ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
 ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

  


حیرت ہے کہ صدر اوباما کی جیت پر پاکستان میں بھی بھنگڑے ڈالے گئے۔اسے معصومیت کی انتہا کہیں یا میڈیامہم کا کرشمہ، مگر ایسا ہوا ہے اور ہم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم اپنے ان نام نہاد دوستوں کی خوشی میں بھی کھلے دل سے شریک ہوتے ہیں، جو ہمیں دکھ دینے اور اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔کسی امریکی صدر کے آنے یا جانے سے ہم پاکستانیوں کو بھلا کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔امریکی صدر تو ایک علامت ہے اس امریکی اسٹیبلشمنٹ کی،جس پر ہمیشہ سے بااثر یہودی لابی کا قبضہ رہا ہے۔کوئی امریکی صدر اپنی خارجہ پالیسی اسے دیئے گئے فریم ورک سے باہر جا کرمرتب نہیں کرسکتا،جو اسٹیبلشمنٹ نے وضع کررکھا ہے۔پاکستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسیاں آج سے نہیں شروع دن سے ایک جیسی رہی ہیں۔پچھلے بیس برسوں میں پانچ بار امریکی صدارتی انتخابات ہوئے اور ان میں بل کلنٹن، بش جونیئر اور اوباما نے عہدہ صدارت سنبھالا، کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس دوران پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں کیا نیاپن آیا یا کوئی بڑی تبدیلی ظاہر ہوئی۔امریکیوں کا یہ مائنڈ سیٹ بن چکا ہے کہ انہوں نے دنیا پر ایک سپرپاور کی حیثیت سے حکمرانی کرنی ہے،جہاں جہاں انہیں اس کے خلاف مزاحمت نظر آتی ہے، وہ اسے اپنا ہدف بنا لیتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے، جو ہمیشہ امریکہ کی ترجیحات میں شامل رہے ہیں، اس لئے نہیں کہ وہ ان ممالک کی بہتری چاہتا ہے،بلکہ اس لئے کہ جغرافیائی لحاظ سے وہ بھی پاکستان کی طرح امریکی تسلط کو قائم رکھنے میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔پچھلے بارہ برسوں سے امریکہ افغانستان پر قابض ہے اور اس کے اس قبضے کا تسلسل پاکستان کی امداد و تعاون کا مرہون منت ہے۔

امریکی صدر اوباما نے فتح کے بعد اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ جنگ جیت چکے ہیں اور اب دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔یہ خوشخبری انہوں نے پہلے بھی ایک سے زائد بار سنائی ہے کہ افغانستان میں ان کا مشن مکمل ہوگیا ہے اور امریکی و نیٹو فورسز وہاں سے نکل جائیں گی ، مگر سب جانتے ہیں کہ یہ طفل تسلیاں ہیں، افغانستان میں آج بھی صورت حال وہی ہے ، جو پہلے دن تھی۔ہاں یہ تبدیلی ضرور آ رہی ہے کہ امریکہ اب انہی طالبان سے مذاکرات کے لئے آمادہ ہوچکا ہے، جن کی بیخ کنی کے لئے اس نے نائن الیون کے بعد سارا ڈرامہ رچایا تھا۔اول مسئلہ یہ نہیں کہ امریکہ کہاں سے نکلنا چاہتا ہے اور کہاں قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔سارا مسئلہ تو اس امریکی سوچ سے جنم لیتا ہے، جس میں دنیا کو امریکی کالونی بنانے کی منصوبہ بندی اصل ترجیح بن چکی ہے۔دنیا کس قدر بدل چکی ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کس قدر اقتصادی و معاشرتی انقلاب برپا ہو چکے ہیں، مگر امریکیوں کا نقطئہ نظر آج بھی اِسی قدیمی سوچ کا حامل ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر دنیا کو امریکہ کا غلام بنایا جائے۔یہ اِسی سوچ کاکیا دھرا ہے کہ دنیا غیر محفوظ ہوکر رہ گئی ہے۔ دہشت گردی کا عنصر آج پوری دنیا کیلئے سوہانِ رُوح بنا ہوا ہے۔اِس کی بنیاد امریکیوں کی یہی جارحانہ اور خود غرضانہ سوچ ہے۔اوباما یادوسرے کسی امریکی صدر کے بس میں نہیں کہ اِس سوچ کو بدل سکے بلکہ ہوتا یہ آیا ہے کہ ہر نیا امریکی صدر پہلے سے زیادہ اِس معاملے کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنالیتا ہے۔

