گورا گلا بی رنگ ، چینی اور پاکستانی ملے جلے نقوش۔۔۔۔۔ہنزہ کے لوگ خوبصورت ہوتے ہیں

گورا گلا بی رنگ ، چینی اور پاکستانی ملے جلے نقوش۔۔۔۔۔ہنزہ کے لوگ خوبصورت ...
گورا گلا بی رنگ ، چینی اور پاکستانی ملے جلے نقوش۔۔۔۔۔ہنزہ کے لوگ خوبصورت ہوتے ہیں

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :71

 کر شمہ دامنِ دل می کشد:

ذرا فا صلے پر ایک دروازہ کھلنے کی ہلکی سی چر چرا ہٹ سنائی دی ، شاید لڑکے پانی لے آئے تھے، لیکن ہنزہ کا جو رنگ اچا نک سامنے آ یا اس کے لیے میں بالکل تیار نہیں تھا۔ میں نے ہنزہ کے لو گوں کی خوب صورتی کا تذکرہ سنا، پڑھا تھا۔ اتنے برسوں میں یہاں با رہا آ کر لوگوں کو قریب سے دیکھا بھی تھا۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ ہنزہ کے اکثر لوگ خوب صورت ہوتے ہیں۔ گورا گلا بی رنگ اور ان کے چینی اور پاکستانی ملے جلے نقوش انہیں دو نو ں قو موں سے زیادہ خوش نما بنا تے ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود حسن کی ایک حد بھی ہو تی اور آدمی کے اندر حسن کی ایک سہار بھی ہو تی ہے۔ پانی لانے والے دو لڑکوں کے ساتھ جو ہنزائی لڑکی باہر آئی اس کے برا مدے میں قدم رکھتے ہی روشنی کا جھما کا ساہوا۔ زمین اپنے محور پر گھومتے گھومتے ایک طرف کو تھوڑا سا جھول گئی۔ مےں جس ستون سے ٹیک لگا ئے بیٹھا تھا اس کا توازن بدلنے سے میں ایک طرف ہلکا سا گرتے گرتے بچا۔ میں فوراً کھڑا ہو نا چاہتا تھا لیکن شاید زمین کی کشش ِ ثقل کم ہو گئی تھی اورمیرے پاو¿ں زمین نہیں پکڑ رہے تھے۔ وہ سیدھی ہماری طرف آئی۔ اس نے فیروزی رنگ کے کپڑے پہنے ہو ئے تھے جو اس کے گلا بی رنگ پر بہت کھِل رہے تھے۔ اک نگارِ آتشیں رخ ، سُلفے دی لاٹ۔ وہ یو نانی مجسموں کی طرح مکمل تھی، نہ کچھ زیادہ، نہ ذرا کم۔۔۔ ماشہ کم نا تولہ زیادہ۔ میرے ذہن میں اردو، پنجابی، انگریزی شاعری کے سرا پا نگا ری سے متعلق مصرعے بہ یک وقت آتش بازی کے گو لوں کی طرح ٹھاہ ٹھاہ چلنے لگے۔

 علی آ باد والے حسن کے رنگ مستعار اور مستعجل تھے۔یہاں ہررنگ فطری اور دیر پا تھا۔ اس نے آ کر بہت شائستگی کے ساتھ سب سے ہاتھ ملا یا۔ سٹیل کے صاف گلاس میں ہمیں پا نی پلا یا گیا اور ہماری بو تلیں بھی بھر دی گئیں۔ اتنے میں گلابی سوٹ والی بڑی لڑ کی بھی آ گئی اس کے ہاتھ میں ایک مو می لفا فہ تھا جس میں دو اڑھا ئی کلو سوکھی خو با نیاں تھیں۔ میرے اصرار کے باوجود انہوں نے ان کے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ ہم وہیں کھڑے کچھ دیر ان سے باتیں کر تے رہے۔ وہ دونوں ابھی زیر ِ تعلیم تھیں۔ لڑکے کھیل چھو ڑ کر روایتی چھوٹے بھا ئیوں کی طرح کچھ فا صلے پر کھڑے ہماری باتیں سنتے تھے۔

چکنی ڈلی۔۔۔ قاروت:

 فیروزی سوٹ والی میزبان نے مجھے ایک سفید رنگ کی ڈلی بھی دی جسے مقا می زبان میں ”قاروت“ کہتے ہیں۔ اس کا رنگ بہت کڑھے ہو ئے دودھ جیسا تھا۔ میں نے اسے دانتوں سے تھوڑا سا توڑکر چکھا۔اس کا ذائقہ بہت کھٹا اور بُو بھی ذرا عجیب تھی۔ بتا یا گیا کہ قاروت لسّی کو سکھا کر بناتے ہیںاور سردیوں میں خوراک اور جسمانی توانائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے یہ سو غات تھو ڑی سی چکھ کر اپنے تھیلے میں ڈال لی۔رخصت ہو تے ہو ئے ہم نے ہنزہ کا روایتی مصا فحہ کیا۔ یعنی ہر دو فریقین نے دوران ِ مصا فحہ ایک دوسرے کی ہاتھ کی پشت کو بہ یک وقت چوما۔

 بلال اور ندیم ہنزائی مصا فحے کے بعد بہت مسرور تھے۔ میرے لیے قاروت کی ڈلی مرزا غا لب کو صا حب قراں سے ملنے والی”چکنی ڈلی“ کے برابر تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ پُر اثر۔ کیوں کہ اُسے تو کھائے سے مرزا نوشہ کو خمار ہوتا تھا جب کہ مجھے اِسے تھیلے میں رکھے رکھے نشہ ہو رہا تھا بل کہ گردونواح میں پھیلتے ہوئے میرے ساتھیوں کوبھی چڑھ رہاتھا۔ موسم کچھ زیادہ ہی خوش گوار ہو گیا تھا۔ کھلی دھوپ میں نیلا آسمان اتنا شفّاف تھا کہ اس پر آ نکھ نہیں ٹھہرتی تھی۔ پہاڑروشنی میں بہت صاف اور قریب دکھائی دیتے تھے۔ہم اپنے اپنے نشے میں گم بتورا اِن کی طرف چلنے لگے۔ ہمارے دوسرے ساتھی ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ بلال کے دوست کا کزن محبوب ایک خالی جیپ میں ہمیں ہاتھ ہلاتا گزرالیکن ظالم نے لفٹ کا پو چھا تک نہیں لیکن ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ سامنے پا پلر کے دو رویہ پیڑوں کے بیچ ایک سیدھی سڑک تھی جو پھسو کونز والے پہاڑوں تک جاتی محسوس ہو تی تھی۔ اس وقت ہم ذہنی اور جذباتی طور پر جس مقام پر تھے وہاں ہم پیدل دنیا کے پرلے کنارے تک بھی جا سکتے تھے۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -