ملالہ نے ہمیں حوصلہ دیا، حملہ آور کے سوال پر ہم نے مذاق سمجھا، مریضہ کی ملک واپسی کیلئے بے تاب ہوں : کائنات

ملالہ نے ہمیں حوصلہ دیا، حملہ آور کے سوال پر ہم نے مذاق سمجھا، مریضہ کی ملک ...
ملالہ نے ہمیں حوصلہ دیا، حملہ آور کے سوال پر ہم نے مذاق سمجھا، مریضہ کی ملک واپسی کیلئے بے تاب ہوں : کائنات

  


سوات(مانیٹرنگ ڈیسک) ملالہ یوسفزئی کے ساتھ زخمی ہونیوالی کائنات نے کہاہے کہ ملالہ نے اُنہیں حوصلہ دیا اور اُس کی واپسی پر اکٹھے سکول جانے کیلئے بے تاب ہوں ۔کائنات نے بتایاکہ مشکوک شخص کے گاڑی میں گھس کر ملالہ کے بارے پوچھنے پر پہلے تو ہمیں مذاق لگا لیکن اب وہ لمحہ یادآنے کے بعد روتی رہتی ہوں اور نانی کے گھر بھی نہیں جاسکتی ،ہر وقت اُسی لمحے بارے باتیں ہوتی ہیں۔ اُس نے بتایاکہ خوف کے باوجود ملالہ نے لکھناجاری رکھا۔ برطانوی میڈیا سے گفتگو میں کائنات نے بتایاکہ جب حملہ آور گاڑی میں داخل ہوا اور پوچھنے لگا کہ ملالہ کہاں ہے ؟ کون ہے؟ ہم نے سوچاکہ یہ کوئی مذاق ہے کیونکہ ملالہ کو کوئی بھی با آسانی پہچان سکتا تھا، ملالہ چہرہ ڈھانپ کر نہیں رکھتی تھی۔جیسے ہی ملالہ نے کہا کہ میں ملالہ ہوں تو اس شخص نے ا±سے گولی مار دی۔ وہ شخص ملالہ کے گرنے کے بعد بھی وہاں کھڑا رہا اور میرے ہاتھ پر گولی مار دی، سب کچھ بہت تیزی سے ہوا۔ڈرائیور کو احساس ہوگیا تھا کہ کیا ہوا ہے اس لیے وہ رکا نہیں۔کائنات نے بتایاکہ وہ بے ہوش ہونے سے پہلے اپنے والد کو دیکھنا چاہتی تھی، اس کے بعد کچھ یاد نہیں۔رپورٹ میں ملالہ کی سہیلی نے بتایاکہ اُن کی نانی اور دادی دونوں کہتی ہیں کہ ان کے پاس جا کر رہوں، پہلے میں وہاں جانا پسند کرتی تھی لیکن اب میں وہاں نہیں جا سکتی، میں اب تک خوفزدہ ہوں ۔ کائنات کے والد ریاض کا کہنا ہے کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں کائنات کی والدہ اور چچا نے بتایا جس کے بعد وہ سیدھے ہسپتال روانہ ہو گئے۔کائنات کی چادر اور شلوار خون سے لت پت تھی، دماغ میں صرف ایک بات گردش کر رہی تھی کہ کیا یہ بچ پائے گی۔کائنات نے بتایاکہ ہوش میں آنے کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک روتی رہی۔کائنات نے بتایا کہ وہ اس وقت ڈر رہی تھیں کہ حملہ آور ان کے پیچھے ہسپتال نہ آجائے، میں باقاعدہ اپنے گھر کے لیے وہاں سے بھاگی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے آبائی گھر کے باہر محافظوں کی موجودگی کے باوجود وہ خود کو مکمل محفوظ نہیں سمجھتیں۔اُن کاکہناتھاکہ وہ اس واقعہ کے بعد گھر سے نہیں نکلی، ذہن میں کچھ ہے جو مجھے روک رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق کائنات کا کہنا تھا کہ ملالہ نے لڑکیوں کی تعلیم اور دیگر معاملات کے بارے میں جو کچھ لکھا اس کے بارے میں اس نے اپنی سہیلیوں کو بتایا۔کائنات کے بقول ’دلچسپ بات یہ ہے کہ ملالہ خوفزدہ تھی لیکن پھر بھی اس نے لکھنا جاری رکھا،اس چیز نے ہمیں کسی بھی سے خوفزدہ نہ ہونے کا حوصلہ دیا۔ ملالہ کے نام پیغام میں کائنات نے کہاکہ ملالہ تم خوش رہنا، جلد صحت یاب ہو جاو¿۔ میں تمہیں دوبارہ صحت مند دیکھنا چاہتی ہوں ، واپس آو¿ تا کہ ہم ایک ساتھ سکول جا سکیں۔‘کائنات نے کہاکہ حملے میں زخمی ہونے والی دوسری لڑکی سے بھی میری بات ہوئی، ہم جب بھی بات کرتے ہیں ا±سی واقعے کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ہمیں وہ سب یاد ہے لیکن ہمارے والدین کہتے ہیں ا±سے بھول جائیں۔

مزید : سوات


loading...