ماضی کو بھولیں، نئی قومی زندگی کا آغاز کریں

ماضی کو بھولیں، نئی قومی زندگی کا آغاز کریں

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس کے تفصیلی فیصلے میں واضح طور پر صدر کے سیاست کرنے یا سیکیورٹی اداروں میں سیاسی سیل بنانے کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان کے لکھے گئے141 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر سربراہ مملکت ہوتا ہے۔ ایوان صدر میں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے لئے سرگرمیاں غیر آئینی ہیں ۔ صدر کے منصب کو سیاست میں ملوث کرنے سے پارلیمانی نظام کمزور ہوا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر اسحق خان ، سابق آرمی چیف جنرل(ر) اسلم بیگ اور سابق ڈی ، جی انٹر سروسز انٹیلی جنس لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسد درانی نے اپنے عہدوں اور اختیارات کا غلط استعمال کیا ۔ عدالت نے اس دور میں سیکیورٹی اداروں سے رقم وصول کرنے والوں سے رقم سود سمیت واپس لینے اور سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی ۔آئی ایس آئی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ افسر ایوان صدر کے غیر قانونی احکامات ماننے کے پابند نہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ افسر غیر قانونی حکم مانیں نہ صدر کو ایک گروپ کی حمایت زیب د یتی ہے ۔ الیکشن مقررہ وقت پر بلا خوف و خطر ہونے چاہئیں۔

آئین پاکستان میںمملکت کے معاملات چلانے ، بنیادی انسانی حقوق اور ملکی اداروں کے دائرہ کار کے حتمی اصول موجودہیں۔ پاکستان میں رہنے والے تمام افراد تمام گروہوں اور تمام اداروں کو لازمی طور پر ملکی آئین کی پابندی کرناہوگی۔ کوئی بھی شخص آئین سے بالا تر ہو کرکسی بھی حیثیت میں کام نہیں کرسکتا۔ آئین کی مخالفت پاکستانی قوم کے متفقہ لائحہ عمل سے انحراف اور مملکت پاکستان سے غداری کے مترادف ہے، جو اصول اور قانون آئین پاکستان میں طے ہیں ان کی پابندی اس وقت تک ہم سب پر لازم ہے جب تک کہ پارلیمنٹ میں موجود جماعتیں مطلوبہ اکثریت سے اس میں تبدیلی نہیں کرلیتیں۔ آئین پر عمل درآمد کرانا اور اس کی مختلف شقوں کے متعلق تنازعہ کی صورت میں وضاحت اور فیصلہ کرنا سپریم کورٹ آف پاکستان کا اختیار ہے اور اس سلسلے میں آخری فیصلہ صرف سپریم کورٹ ہی کا ہے۔باقی سب اداروں کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرنا ہوتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متعلق مباحث یا اختلاف میں الجھنا حکومتی اداروں کا کام نہیں۔    

جو لوگ آئے دن پارلیمنٹ کے سپریم ہونے کی رٹ لگائے رکھتے ہیں اس سے ان کا مقصد اپنی کوتاہیوں اور غیر آئینی حرکات سے توجہ ہٹا کر معاملات کو الجھانے کے سوا کچھ نہیں۔ وہ خود جانتے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کی حد تک آئین میں کوئی ایسی ترمیم کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں، جس سے قوم متفق نہیں اور جس کی اپوزیشن بھی انہیں کبھی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس طرح تمام عہدوں اور مناصب پر بیٹھے ہوئے لوگ آئین کے ذریعے عوام کے خادم ہیں۔ کسی کے ذہن میں تکبر اور نخوت کو جگہ نہیں بنانی چاہئے ۔ کسی عہدے پر موجود کوئی بھی شخص اتنا ہی محترم اور لائق احترام ہے جتنا کہ اس نے آئین کے تقاضوں اور قومی امنگوں کے مطابق قوم کی خدمت کی اور اپنی منصبی ذمہ داریوں کو خلوص اور دیانت کے ساتھ اہلیت اور مستعدی کے ساتھ پورا کیا۔ قوم کے لئے اپنے تمام ادارے محترم ہیں اور اعلیٰ مناصب پر پہنچنے والے سب لوگوں سے ملک و قوم سے وفاداری کی توقع کی جاتی ہے۔ ملک اور قوم سے وفاداری کا سب سے اہم پیمانہ کسی کے آئین کا وفادار رہنے کا پیمانہ ہے۔ آئین کے خلاف کام کرتے ہوئے اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کو سپریم مان لیا جائے یا اس کے اختیارات اور شر سے لوگ ڈریں تو روشن ضمیری کے زمانے میں اسے اس کی بھول ہی کہا جائے گا۔ آئین اور قانون کی بالا دستی ہی پر سب متفق ہیں۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ نہ کسی سیکیورٹی ایجنسی کو سیاست میں کردار ادا کرنے کی اجازت ہے نہ ایوان صدر کا سیاست میں حصہ لینا آئینی ہے۔ صدر محترم اور ان کے ساتھیوںسے بھی اب یہی توقع ہے کہ اس فیصلے کے بعدسپریم کورٹ سے الجھنے کے بجائے صدر اپنا پارٹی عہدہ چھوڑ دیں اور آئین پاکستان کے تقاضے پورے کریں ۔ سربراہ مملکت کا مقام یقینا کسی پارٹی عہدے سے زیادہ محترم اور پوری قوم کی طرف سے عزت ملنے والا مقام ہے۔ ایک پارٹی کے بجائے صدر کو پوری قوم کی عزت اور پسندیدگی حاصل کرنی چاہئے۔ اگریہ منصب سب کے لئے قابل قبول ہونے والا منصب ہے تو پھر موجودہ صدر کو پوری قوم کا صدر بننے میں ہچکچاہٹ کیوں؟ سب کی طرف سے یہ کہا گیا کہ ماضی میں سب سے غلطیاں ہوئیں۔ اس لئے سب کو ماضی سے پیچھا چھڑاکر نئے حالات میں تعمیر وطن کے لئے نئی سوچ اور اخلاص کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ پوری قوم کی نگاہیں اداروں اور بڑے منصب داروں کی ہر چال پر ہیں اور اب آئین کے سوا کسی کے لئے کوئی دوسرا راستہ عزت اور وقار کا راستہ نہیں ہے۔

