سوچی سمجھی سازش سے بچئے ۔۔۔ دشمن کے ارادوں کو ناکام بنائیے

سوچی سمجھی سازش سے بچئے ۔۔۔ دشمن کے ارادوں کو ناکام بنائیے
سوچی سمجھی سازش سے بچئے ۔۔۔ دشمن کے ارادوں کو ناکام بنائیے

  

ایک بات ذہن نشین کرلیں!!!

جب بھی پاکستان آرمی یا دفاعی اداروں کے خلاف سوشل میڈیاپہ کوئی تحریر یاویڈیو ملے سب سے پہلےتو یہی سمجھیں کہ دشمن کاپروپیگنڈہ ۔یا پھر آپ تحقیق کریں۔ اس وقت پاکستان میں آندھی چل رہی ہے جس میں ہرطرح کاگند اڑ رہاہے ۔اور جب آندھی آتی ہے تو گردوغبار کچرا ہر گھر میں جاتاہے چاہے وہ جھونپڑی ہو شیشے کامحل ۔اپنے اپنے گھروں کو صاف رکھیں اور اور اس ڈس انفارمیشن جیسے گند سے محفوظ رہیں -

 پاکستان مسلم دنیا میں واحد ملک ہے جو اپنی فوج اور نیوکلیئر پاور ہونے کی حیثیت سے مسلم ورلڈ کا لیڈر ہے۔ دیگر مسلم ممالک کی افواج کیلئے پاکستان ایک رول ماڈل ہے اور وہ ہماری فوج سے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ 

 پاکستان کی فوج کے خلاف فساد کرنا یا اس کے سپہ سالار کو متنازع بنانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جو  کہ مسلم امہ کا علمبردار ہے اس کو کٹ ٹو سائز کیا جائے، اس کی فوج کو کٹ ٹو سائز کیا جائے، عوام کے دل سے فوج کی عزت نکالی جائے۔ ایک تیر سے دو شکار کئے جائیں، ایک طرف واحد مسلم سپر پاور کو کمزور کردیا جائے اور دوسری جانب مسلم امہ کو کمزور کیا جائے اور پاکستان کو یوکرین بنا دیا جائے۔ 

 اس وقت بیرونی طاقتیں عمران خان کے ذریعے اپنا ایجیڈا پیش کر وارہی ہیں اور اپنا ایجنڈا چھپانے کیلئے اپنی ہی بیشنگ کروارہی ہیں ۔ ایک نہایت منظم طریقے سے مسلم ورلڈ کو کمزور کیا جارہا ہے۔  بھولے بھالے عوام دشمن کے بنیانئے کا شکار ہو رہے ہیں۔

گومتی ہوئی گولیوں کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے ہمت درکار ہوتی ہے، لیکن اپنے بیٹے کو یہ کام کرنے کے لئے بھیجنے کے لئے اور بھی زیادہ ہمت  درکار ہوتی ہے۔ ایک بارودی سرنگ کے ذریعے حملے کا سامنا کرنے کے لئے ہمت درکار ہوتی ہے، لیکن اپنے بھائی کو اس طرح کے میدان میں جاتے ہوئے دیکھنے کے لئے اور بھی زیادہ ہمت درکار ہوتی ہے۔بارودی کھائیوں میں مضبوطی سے کھڑے ہونے کے لئے ہمت بھی درکار ہوتی ہے، لیکن بیوی کو گھر پر واپس بیٹھنے اور یہ دیکھنے کے لئے انتظار کرنے کے لئے فولاد کے اعصاب درکار ہوتے ہیں کہ آیا اس کا شوہر اپنے پیروں پر واپس آتا ہے یا سبز پرچم میں لپٹا ہوا ہے۔ اپنی زندگی کے بارے میں سوچے بغیر دشمن پر حملہ کرنے کے لئے ہمت درکار ہے، لیکن ایسے باپ کا بیٹا بننے کے لئے حتمی ہمت درکار ہوتی ہے۔ایک باپ کے لئے ڈیوٹی کی لائن میں رہنا مشکل ہے جب اس کی بیٹی کی شادی کے لئے گھر واپسی ضروری ہو جاتی ہے، لیکن بیٹی کے لئے یہ ایک حقیقی امتحان ہے کہ وہ اپنے والد کو دیکھے بغیر اپنا گھر چھوڑ دے۔.۔

ہمیں سیاست کو بھلا کر اس مرتبہ ملک کا سوچنا ہو گا اور لوگوں کے سیاسی مفاد اور اس بیرونی سازش جو اداروں کے، عدلیہ کے اور افواج پاکستان کے خلاف ہے،  اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔

یاد رکھو کبھی ان محافظوں کے خلاف نا بولو۔۔ یہ محافظ ہیں تو پاکستان ہے۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔۔ پاکستان ہی ہماری شناخت ہے۔ ہماری پہچان ہے .پاکستان کے محافظوں کی فیملیز کو سلام، پاکستان کے  غازیوں اور شہیدوں کو سلام

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -