آ  ہنی ضرب 

 آ  ہنی ضرب 
 آ  ہنی ضرب 

  

ماس کمیونیکیشن کا مطلب زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کم سے کم وقت میں معلومات کی فراہمی ہے۔وہ وسیلہ جو ماس کمیونیکیشن کا کام کرتا ہے، میڈیا کہلاتا ہے۔قدیم دور میں میڈیا فقط ایک ڈھول پر مشتمل ہوتا تھا۔ کوئی خبر لوگوں تک پہنچانی ہو تو ڈھول کی تھاپ پر شہر بھر میں اس کی تشہیر کی جاتی اور یوں اس خبر کو لوگوں تک پہنچایا جاتا۔جوں جوں انسان نے ترقی کی میڈیا بھی پھیلتا گیا۔ ڈھول زندہ تو رہا مگر میڈیا کے حوالے اس کا کردار عملاً ختم ہو گیا۔ انٹر نیٹ سے پہلے تین طرح کا میڈیا  اپنا وجود رکھتا تھا۔

 1۔پرنٹ میڈیا۔ یہ میڈیا، اخبارات، رسائل اور کتابوں وغیرہ پر مشتمل  ہے۔

2۔ براڈ کاسٹ میڈیا۔ یہ میڈیا  ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم وغیرہ پر مشتمل  ہے۔

3۔ آؤٹ ڈور میڈیا۔ اس میڈیا کے ذرائع میں اشتہار، پوسٹر، بل بورڈ، ہورڈنگ اور بینر شامل ہیں۔

 یہ تین انداز ایک لمبے عرصے تک میڈیا تشہیر کا ڈریعہ رہے مگر انٹر نیٹ کی آمد کے ساتھ ہی میڈیا میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ اب پرنٹ میڈیا اپنی وقعت بڑی تیزی سے کھو رہا ہے۔ اخبارات کی یومیہ طباعت اور اشاعت میں بہت کمی آ چکی۔ چھوٹے اخبارات تو اخراجات کے بوجھ تلے دب کر اپنا وجود ختم کر چکے،۔ رسائل کی تعداد پچھلے پندرہ بیس سالوں میں کم ہوتے ہوتے بہت معمولی رہ گئی ہے اور جو چھپ رہے ہیں ان کیاشاعت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کتابوں میں لوگوں کی دلچسپی برقرار نہیں رہی۔ کتابیں پبلشر کے لئے معاشی بوجھ بنتی جا رہی ہیں کیونکہ کتابوں کے خریدار اب بہت کم نظر آتے ہیں۔براڈ کاسٹ میڈیا میں ریڈیو میں وہ پہلے سی بات نہیں رہی۔ شہروں میں لوگ ریڈیو کم سنتے ہیں البتہ دیہاتوں میں اب بھی وہ کسی حد تک مقبول ہے۔ٹیلی وژن البتہ اپنی پوری گھن گرج کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور اس کی مقبولیت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ ٹیلی وژن کی دی ہوئی اطلاعات قابل بھروسہ ہوتی ہیں اس لئے کہ اس کی کارکردگی پر چیک اور بیلنس کا پورا نظام ہوتا ہے۔ فلم مگر اب پہلی سی مقبول نہیں رہی۔ شہروں میں جہاں سینکڑوں سینما گھر ہوتے تھے، وہاں اب چند نظر آتے ہیں۔لوگوں کا فلموں میں رحجان نہ ہونے کے سبب سینما مالکان نے سینما کی عمارتیں گرا کر وہاں شاندار پلازے بنا لئے ہیں جو ان کے لئے معاشی خوشحالی کی نوید ہیں۔ہاں کسی کسی پلازہ میں ایک سینما بنا دیا گیاکہ اس دم تورٹی اندسٹری کو کچھ سہارا مل جائے۔ دنیا میں سینما انڈسٹری کا اب بھی کچھ نہ کچھ مقام ہے مگرپاکستان کی حد تک یہ انڈسٹری اب مکمل زبوں حالی کا شکار ہے۔  

