صوفی شاعر آغا نوری درانی

صوفی شاعر آغا نوری درانی

  

                               31اکتوبر 1977 نامور عالم دین صوفی شاعر اور عاشق رسول آغانوری درانی کا یوم وفات ہے۔ آپ اپنی عمر کے تریسٹھویں (63 ) سال میں ہی کہ وہ اپنے محبوب رسول کی عمر سے زیادہ نہ جینا چاہیں گے اور نہ ہی جی پائیں گے اﷲ کو پیارے ہو گئے۔

حضرت نوری درانی جا لندھر کے ایک مشہور و معروف علمی ادبی اور دینی گھرانے کے چشم و چراغ تھے فارسی اور فقہ کی کتابیں اپنے والد سے پڑھیں سن بلوغت کو پہنچے تو اپنا آبائی پیشہ تعلیم و تدریس اختیار کیا اور تصنیف و تالیف کاشغل بھی جاری رکھا۔ ماہنامہ ”ایجوکیشنل گزٹ“ جالندھر کے مدیر کی حیثیت سے مسلمانان ہند میں حصول علم کا شعور بیدار کرنے میں اہم کردار اداکیا۔ ملازمت کے سلسلہ میں چند سال دہلی اور شملہ گزارے۔قیام دہلی کے دوران روزنامہ ”خادم“ میں آپ کے لکھے جانے والے مستقل کالم نے کافی داد پائی۔ اپنے چچا زاد بھائی مرتضیٰ احمد خان میکش ایڈیٹر روزنامہ” احسان“و ”شہباز“ کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان کے سلسلہ میں اپنی شاعری اور دیگر قلمی کاوشوں سے مسلمانان ہند میں آزادی کی تڑپ جگاتے رہے۔ آپ کم وبیش درجن بھر کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ”برقعہ پوش“ (منظوم)”ہفت رنگ نوری“ (منظوم) ”مولا بخش“( منظوم) اور سات بیویاں(نثر) قابل ذکر ہیں تاہم ان کا سب سے بڑا علمی و تحقیقی اور شعری کارنامہ ”معجزات“ منظوم اور ”کرامات“ (منظوم) جیسی اسلامی موضوع پر معرکتہ الارا تصانیف ہیں جو اردو ادب کی تاریخ کا گراں قدرو قیمتی سرمایہ ہیں۔

 1947 میں تقسیم ہند کے ساتھ ہی مسلم کش فسادات بھڑک اٹھے اور نوری درانی کشت و خون کا دریا عبور کرتے اپنے عشق رسول کی مظہر منظوم معجزات کو سینہ سے لگائے عازم پاکستان ہوئے دوران ہجرت آپ کے بڑے بھائی جمیل احمد خاں سکھوں کے ہاتھوں شہید،اکلوتی بہن اور بہنوئی پیدل سفر کی صعوبتیں برداشت نہ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔نوری درانی ارض پاک پر پہنچتے ہی سجدہ ریز ہوگئے آپ کے چچا زاد بھائی مرتضی احمد خان میکش نے اپنے ساتھ لاہور میں قیام پر اصرار کیا لیکن یہ درویش منش صوفی شاعر اپنے آپ کو راضی بہ رضائے حق کرتے ہوئے یہ کہہ کر مہاجر ٹرین میں سوار ہوگئے کہ اس ٹرین کا جو آخری سٹیشن ہو گا وہ اپنا پڑاﺅ ہوگا ٹرین جھنگ جیسے پس ماندہ شہر جاکر رک گئی تو آپ نے جھنگ سے پچیس کلو میٹر دور ”موکھیانہ“ نامی گاﺅں کو اپنا مسکن بنایا اور حصول رزق کے لئے سلسلہ تعلیم و تدریس سے دوبارہ منسلک ہوگئے آپ پنجاب ٹیچرز یونین کے عظیم رہنما اور شاعر جماعت تھے۔ آپ اساتذہ کے حقوق کی خاطر ملانکاتی کے قلمی نام سے قلمی محاذ پر لڑتے رہے۔انکی تصنیف ”مولا بخش“ اساتذہ کرام کی زبوں حالی اور حق تلفیوں کی منہ بولتی تصویر ہے۔ نوری درانی نے پاکستان پہنچ کر بھی اپنے عشق رسول کی لو ٹھنڈی نہ ہونے دی۔ عشق رسول کے بعد آپ کے عشق کے محور صحابہ کرام، اہل بیت، تابعین اور اولیاءکرام ٹھہرے اور ان کی متعدد کرامات مستند حوالہ جات کے ساتھ تادم وفات منظوم کرتے رہے معجزات منظوم کرنے سے شروع ہونے والاسعادتوں اور سرفرازیوں کا یہ سلسلہ نوری درانی کے پس وفات بھی جاری و ساری ہے آپ کے فرزند ار جمندآغا رب نواز درانی نے اپنے عظیم باپ کی وفات کے تقریباًبیس سال بعد ”کرامات منظوم“ کو ترتیب دے کر اس کی اشاعت اول اور معجزات منظوم کی اشاعت ثانی کا اہتمام کیا۔

 حضرت نوری درانی کی بیوہ بھی آپ کی وفات کے ڈیڑھ سال بعد اپنے عظیم خاوند سے جاملیں تو اپکی اولاد نے ماں باپ کی لحد پختہ تعمیرکرانی شروع کی تو گورکن کی غلطی سے لحد کا پردہ سرک گیا اور سبحان اﷲ اندر سے آنے والی خوشبونے سارے ماحول کو معطر کردیا اور حضرت نوری درانی کا ویسا ہی نورانی چہرہ مٹھی بھر ریش مبارک ماتھے پر محرابی نشان اور ہونٹوں پر کھتلی مسکراہٹ کے ساتھ عرصہ دوسال کے بعد ویسے کا ویسا تھاوہاں موجود سینکڑوں افراد نے شاعرکرامت کی اس زندہ کرامت کو بچشم خود مشاہدہ کیااور فضا درودو سلام سے گونج اٹھی۔ مرقد نوری مینارہ نور بن گئی۔  ٭

      

مزید :

کالم -