 خود ہماری اپنی حالت بھی امریکیوں کی سوچ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ہمارے65 سال بھی امریکہ کی نوکری کرتے ہی گزر گئے ہیں۔ اِس دوران آمر بھی ملک پر قابض ہوئے اور جمہوری حکومتیں بھی اقتدار کے سنگاسن پر براجمان رہیں،پہلے دن سے ہماری خارجی پالیسی کو امریکہ نوازی کی لَت لگی اُس نے پھر اُس کی جان نہیں چھوڑی۔امریکی ہاتھ کچھ اِس قدر مضبوط ثابت ہوئے کہ اُنہوں نے پاکستان کو اپنے چنگل سے نکلنے ہی نہیں دیا۔ آج بھی ہم امریکیوں کی وضع کردہ دہشت گرد ی کے خلاف جنگ میں شامل ہوکر37 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو لقمہ اجل بنوا چکے ہیں۔اِس جنگ کی وجہ سے بدامنی‘ دہشت گردی اور معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ ہم نے حال بھی غلاموں جیسا بنا لیا ہے۔ایبٹ آباد آپریشن ہماری تاریخ کے بدنما واقات میں سب سے نمایاں کھڑا ہے۔ امریکی ہمارے اقتدار ِاعلی کو کتنی اہمیت دیتے ہیں،اِس کا بھانڈہ اِس آپریشن نے پھوڑ دیا تھا۔ہمارے سیکورٹی پر مامور ادارو ں کی کہانی اپنی جگہ شرمندہ ہونے کے عمل سے دوچار ہے مگر سوال یہ ہے کہ امریکی اگرہمیں اہمیت دیتے اور دوست سمجھتے ہیں تو پھر اُنہوں نے پاکستان کو فن لینڈ کیوں سمجھ رکھا ہے۔

جب امریکی صدارت کے امیدواروں کی ڈبییٹ چل رہی تھیں تو خود پاکستانیوںکو یہ سن کر امریکی امید واروں کی ڈھٹائی کا عملی ثبوت تو مل گیا کہ پاکستان کی پرواہ کئے بغیر ڈرونز حملے جاری رہیں گے۔وہ کام جو امریکہ ایران کے خلا ف کبھی نہیں کرسکتا،پاکستان کے خلاف ایسے کرتا ہے جیسے وڈیرے اپنے مزارعے کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم نے امریکہ کو آخر ایک ظالم وڈیرے کا منصب سونپا ہی کیوں ہے۔ ایک اہم ترین جغرافیائی اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی کی طرف کیوں نہیں لے جاسکے۔ اگر بالفرض امریکیوں کی گود میں گرنا ہی ہمارے مجبوری تھی بھی سہی تو ہم نے اِس کے بدلے میں امریکیوں سے کیا مفاد حاصل کیا۔مجھے یہاں قطر کی مثال یاد آرہی ہے۔صدر آصف علی زرداری ابھی حال ہی میں قطر کا دورہ کرکے پاکستان آئے ہیں،اُنہوں نے دیکھا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ چھوٹا سا مُلک کس قدر ترقی کر گیا ہے اور اُس نے دنیا کی سیاست میں کیا مقام بنالیا ہے۔ قطر وہ مُلک ہے جہاں امریکیوں کا اپنے ملک سے باہر سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔قطر کی بظاہر امریکہ کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں کیونکہ سو ضرب دو سو کلومیٹر رقبے کا حامل یہ ملک امریکہ کے ایک ڈرون کی مار نہیں ،مگردوسری طرف زمینی حقائق یہ ہیں کہ قطر کے حکمرانوں نے امریکہ سے اپنا ہر مطالبہ منوایا ہے۔قطر میں امریکہ کی چار بڑی یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم ہوچکے ہیں۔امریکی سرمایہ کار دھڑا دھڑ اپنا سرمایہ قطر کے منصوبوں پر صرف کررہے ہیں۔ امریکی حمایت سے ہی قطر جیسے چھوٹے سے ملک کو2022ءکا فٹ بال کپ ملا ہے جس کی وجہ سے قطر میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔صنعت وحرفت اور معدنی وتوانائی کے شعبوں میں قطر کی ترقی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قطر کی حکومت نے امریکی اڈے کے لئے صرف زمین دی ہے اور کوئی قربانی نہیں دی۔کوئی ایک قطری بھی اِس سلسلے میں جان کی بازی نہیں ہارا اور نہ ہی بدامنی ودہشت گردی نے اُسے اپنی لپیٹ میں لیا ہے:

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

  ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

غور کا نکتہ یہ نہیں کہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسیاں کب بدلتی ہیں۔اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو کب بدلیں گے۔جب تک ہماری اپنی سوچ اور پالیسی تبدیل نہیں ہوتی، امریکیوں کو پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ پاکستان کو مراعات یا رہائی دینے کا سوچیں۔ پاکستان تواُن کے لئے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے جہاں سے امریکی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالرز کماتی ہیں،اسلحہ ساز ادارے اپنا مال بیچتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکی پاکستان میں اِس قدر آزادی کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں کہ جس کا وہ خود امریکہ میں بھی خواب نہیں دیکھ سکتے۔اِس لئے اوباما آجائے یا اُن کی جگہ کوئی اور آجائے ،کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ہم تو وہ خربوزہ ہیں کہ جو چاہے چھری پر گرے یا اُس پر چھری چلے ،کٹنا ہی اُس کا مقدر ہے۔جب تک اُس مقدر کو تبدیل نہیں کیا جاتا،وائٹ ہاﺅس کی سو چ میں بھی تبدیلی نہیں آسکتی۔اوباما اگلے چاربرس کے لئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ اب باری ہماری ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہم نے اگلے پانچ برسوں کیلئے جو حکمران منتخب کرنے ہیں،کم ازکم اُن میں اتنی جرا¿ت ضرور ہو کہ وہ اوباما کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈونرز حملوں اور ڈو مورکے تقاضے پر حرفِ انکار زبان پر لاسکیں۔کیا ہم اِس کے لئے تیار ہیں؟     ٭

مزید : کالم


loading...