انٹر نیٹ کی آمد کے بعد ایک نیا میڈیا میدان عمل میں وجود پذیر ہوا ہے اور یہ میڈیا ڈیجیٹل میڈیا کہلاتا ہے۔ اس میڈیا کے پھیلنے کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کل کیا منظر عام پر آئے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔سمارٹ فون کی ایجاد نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔سمارٹ فون اور انٹر نیٹ نے ہماری انڈسٹری کا رخ بھی بدل دیا ہے۔سمارٹ فون نے روایتی ٹیلی فون، تارکے نظام، فیکس، کیمرے، کیلکو لیٹر، پرانی البم، کیلنڈر، گھڑی، سٹاپ واچ، ٹائپ رائٹر، قطب نما، ٹارچ، پرانے کھاتے اور ان کا حساب کتاب، ڈیک، ساؤنڈ ریکارڈر، ویڈیو ریکارڈر اور ان سے وابستہ بہت سی انڈسٹریوں کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ سبھی چیزیں ایک درمیانے سے سمارٹ فون میں آسانی سے میسر ہیں اور عوام معمولی رقم خرچ کرکے ان تمام چیزوں کا ایک سمارٹ فون میں ہی بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا میں وڈیوز اور ان کی ریکارڈنگ۔ ویب سائٹس، موبائل ایپارٹمنٹس، ای بکس اور سب سے انقلابی چیز سوشل میڈیا شامل ہیں۔ فیس بک، ٹویٹر، لنکڈن، یو ٹیوب، پن ٹرسٹ، انسٹا گرام اور گوگل سمیت بہت سے پروگرام سوشل میڈیا کے ہتھیار ہیں۔کووڈ کے دوران چونکہ ایک دوسرے کا قرب بھی ممنوع قرار پایا تو تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے۔ ایسے میں سوشل میڈیا ہی وہ چیز تھی کہ جس نے پورے نظام تعلیم کو سنبھالا دیا۔ گوگل میٹ اور زوم جیسے پروگراموں نے استاد اور شاگرد کی مجبوری کے دور میں رابطے کا کام کیا اور ایک پوری نسل کو تعلیم سے رابطے میں رکھا۔ گو اس عمل میں بہت سی خامیاں بھی نظر آئیں مگر کچھ نہ ہونے سے یہ بہت بہتر ثابت ہوا۔کووڈ کے دوران آن لائن سٹور بہت بڑی تعداد میں وجود میں آئے اور انہوں نے مارکیٹوں کے بند ہونے یا لوگوں کی رسائی نہ ہونے کے سبب چیزوں کی کمی نہ ہونے دی۔یوں سوشل میڈیا کا انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اپنے سمارٹ فون کی مدد سے آپ کوئی تصویر اتاریں اور اس کے بارے جو مرضی تبصرہ اس کے بارے لکھ کر اس پر لگا دیں۔ کوئی چیک اور بیلنس نہیں ہوتا، یہ آپ کاظرف ہے کہ جسے چاہیں صاحب دستار بنا دیں یا کوئی شخص پسند نہ ہو تو اس کی دستار کے پرزے اڑا دیں۔اس میں بہت سی باتیں سچ ہوتی ہیں، کچھ غلط بھی ہوتی ہیں مگر شاید ایسی باتیں بمشکل دس میں سے دو ہوں۔ زیادہ تر تلخ ہوتی ہیں وہ تلخ باتیں حکمرانوں اور طاقتور لوگوں کے بارے میں ہوتی ہیں۔ عام آدمی جہاں خود کو بے بس محسوس کرتا ہے وہ سچ کو سوشل میڈیا کے ذریعے نمایاں کر دیتا ہے۔مگر سچ کڑوا ہوتا ہے۔ کوئی اندھا خود کو اندھا کہلوانا پسند نہیں کرتا۔ ہمارے حکمران تو پیدائشی اندھے ہیں، انہیں سوشل میڈیا بہت تکلیف دیتا ہے۔ 

خبر ہے کہ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر فحش اورغیر اخلاقی وڈیوز سے لوگوں کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ پگڑیاں اچھالنے کے لئے سوشل میڈیا کو استعمال نہیں ہونے دینگے۔گند پھیلانے والوں کا صفایا کریں گے۔ کیونکہ ایسے واقعات کو بلیک میلنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ایسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں سے آ  ہنی ہاتھوں سے  نمٹیں گے۔ میری وزیر داخلہ سے گذارش ہے کہ آ  ہنی ہاتھ ضرور استعمال کریں۔ مگر چیک کر لیں اگر وہ مواد سچ پر مبنی ہے  تو یہ سوچ کر جو شخص اس مواد میں نشانے پر ہے لوگ اس سے کس قدر بیزار ہونگے اور اس کی حرکتیں کس قدر غلیظ ہونگی کہ کسی نے مجبوری میں اسے ننگا کیا ہے چنانچہ  ایک آہنی ضرب اس کو بھی درکار ہے جو غلیظ اور برا شخص اس مواد کا اصل ہیرو ہوتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -اداریہ -