ملک کی چاراسمبلی 58ٹوبی کی نذرکردی گئیں ، سسٹم آئین اور قانون کے مطابق چلناچاہیے : چیف جسٹس آف پاکستان

ملک کی چاراسمبلی 58ٹوبی کی نذرکردی گئیں ، سسٹم آئین اور قانون کے مطابق ...
ملک کی چاراسمبلی 58ٹوبی کی نذرکردی گئیں ، سسٹم آئین اور قانون کے مطابق چلناچاہیے : چیف جسٹس آف پاکستان

  


ایبٹ آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاہے کہ ملک کی چار اسمبلی 58ٹوبی کی نذر کردی گئیں ، سسٹم آئین اور قانون کے مطابق چلنا چاہیے،قوم انصاف کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دے سکتے ہے۔وکلاءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ آئین کا احترام کرنا ہر کسی پر لازم ہے، منظم قومیں دستور کی پاسداری کرتی ہیں، ملک کا دارو مدار دستور اور اس کی عزت پر ہوتا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ موجودہ پارلیمنٹ کو سلام کرتا ہوں جس نے آمر کے اقدامات کی توثیق نہیں کی۔اُن کاکہناتھاکہ پاکستان اب تہذیب یافتہ ملک بن چکا ہے،اٹھارہویں ترمیم نے ڈکٹیٹرشپ کے تمام اقدامات کو منسوخ کردیا اور آج کی پارلیمنٹ و عدلیہ دستور کی پابند ہے، کل کی عدلیہ اور آج کی عدلیہ میں بہت فرق ہے، آئین کے علاوہ ہمارا کسی چیز پر یقین نہیں،جب آرٹیکل پانچ پڑھ لیا جاتا ہے تو اس پر عمل لازمی ہوجاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ3 نومبر 2007 ءکو عدلیہ پر شب خون مارا گیا تو پہلی بار کالے کوٹ نے 9 ماہ جدو جہد کی، کالے کوٹ نے انصاف کی بالادستی کیلئے کام کیا اور جدو جہد سے حقوق حاصل کیے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں کیا کچھ نہیں ہوتا؟تہلکہ کیس سامنے آنے کے بعد بھی حکومت ختم نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ خوش آئند ہے کہ پارلیمنٹ جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے کرنے جارہی ہے۔

مزید : ایبٹ آباد


loading...