2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوںکا ہدف غیر حقیقت پسندہے: ایف بی آر

2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوںکا ہدف غیر حقیقت پسندہے: ایف بی آر

  

اسلام آباد(اے پی اے )فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کو غیر حقیقت پسند قراردیدیا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے خود اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کو دیا جانے والا 2475 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف غیرحقیقت پسندانہ اور غیرمعمولی کوشش کی متقاضی خواہش ہے۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ ایف بی آر ٹیکس وصولیوں کا مذکورہ ہدف حاصل کرنے کیلیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔دستاویز کے مطابق ٹیکس وصولیوں کا مذکورہ ہدف مالی سال 2012-13 کیلیے 2008 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کو بنیاد بنا کر مقرر کیا گیا ہے لیکن گزشتہ مالی سال 2012-13 کے دوران 1939 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ہو سکی ہیں جس کے باعث رواں مالی سال ابتدا میں ہی ایف بی آر کو 68 ارب روپے کی کمی سامنا کرنا پڑا ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر موثر آڈٹ کے علاوہ آٹومیشن کے ذریعے بوگس و جعلی ریفنڈز روک کر اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔دستاویز میں بتایا گیاکہ ایف بی آر کو رواں مالی سال 2013-14 کیلیے براہ راست ٹیکس(انکم ٹیکس)کی مد میں مقرر کردہ 975.7ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے 31.9 فیصد گروتھ درکار ہوگی جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں مقرر کردہ1053.5ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے25.1 فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مقرر کردہ 166.8 ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے 37.7 فیصد جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کے لیے مقرر کردہ279ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے16.7فیصد گروتھ درکار ہوگی۔جبکہ رواں مالی سال کیلیے مقرر کردہ 2475 ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلیے 27.4فیصد گروتھ درکار ہوگی۔

 دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ تمام ٹیکسوں میں انتظامی بہتری لانے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے اور 6 ماہ کے اندر اندر اس حکمت عملی پر موثر طریقے سے عملدرآمد شروع کردیا جائے گا

جبکہ ایس آر او کلچر کے خاتمے اور ایس آر اوز کے ذریعے تمام ٹیکسوں میں دی جانے والی خصوصی چھوٹ بھی ختم کی جارہی ہے اور اس کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

اور توقع ہے کہ دسمبر تک غیر ضروری چھوٹ ختم کردی جائیں گی۔

مزید :

کامرس -