میں قائد اعظمؒ اورعلامہ اقبالؒ بھی میرا ہی نام ہے مگر۔۔۔

میں قائد اعظمؒ اورعلامہ اقبالؒ بھی میرا ہی نام ہے مگر۔۔۔
میں قائد اعظمؒ اورعلامہ اقبالؒ بھی میرا ہی نام ہے مگر۔۔۔

  


گلوبل پِنڈ( محمد نواز طاہر)بچے سارے ہی لاڈلے اور پیارے ہوتے ہیں ۔ البتہ کچھ ذرا خصوصی توجہ ملنے پر خصوصی لاڈلے بن جاتے ہیں جو کسی اور کو اپنے سے بہتر ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ انہیں ضدی بھی کہا جاتاہے ۔ یہ حاسد بھی ہوتے ہیں اور ہٹ دھرم بھی ۔ یہی مسئلہ مجھ سے میری اگلی نسل میں منتقل ہوگیا ہے ۔ ایک بیٹا قائد اعظمؒ تو دوسرا علامہ اقبالؒ سے آگے نکلنا چاہتا ہے ۔بہت کوشش کی کہ وہ مان جائیں لیکن بچے تو بچے ہوتے ہیں ۔ یہی کوشش میرے بزرگوں نے بھی کی تھی جب مجھے اپنے آئیڈیل قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی شخصیت،قیادت اور مقبولیت سے حسد پیدا ہوا تھا جسکی ابتداءاوائل عمری میں ہی ہوگئی تھی ۔اس عمر میںمجھے کسی چیز کی کمی نہیں تھی ۔ مسجد سکول ، استاد ، جذبہ ،سب کچھ تھا ۔ میں نے اس عمرمیں موازنہ کیا تو انسانی اعضاءاتنے ہی تھے جتنے قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے نظر آتے تھے ۔کئی بار ان کی نقل کی اور تقریریں کیں اور مار کھائی اس توہین اور پٹائی نے ڈھیٹ بنا دیا ۔جس جس نے طنز کیا اس سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر بدلے لینے لگا ۔ مخالفین کی زیادہ تعداد تعلیم و تربیت سے باغیوں اور چرواہوں کی تھی ۔ میں نے بھی ان کا مقابلہ ان کی ’سطح‘ پر آکر کیا ،ان میں سے کئی چرواہے ابھی بھی یاد کرتے ہیں ۔بعد کی عمر والے کچھ محنت مشقت کرتے ہوئے یاد کرتے ہیں بعض ایسے ہیں جو دوسروں کو یہ لطیفہ سناتے ہیں لیکن کوشش کرتے ہیں کہ مجھ سے سامنا ہونے پر بات چیت نہ ہو کیونکہ اس سے ان کی شان میں فرق پڑتا ہے ۔ ان میں سے ایک فوج ، میں اعلیٰ افسر ہے دوسرا وزیر بنا اور پھر بیرون ملک آباد ہوگیا ، کچھ سول بیوروکریسی میں چلے گئے ، بعض بیرون ملک ہیں ۔ کچھ وکالت کرتے ہیں او ایک تو ’ججی‘ کو بھی ہاتھ لگا چکا ہے ۔یہ سب وہ ہیں جو علامہ اقبالؒ اور قائدِ اعظمؒ نہیں بننا چاہتے تھے البتہ میری طرح ان کے آئیڈیل یہی دو عالمی ہیرو تھے ،فرق صرف یہ تھا کہ وہ سوچ ،عمل، ماحول اور وسائل کے اعتبار سے مجھ سے بہتر تھے اوران میں مجھ جیسی ہٹ دھرمی بھی نہیں تھی ۔انہوں نے میری طرح اقبالؒ کا شوقِ ’آوارگی ‘ بھی نہیں پالا تھا ۔ آوارگی کے شوق میں بھی بڑا معمولی سا فرق تھا ۔اقبالؒ کی آوارگی پر تعزیر نہیں لگتی تھی اور میرے ساتھ جو جو اقبال اور قائد اعظم بننا چاہتے تھے ان کی آوارگی قابلِ تعزیر بھی تھی بلکہ دوچار اقبال تو ’اقبال ‘ بن کرکلاس میں لیٹ آنے پر اذان دینے والے کے بجائے صرف’ باں باں‘ کرنے والے مرغے بھی بن چکے تھے ۔ ایک کو تو پولیس نے انتہائی معمولی تعزیر کی بنا پر شبے میں ہی حراست میں لیکر پولیس مقابلے میں بھی ماردیا ۔

