرتبہ رکشہ کا سفر کر کے اپنی معصومانہ خواہش کو پورا کیااور تاریخی شہرلاہور کی خوبصورتی نے انھیں کس طرح facinate کیا تھا۔ انھوں نے نہ صرف اپنے کالج کے خوبصورت دنوں کاتذکرہ کیا ہے بلکہ سات دہائیاں قبل آزادی کی ان تلخ یادوں کا بھی ذکر کیا ہے جب انکے والد اور اجداد کوکس طرح  جان اور عزت بچا کربے سر وسامان مشرقی پنجاب سے اپناگھر بار چھوڑ کر نئے دیس پاکستان آنا پڑا تھا۔

بہر حال اس سفر نامہ میں جہاں دیس بدیس سے آگاہی ملتی ہے وہاں اس ملک کے سیاحتی مقام کی تاریخ،جغرافیہ اور کلچرسے بھی آشنائی ملتی ہے۔راناصاحب نے چھوٹی چھوٹی جزئیات کوبھی مفصل لیکن جامع اورادبی شستگی سے بیان کیا ہے جو ان کی تحریروں کا طرہء امتیاز رہا ہے۔ 

لاہور سے شروع ہونے والایہ سفر کینیڈا اورانگلینڈ میں چار ماہ کی مسافتوں کے بعدواپس مصنف کے پسندیدہ شہر لاہور میں آکر ختم ہوجاتا ہے۔ یہ سفر نامہ نہ صرف سیاحت کے شوقین افراد کے لئے ایک مفیدمعلوماتی کتاب ہے بلکہ میرے جیسے قاری جو دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک کی یاترا نہیں کر سکے اس کے مطالعہ سے گھر بیٹھے آدھی سیاحت ہو جاتی ہے۔ اللہ کرے کہ عبدالمجید خان اپنی زندگی کے سفری مشاہدات کو اسی انداز میں بیان کرتے رہیں اورادب کی دنیا میں اسی طرح کامیابیاں سمیٹتے رہیں۔

مزید :

بلاگ -