مستقبل کی انفنٹری                 (1)

مستقبل کی انفنٹری                 (1)
مستقبل کی انفنٹری                 (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 گزشتہ دنوں ”دی نیویارک ٹائمز“ کے بین الاقوامی ایڈیشن میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا عنوان ”روس اور یوکرین کی جنگ“ تھا۔ اس کے لکھنے والوں میں چار صحافی شامل تھے جن میں دو مرد حضرات تھے اور دو خواتین تھیں۔ پہلی خاتون صحافی کا نام لاراجیکس (Lara Jakes) تھا۔ اس نے 30برس قبل ورجینیا یونیورسٹی سے جرنل ازم میں ڈگری حاصل کی تھی۔ 50سال کی ہو چکی ہیں۔ شادی شدہ ہیں اور ایک بچی کی ماں ہیں۔ شادی ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل سے کی تھی۔ کرنل صاحب بھی امریکن آرمی میں ٹینکوں کے صیغے (Arm)میں سروس کرتے رہے تھے۔ محترمہ لارا اب روم میں مقیم ہیں اور جنگ و جدل کے موضوع پر ان کے آرٹیکل نیویارک ٹائمز میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ عراق، افغانستان، ویت نام اور یورپ کے مختلف ممالک میں صحافیانہ خدمات انجام دے چکی ہیں۔ جو قارئین روس۔ یوکرین جنگ کامطالعہ کرنے کاذوق رکھتے ہیں، ان کو معلوم ہوگا کہ دو سال قبل دنیا میں ”تیسری عالمی جنگ“ شروع ہو چکی تھی۔

اس جنگ میں ایک طرف روس ہے اور دوسری طرف باقی ساری دنیا ہے۔ امریکہ اور مغربی یورپ دل و جان سے یوکرین پر فدا ہیں۔ حال ہی میں صدر امریکہ نے یوکرین کے لئے 61ارب ڈالر کی عسکری امداد کی پہلی قسط ادا کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ جس آرٹیکل کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اس کا پہلا پیراگراف یہ ہے: ”گزشتہ ماہ جب روس نے یوکرین پر دباؤ بڑھایا ہے تو یوکرین نے ٹینک شکن راکٹوں، میزائلوں اور 155ایم ایم آرٹلری کے گولوں کی کھیپ (Shipment) وصول کی ہے۔ یہ صدر بائیڈن کی طرف سے دی جانے والی 61ارب ڈالر کی پہلی قسط تھی…… اس قسم کے ایمونیشن اور ہتھیاروں کی ایک اور قسط 29اپریل کو یوکرین کو موصول ہو چکی ہے جس میں وہ پیٹریاٹ طیارہ شکن میزائل بھی شامل ہیں جو سپین نے بھجوائے ہیں اور وہ 30اپریل کو پولینڈ پہنچ چکے ہیں، یہ کھیپ بہت جلد یوکرین بھجوا دی جائے گی“۔

اس پیراگراف کو پڑھنے والے قاری کے ذہن میں اگر اب بھی کوئی شبہ ہے کہ تیسری عالمی جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تو اس شک کو دور ہو جانا چاہیے۔

دوسری عالمی جنگ چھ سال تک (1939ء تا 1945ء)لڑی گئی۔ اور اس کا خاتمہ جاپان پر ایٹم بموں کے حملے سے ہوا۔ اب ایٹم بم تو استعمال نہیں ہو رہے۔ لیکن ان کے علاوہ وہ تمام اسلحہ جات اور گولہ بارود استعمال ہو رہا ہے جو 1945ء سے لے کر آج تک کے 80برسوں میں ایجاد ہوا ہے یا اس کا جدید ترین ورشن ان آٹھ عشروں میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اَپ گریڈ کیا ہے۔

یوکرین آرمی کے لاکھوں فوجی اس جنگ میں کام آ چکے ہیں۔ ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی کھپت ہوش رُبا ہے۔ سارا اسلحہ اور ایمونیشن امریکہ اور مغربی یورپ(برطانیہ، فرانس، جرمنی) سے آ رہا ہے۔ اس جنگ میں روس کا نقصان بھی کافی ہو چکا ہے۔ اس کے 2900ٹینک ناکارہ بن چکے ہیں۔ اس کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو چکی ہے……خیال کیا جاتا ہے کہ اس جنگ میں جو ایک نیا تجربہ کیا جا رہا ہے وہ کتنا نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ یہ تجربہ یوکرین کے فوجیوں اور ان کو برآمدشدہ اسلحہ و بارود سے لادنے کا تجربہ ہے۔ امریکہ اور باقی ناٹو ممالک یہ تجربہ کررہے ہیں کہ اپنے فوجیوں کو بچانے اور اسلحہ جات کو یوکرین برآمد کرکے یوکرینی فوجیوں کو ”چارۂ جنگ“ بنانے کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کی طرح  یہ ”تیسری عالمی جنگ“ بھی ہم سے بہت دور لڑی جا رہی ہے۔ پاک فوج میں جو اسلحہ جات موجود ہیں یا آئندہ بنائے اور خریدے جائیں گے ان کو یاد کرکے مجھے اپنی ایک ایسی کتاب کے اوراق پلٹنے کا موقع ملا جو 1997ء میں شائع ہوئی تھی اور اس کا عنوان تھا: ”انفنٹری: ملکہء جنگ…… ایک ارتقائی جائزہ“۔