ایک دوست ایسا بھی ہے جو صرف کیمرے کے سامنے ہی ’اقبال‘بن سکا ۔ان سب میں سے ایک دوست بہت یاد آتا ہے۔ ہم سب میں ممتاز تھا اتفاق سے اس کا نام بھی محمد علی اقبال تھا ۔ انتہائی حساس، محنتی ،ذہین لیکن غربت کے باعث’ عالمی مجرم ‘تھا ۔اس نے نہ تو کبھی لباس کومسئلہ بننے دیا نہ خوراک کو بلکہ وہ تو پیٹ کو بھی پیوند لگانے کا عادی تھاکئی بار کچھ دوستوں نے اس کی مالی اعانت کی بھی کوشش کی لیکن خودداری میں وہ اقبالؒ سے آج بھی ایک قدم آگے نظر آتا ہے ۔بد قسمتی سے وہ صبر اور حوصلے کو پیوند نہ لگا سکا اور ایک دن اس نے حیات کے تمام مسائل کو موت کا پیوند لگا کر بے بس محمد علی اقبال مٹی کے حوالے کردیا ۔اس کا مقبرہ آج بھی میرے دل میں جناحؒ اور اقبالؒ کے مزار کی طرح آبادہے ۔

 مفکرِ پاکستان اور بانی پاکستان کی ولادت اور وفات کے دن مناتے وقت مجھے محمد علی اقبال ضرور یاد آتا ہے ۔ میرے بیٹے بھی کمسنی میں جب قائد اعظمؒ اور اقبال ؒبننے کی بات کرتے ہیں تو مجھے محمد علی اقبال مزید شدت سے یاد آتا ہے ۔ میں دیکھتا ہوں

 کہ اب نہ تو دیے کی روشنی میں پڑھا جاسکتا ہے نہ پیوند لگے کپڑوں کے ساتھ قبول کرنے والے تعلیمی ادارے ہیں اور نہ ہی ایسے استاد نظر آتے ہیں جو شاگرد میں اپنا مستقبل اور کامیابی کا چراغ دیکھا کرتے تھے ۔تعلیمی اداروں کا ماحول اور رواج بھی بدل گئے ہیں جہاں سے سستی تعلیم کے ذرائع تختی اور سلیٹ ختم ہو چکی ہیں جو بار بار دھوئی جاسکتی تھی لیکن پہنچ سے باہر ہوتی سٹیشنری بار بار نہیں دھوئی جاسکتی ۔

 پیدائش کے وقت اپنے بیٹوں کے نام خوب محمد اور مداح محمد ایک خاص سوچ انسیت اور نسبت سے رکھے تو جو کئی عاقبت نااندیشوں کو بہت برے لگے مگر میں ان میں وہ تمام خوبیاں دیکھتا ہوں جو نام ِ محمدﷺ کی نسبت سے ہیں ۔ میںخائف ہوں تو بس اس خیال سے کہ سماجی ناانصافی کا جھنڈا بلند کرتے اس معاشرے میں وسائل صرف مخصوص لوگوں تک محدود و موقوف ہیں ، عام لوگ تو بس خیال کر سکتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ’ محمد علی اقبال ‘ بن سکتے ہیں۔ اسی خوف کی وجہ سے اپنے بچوں سے کہتا ہوں کہ میری طرح جنوںِعشق اور حسد کا شکار نہ ہونا بس قائداعظمؒ اور اقبالؒ کو اپنا آئیڈیل بنائے رکھنا ، انہیں مشعلِ راہ بنا کر وہ منزل دیکھ اور شائد پا بھی سکتے ہیں لیکن قائداعظمؒ اور اقبالؒ نہیں بن سکتے ۔ان جیسا بننے کیلئے ضد اور حسد نہ کریں۔ اگر موجودہ حالات اور وسائل میں وہ قائدؒ اور اقبالؒ کا راستہ ہی ثابت قدمی سے اختیار کر لیں تو میں انہیں قائدؒ اور اقبالؒ ہی سمجھوں گا ۔۔۔محمد علی جناحؒ بھی ایک ہی پیدا ہوئے تھے اور اقبالؒ بھی ۔ ۔۔۔ان کے نقش ِ درحقیقت نشانِ منزل ہیں۔۔۔ میں اپنے بچوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہاہوں کہ جس قائدؒ اور اقبالؒ کے دورِ پیدائش و پرورش میں مسلمانوں اور پسے ہوئے انسانوں کو جو مسائل درپیش تھے اور کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ ایسی فکری اور عملی قیادت میسر آئے گی ، آج پھر ویسے ہی حالات ہیں ۔اگرچہ بہت تاریکی ہے مگر اِس کا سفر اجالے کی طرف ہے ۔ اس لئے مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ۔بس نقش نہیں چھوڑنا اور ثابت قدم رہنا ہے ۔۔۔

مزید : بلاگ


loading...