افواج پاکستان بھی آئین پاکستان کے ماتحت رہ کر ہی پاکستان کی خدمت اور وطن کی حفاظت کے فرائض بہتر انداز میں سرانجام دے سکتی ہیں۔ سیاست کے معاملے سیاست دانوں نے نمٹانے ہیں اور قانون و آئین کے معاملے عدالتوں میں طے ہونے ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینا سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور اپنے نمائندے منتخب کرنا اور منتخب لوگوں سے اپنے وعدے پورے کرنے اور آئین و قانون کی پابندی کرنے کی توقع کرنا عوام کا حق، جو کوئی بھی عوام کے اس حق سے انحراف کرے گا وہ باوقار نہیں تاریخ میں بے وقار ہوگا۔ عوام کے حقوق کے لئے جدو جہد کرنے اور اس میں اخلاص برتنے اور مصائب برداشت کرنے والوں ہی کو تاریخ نے اچھے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ قومی خدمت کے بجائے ذاتی اور گروہی مفاد کے لئے ضد پکڑنے والوں کا آخر بُرا انجام ہوا ہے۔

آئینی اور قانونی معاملے جو ایک بار سپریم کورٹ میں طے ہوگئے وہی آئندہ کے لئے سب کے پیش نظر رہنے چاہئیں۔ آئندہ انتخابات سر پر ہیں۔ اس کی تیاری کرنی چاہئے، اس کی راہ میں کسی طرح کی رکاوٹ کسی کے لئے قابل قبول نہیں۔ یہی قوم کا اپنے لئے منتخب کردہ راستہ ہے اور اسی جمہوری راستے ہی سے عام آدمی کو اپنے حقوق کی دستیابی اور انصاف کے حصول کی امیدیں ہیں۔ ان راستوں پر غیر یقینی کی دھند نہیں چھانی چاہئے۔ انتخابات صاف شفاف اور آزادانہ فضا میں ہونے چاہئیں ان کے التواءکے لئے یا ان میں کامیابی کے لئے کسی طرح کی ڈرامے بازیوں سے کام نہیں لیا جانا چاہئے، جس طرح ایک آزاد الیکشن کمیشن نیک نیتی سے منصفانہ انتخابات کرانے کے لئے مستعدی سے کام کر رہا ہے ایسی ہی نیک نیتی سے تمام سیاسی جماعتوں کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کا عزم کرنا چاہئے ۔ یاد رکھا جائے کہ جماعتی سطح پر اپنے مفاد کے لئے دھوکے اور فراڈ پر مبنی اقدامات کے فیصلے دراصل پوری قوم کو نقصان پہنچانے اور قومی مفادات سے غداری کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ اگر لیڈر ، کارکن اور دوسرے تمام لوگ قانون اور آئین ہی کے مطابق ہر کام کرنے کا عزم کرلیں تو پھر قوم کے مصائب کے دن ختم ہونے کی منزل بہت دُور نہیں ہے۔ ایک شخص کا خلوص اور آئین پرستی قوم کو اصلاح اور فلاح کی طرف بہت آگے لے جاسکتی ہے۔

اب ہمیں نئے دور کے نئے تقاضوں کے مطابق سوچنا ہو گا۔ آئین او ر قانون کی بالادستی کا زمانہ آگیا ۔ اب قتل و غارت اور ناانصافیاں ختم کرنے کے ذمہ دار اداروں کو اپنی اپنی جگہ اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ قوم کی مشکلات کے دن تھوڑے ہیں ۔ قوم اپنے دکھوں کے دور میں اپنے مصائب کے ذمہ داروں کے چہرے پہنچاننے میں مصروف رہی ہے۔ اب اپنی طاقت بڑھی ہوئی محسوس کرتے ہوئے عام آدمی بھی یقینا پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ عوامی حقوق اور عدل و نصاف کے لئے میدان میں اترے گا جس کے بعد آئین اور قانون کا منہ چڑانے والے منہ زور انسانوں کو بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔     ٭

مزید : اداریہ


loading...