فلسطینی اور شامی پناہ گزینوں کو مساوی حقوق دیے جائیں‘عزام الاحمد

فلسطینی اور شامی پناہ گزینوں کو مساوی حقوق دیے جائیں‘عزام الاحمد

بیروت(آن لائن)فلسطینی تنظیم 'فتح' کی سینٹرل کمیٹی کے سینئر ر±کن اور لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کے امور کے نگران ڈاکٹر عزام الاحمد نے ایک مرتبہ پھر شکوہ کیا ہے کہ عالمی برادری فلسطینی اور شامی پناہ گزینوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ساتھ سوتیلے پن کا سلوک ختم کرتے ہوئے وہ تمام حقوق انہیں بھی فراہم کریں جو شامی مہاجرین کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔فلسطینی رہ نما نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام "پوائنٹ آف آرڈر" میں گفتگو کے دوران کیا۔ عزام الاحمد کا کہنا تھا کہ تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] اور اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے پناہ گزین "اونروا" کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں جن سے تمام فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کی جا سکے۔ سب سے پریشان کن صورت حال شام کے اندر در بدر فلسطینیوں کی ہے۔ دمشق کے نواح میں واقع "یرموک" مہاجر کیمپ کے اندر اور ملک میں پھیلے فلسطینی نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شام میں بشارالاسد رجیم کے خلاف شورش کے آغاز کے بعد اب تک کم سے کم ڈیڑھ لاکھ فلسطینی پناہ گزین شام کے مختلف علاقوں میں منتشر ہو چکے ہیں۔ ساٹھ ہزار فلسطینی، لبنان اور 7000 اردن جبکہ ہزاروں کی تعداد میں آسٹریلیا اور یورپ ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔لبنان میں فلسطینی مہاجرین کوغیرمسلح کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں عزام الاحمد نے واضح الفاظ میں کہا کہ "ہم لبنان کے امن وامان کو کسی صورت میں خراب نہیں ہونے دیں گے۔ اگر بیروت حکومت فلسطینی پناہ گزینوں سے اسلحہ لینا چاہتی ہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس معاملے میں 'فتح' اور دیگر فلسطینی تنظیموں کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے"۔فلسطینی لیڈرکا کہنا تھا کہ"میری دانست میں فلسطینی مہاجرین کے اسلحہ کو مبالغہ آرائی کی حد تک بڑھا چڑھا کرپیش کیا جا رہا ہے حالانکہ لبنان میں فلسطینی گروپوں سے زیادہ دوسری عرب تنظیموں کے پاس غیرمعمولی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے"۔

مزید : عالمی منظر