اس کے 300سے زیادہ صفحات ہیں اور اس کا تازہ ایڈیشن میسرز علم و عرفان پبلشرز اردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔ اس میں 19عدد رنگین نقشہ جات ہیں اور ان کے علاوہ 71عدد بلیک اینڈ وائٹ تصاویر ہیں۔ اس کا آخری باب 20صفحات پر مشتمل ہے جس کا عنوان ”مستقبل کی انفنٹری“ ہے۔ یہ سطور اپنی کتاب کی تشہیر کے لئے نہیں لکھی جا رہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اردو زبان کے قارئین کو یہ بتایا جائے کہ ”پاکستانی انفنٹری“ کا صیغہ کہاں کھڑا ہے اور اس کے مستقبل کے امکانات کیا ہیں۔ اس بات کے اولین چند پیراگراف بھی دیکھ لیجئے۔

”مستقبل کی انفنٹری پر بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ انفنٹری کس ملک اور کس خطہء ارض کی ہوگی۔ ماضی میں جب یورپ میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تھی تو یورپی ممالک کی انفنٹری جن ہتھیاروں سے مسلح تھی وہ برصغیر کی انفنٹری کو میسر نہ تھے۔ اسی طرح خلیجی جنگ(1991ء) میں جن جن امریکی فارمیشنوں نے عراق کو کویت سے نکالنے کے لئے جو زمینی حملہ کیا تھا ان کی انفنٹری بہت سے ایشیائی ممالک سے برتر تھی۔ ناٹو اور وارسا کی افواج ماضی قریب تک ایک خاص معیار کی انفنٹری سے مسلح تھیں اور 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں جو ایران۔ عراق جنگ ہوئی تھی اس کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ ایسی جنگ تھی جوبیسویں صدی کے ہتھیاروں سے تو ضرور لڑی گئی لیکن اس جنگ کی تدبیرات (Tactics)اکثر و بیشتر اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی تدبیرات تھیں …… کچھ یہی حال پاک  بھارت انفنٹری کا بھی ہے۔ ان ممالک کی افواج جن ہتھیاروں سے لیس ہیں انہی کے مطابق ان کی تدبیرات بھی وضع کی گئی ہیں۔ ہائی ٹیک ہتھیار، سمارٹ ایمیونیشن، سٹیلتھ ٹیکنالوجی، سٹارواراور سٹیٹ آف دی آرٹ اسلحہ جات وغیرہ ایسی اصطلاحیں ہیں جو جدید ضرور ہیں لیکن ان کو بروئے کار لانے کے وسائل دنیا کے سارے ممالک میں یکساں نہیں ہو سکتے۔ بارود کی ایجاد سے پہلے تو تمام جنگوں کا اسلحہ اور معیار اسلحہ ایک جیسا تھا البتہ تدبیرات مختلف تھیں اور انہی تدبیرات کے طفیل ایک ملک دوسرے پر فتح یاب ہوتا تھا۔ لیکن اب شاید ایسا کبھی نہ ہو سکے۔ دنیا مختلف معاشرتی اور اقتصادی طبقات ہی میں نہیں بلکہ مختلف عسکری طبقات میں بھی بٹ چکی ہے۔ بناء بریں ہم پہلے مستقبل میں برصغیر ہندو پاک میں انفنٹری کے صیغے کے رول پر اجمالی نظر ڈالیں گے اور آخر میں عمومی تناظر میں اس کا ایک مختصر جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔

برصغیر ہندو پاک کے تناظر میں 

جہاں تک برصغیرکی افواج کاتعلق ہے تو پاکستان اور بھارت دونوں جوہری دہلیز کی حد پار کر چکے ہیں۔ بھارت نے تو مئی 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کر دیا تھا۔ اس کا اصرار ہے کہ یہ دھماکہ پرامن مقاصد کے لئے کیا گیا تھالیکن پانی سے بھرے بادلوں کے گرجنے اور برسنے میں وقت کا عنصر آگے پیچھے ہو سکتا ہے لیکن بارش ضرور ہوتی ہے۔ پاکستان نے بھی اپنی سلامتی کے لئے مناسب جوابی اقدامات کئے اور بعض حلقے یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اس صورت حال نے اب تک بھارت کو پاکستان پر جارحانہ پیش قدمی سے روک رکھا ہے وگرنہ اس کا ماضی اس پرانی کہاوت کو ہمیشہ پورا کرتا رہا ہے کہ ”کمزوری جارحیت کو دعوت دیتی ہے“…… مشرقی پاکستان،سری لنکا، مالدیپ، نیپال اور کشمیر اس کی چند مثالیں ہیں۔

ہم مستقبل کی انفنٹری پر بحث کرنے کے لئے اس کی دونوں حیثیتوں یعنی اول روایتی جنگ کی حیثیت پر اور دوم غیر روایتی یا جوہری جنگ کی حیثیت پر ایک مجمل تبصرہ پیش کریں گے۔

روایتی جنگ کی صورت میں 

گزشتہ تینوں پاک بھارت جنگوں میں انفنٹری کا رول دونوں فریقوں میں باقی تمام صیغہ ہائے جنگ کے رول پر حاوی رہا ہے۔ آرمر، آرٹلری اور انجینئرز نے بلاشبہ ایک اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح باقی صیغوں اور خدمات نے بھی تمام جارحانہ اور دفاعی آپریشنوں میں خاطر خواہ نتائج دکھائے تاہم اس امر سے انکار نہیں کہ دونوں ممالک کی افواج چونکہ زیادہ تر مبنی بر انفنٹری (Infantry Intensive) افواج تھیں اس لئے کسی بھی جنگ میں ان کی شرکت اور اہمیت اسی اعتبار سے زیادہ اہم تھیں۔     (باقی آئندہ)

مزید :

رائے -کالم -