ایشیاءکے گیارہ ممالک میں چھیاسٹھ اعشاریہ پانچ ارب سگریٹوں کی غیر قانونی خریدوفروخت

ایشیاءکے گیارہ ممالک میں چھیاسٹھ اعشاریہ پانچ ارب سگریٹوں کی غیر قانونی ...

                                                                                                                             لاہور(کامرس رپورٹر)آکسفورڈ اکنامکس کی جانب سے سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کے ضمن میں حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2012میں صرف ایشیا ءکے 11ممالک میں 66.5بلین سگریٹوں کی غیر قانونی خرید وفروخت ہوئی ۔ مقامی سطح پر غیر قانونی سگریٹوں کا حجم پاکستان میں بلند ترین دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق ملک میں ڈیوٹی چوری کے تحت فروخت ہونے و الے سگریٹوں کی تعداد 19بلین سگریٹ رہی۔واضح رہے کہ ملک میں سگریٹ کی صنعت میں غیر قانونی تجارت تین مختلف طریقوں سے جاری ہے جن میں سمگلنگ، جعل سازی اور مقامی سطح پر ٹیکس چوری کی حامل برانڈز کا کاروبار شامل ہے۔یہ صورت حال پاکستان پر ہی موقوف نہیں بلکہ سگریٹوں پر ٹیکسوں کی بلند شرح اور با آسانی منتقل ہو جانے والا آئٹم ہونے کی وجہ سے اس کی غیر قانونی نقل و حمل ایک بین الاقومی مسئلے کا رخ اختیار کر چکی ہے۔’ایشیائ۔11الیسٹ ٹوبیکو انڈیکیٹر سٹڈی‘ کے نام سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک کی حکومتوں کے لیے سب سے اہم ہدف سگریٹوں کی غیر قانونی تجارت کے معاملے کو سمجھنا ہونا چاہئے۔اس سٹڈی میں پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، برونائی، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور، تائیوان، تھائی لینڈ اور ویتنام کو شامل کیا گیا اوراس کے نتاتئج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ غیر قانونی تجارت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو یکساں طور پر متاثر کر رہی ہے۔پاکستان میں اس غیر قانونی کاروبار میں 86.3فیصد کا تعلق مقامی اور 13.7فیصد کا تعلق غیر مقامی صنعت سے ہے اور اس سے قومی خزانے کو ایک سال کے عرصے میںمجموعی طور پر 250ملین امریکی ڈالر کے نقصان سے دوچار کیا گیا۔سٹڈی کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی طور پر خریدو فروخت کے حامل سگریٹوں کی شرح 25.4فیصد ہے۔اس غیر قانونی تجارت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے تحت کم عمر افراد جنہیں قانونی طور پر سگریٹ فروخت نہیں کیے جا سکتے کے علاوہ کم آمدنی والے طبقات کو ہدف بنایا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس رجحان کی بڑی وجہ ٹیکسوں کی غیر متواز ن شرح ہے جس کے نتیجے میں غیر قانونی کاروبار کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ڈیوٹی چوری کے حامل سگریٹ زیادہ تر خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں تیار کیے جاتے ہیں جس کی ایک مثال آزاد جموںکشمیر کی وطن ٹوبیکو کمپنی کا تیار کردہ برانڈ ’کرکٹ‘ ہے۔یہ برانڈز وسطی پنجاب کے شہر لودہراں اور اس سے ملحقہ علاقوں میںمقررہ اور درج شدہ قیمت 26 روپے(22.60 روپے جمع ٹیکس3.60 روپے)کے بر عکس سر عام12روپے فی پیکٹ فروخت کی جا رہی ہے۔اس صنعت سے وابسطہ ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ٹیکسوں کی شرح کو متوازن بنانے اور ڈیوٹی چوری اور سمگلنگ کا سلسلہ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ ہونے کی صورت میں آئندہ پانچ برسوں میںسگریٹ کی غیر قانونی تجارت کے باعث ملک کے قومی خزانے کو 100بلین روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مزید : کامرس