عوام کو اپنا خیال خود رکھنا ہوگا

عوام کو اپنا خیال خود رکھنا ہوگا

                    ہماری سیاسی جماعتیں عجب معاملات میں الجھ گئی ہیں۔دوسری طرف بیچارے عوام مہنگائی،لوڈشیڈنگ، بیروزگاری، غربت اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔سیاسی رہنماﺅں اور حکومتی عہدیداروں کو عوام کا احساس ہی نہیں ہے۔ہر کوئی اپنے اپنے ذاتی مفاد اور معاملات میں گم ہوگیا ہے اور عوام کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔عوام کا دال دلیا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔جائیں تو جائیں کہاں اور کھائیں تو کھائیں کیا؟ اور تو اور بڑے شہروں میں مر کے دفن ہونا اور قبر کا حصول بھی مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے، کریں تو کریں کیا؟

ایک طرف ڈینگی نے ہماری کمر ”ڈنگی“ کر دی ہے تو دوسری طرف بجلی، گیس ، پانی اور ٹیلی فون کے بلوں نے جیبیں خالی کردی ہیں۔حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو ورغلانے کی کوشش کررہی ہے کہ آئیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، لیکن وہ پلہ نہیں پکڑا رہے ۔ لوڈشیڈنگ کا جن ابھی تک قابو میں نہیں آ سکا۔ اب تو عوام کو سردیوں میں گیس کی کمی کا سامنا کرنے کے لئے بھی قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔حکومت قرضے چکانے کے لئے قرض پر قرض لئے جا رہی ہے اور آئی ایم ایف کے کہنے پر ہر چیز مہنگی سے مہنگی ہو رہی ہے۔

ڈرون حملوں نے امن مذاکرات کو فی الحال روک کر قوم کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ڈرون حملے ہماری سلامتی اور اقتدارِ اعلیٰ پر کاری ضرب لگا رہے ہیں اور ہم خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے ہیں اور بیان دے کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ شائد ان بیانات کے بعد ڈرون حملے رُک جائیں گے، لیکن شائد ہم فی الحال بیان ہی دے سکتے ہیں۔ڈرون حملے اس وقت ہی رکیں گے ،جب امریکہ روکے گا۔ہماری وجہ سے یا نیٹو سپلائی روکنے سے ڈرون حملے بند نہیں ہوں گے۔ہمارے مذہبی رہنما اور دینی جماعتیں حکیم اللہ محسود کو شہید کا رتبہ دلانے میں مصروف ہیں۔بیان پر بیان داغے جا رہے ہیں۔حقیقت میں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ شہید کون ہے اور معصوموں کا قاتل اور بے گناہوں کا خون کرنے والا کون ہے؟

کراچی کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟ امن ہو ہی نہیں رہا ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد کچھ حالات میں بہتری دیکھنے میں آئی تھی، لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ پھر بدامنی میں تبدیل ہو رہی ہے۔اس میں عوام بیچارے ناحق پستے جا رہے ہیں۔بڑے سب اپنے اپنے ایشوز میں مصروف ہیں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔غریبوں کا کسی کو کوئی احساس نہیں ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو اپنے حکمرانوں پر توقعات کو کم کرکے خود اپنے زورِ بازو پر یقین رکھ کر محنت، محنت اور صرف محنت پر یقین رکھنا ہوگا، لیکن آئندہ ووٹ سوچ سمجھ کر دینا ہوگا۔صرف وعدے پورے کرنے والے اور سچ بول کر کچھ کر دکھانے والوں کو ہی منتخب کرنا ہوگا۔

مزید : کالم