جمہوریت کیوںڈیلیور نہیں کرتی؟

جمہوریت کیوںڈیلیور نہیں کرتی؟
 جمہوریت کیوںڈیلیور نہیں کرتی؟

  

                            پاکستان میں جمہوریت اس لئے ڈیلیور نہیں کرتی کہ ہمارے حکمرانوں کے پاس ووٹ ہم پاکستانیوں کا اور مینڈیٹ امریکہ کا ہوتا ہے!

منتخب ہوتے ہی ہمارے حکمران عوامی امنگوں کے بجائے امریکی امنگوں کی پاسداری میں جُت جاتے ہیں، دوسری جانب احتساب کا نظام ٹوٹا پھوٹا ہوا ہے، یہی نہیں ہماری بیورو کریسی بھی ایک علیحدہ دنیا بسائے ہوئے ہے، وہ سیاست دانوں کو ڈیلیور کرنے دیتے ہیں نہ جمہوریت کو، بیورو کریسی اختیارات کی مرکزیت کو بھی ختم نہیں ہونے دیتی، جس کی وجہ سے عہدوں اور اختیارات کی اہمیت ختم نہیں ہو رہی ہے، انہیں کام سے نہیں مقام سے غرض ہے ،ہم میں سے ہر کوئی نوکری کے لئے تگ و دو کرتا ہے اور جونہی نوکری ملتی ہے ہم تنکا توڑنے کے بھی روادار نہیں ہوتے!

پاکستان میں جمہوریت اس لئے بھی ڈیلیور نہیں کرتی کہ بیورو کریسی دل سے عوامی نمائندوں کی حکومت تو تسلیم نہیں کرتے، دوسری جانب عوامی نمائندوں کے دل میں، بالعموم، خدا کا خوف نہیں رہا ہے، سیاست کو پیسہ بنانے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے، بلوچستان جیسے صوبے میں بھی بلدیاتی انتخابات کے لئے اتنی بھاری تعداد میں امیدوار سامنے آئے ہیں کہ وہاں الیکشن کمیشن نے 9نومبر کی چھٹی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی امیدوار بننا چاہتا ہے اور ووٹ کوئی نہیں دینا چاہتا....جمہوریت اسی لئے ڈیلیور نہیں کر پا رہی!

لوگ جمہوریت سے اس لئے مطمئن نہیں ہوتے کہ آمریت بھی انہیں اطمینان نہیں دیتی، یعنی عوام نے نیک نیتی سے جمہوریت کو نہیں اپنایا ہوا ہے، بلکہ آمریت کے آپشن کو بھی دل میں جگہ دے رکھی ہے، یہی نہیں عوام کی ایک اکثریت جمہوریت چاہتی ہے نہ آمریت، بس شریعت چاہتی ہے۔ دوسری جانب صورت حال یہ ہے کہ نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہی ہیں، ریٹائرڈ لوگوں کو آسودگی میسر نہیں ہے، خواتین کے لئے مہنگائی ختم نہیں ہو رہی ہے، مسائل ختم نہیں ہو رہے ہیں اور جن کے ختم ہوتے ہیں ہم ان سے حسد کرتے ہیں!

من حیث القوم ہم میں منفی پن کی بہتات ہے، ہم دوسروں میںکیڑے تلاش کرنے میںماہر ہیں، ہم رج کھان دیاں مستیاں ایسی صورت حال کا شکار ہیں، ہم جس کو سر پر بٹھاتے ہیں اسے زمین پر پٹخنے میں دیر نہیں لگاتے، ہمارے کھانوں میں مرچ نہ ہو تو ہمیں کھانے کا مزہ نہیں آتا، سیخ پائی ہمارے مزاج میں ہے، غصہ ہماری شان ہے، برداشت ہماری چھیڑ ہے، ہمیں برداشت سے چڑ ہے!

ہم جمہوریت سے اس لئے بھی مطمئن نہیں ہوتے کہ ہمارے مسائل ہمہ گیر ہیں، ہماری ریاست ایک بین الاقوامی جنگ میں پچھلے 30سال سے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کر رہی ہے، ہماری سیاسی اور فوجی قیادت کی ساری توانائی بین الاقوامی برادری کی خواہشوں اور امنگوں سے نبردآزمائی میں صرف ہو رہی ہے، ہماری قیادت کو بنگلہ دیش،بھارت اور چین جیسے حالات میسر نہیں ہیں،ان ممالک نے افغان جنگ نہیں لڑی ہے، ان پر پاکستان کی طرح کوئی جنگ مسلط نہیں ہے، اس لئے ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے ، ہم اپنی قیادت کو مینڈیٹ بین الاقوامی اور مسائل مقامی دیتے ہیں، وہ اس محاذ پر کامیاب ہوتی ہے نہ اس محاذ پر، نتیجہ دشنام طرازی اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں نکلتا، وزیراعظم نواز شریف لندن گئے تو ملک میں آلو، ٹماٹر کے بھاﺅ بڑھ گئے ،اس سے قبل امریکہ گئے تھے تو ڈالر دوڑنے لگا تھا !

ہم سمجھنا نہیں چاہتے کہ جمہوریت کے پنپنے کا اپنا انداز ہوتا ہے، اس میں گڈ گورننس اور بیڈ گورننس ساتھ ساتھ چلتے ہیں،حکومت گڈ گورننس اور اپوزیشن بیڈ گورننس کا رٹا لگائے رکھتے ہیں، حالانکہ کل کی حکومت آج کی اپوزیشن اور آج کی اپوزیشن کل کی حکومت ہو گی!

ریاست کے اندر ہر شخص یا ہر گروہ کی توقع دوسرے سے علیحدہ ہوتی ہے، بیروزگار روزگار چاہتا ہے تو صاحب روزگار اچھی زندگی، مختلف توقعات تسلسل سے مختلف صورت حال پیدا کرتی رہتی ہیں اور اپوزیشن کو کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا موقع مل جاتا ہے، ڈرون حملے کے خلاف سب اکٹھے ہو گئے تھے، ڈرون سے ہلاکت پر سب علیحدہ علیحدہ بولی بولنے لگے ، حالانکہ بات اتنی سی ہے کہ ڈرون غلط ہے تو ڈرون سے ہونے والی ہلاکت کیسے درست ہو سکتی ہے!

کچھ ایسا ہی حال مہنگائی کا ہے، ہم بطور دکاندار اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ چاہتے ہیں اور بطور خریدار اس اضافے پر چیختے ہیں، حالانکہ دونوں جانب ہم ہی ہیں ، ریاست کے شہری!.... پس ریاست سے ہم جتنی چاہیں توقعات لگالیں اور جتنی چاہیں ریاست کو گالیاں دے لیں، جمہوریت کا مطلب عوام ہوتا ہے اور عوام کی حکومت ویسی ہی ہوتی ہے جیسے وہ خود ہوتے ہیں، آمریت میںمفاد پوشیدہ ہوتا ہے، اس کے کئی باپ ہوتے ہیں، لیکن جمہوریت کو اس ملک میں ماں نہیں ملتی،چنانچہ آمریت جہاں حاکمیت سے عبارت ہوتی ہے وہیں جمہوریت کو ہم مظلومیت سے تعبیر کرتے ہیں، اب ہم پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر نواز شریف کی حکومت پر کھلے بندوں تنقید کرنے لگے ہیں، حالانکہ اب سے کچھ ماہ پہلے تک ہم نواز شریف کے ساتھ مل کر انہی مسائل پر پیپلزپارٹی پر گرج برس رہے تھے، حکومت میں آتے ہی نواز شریف توقعات کے بجائے تنقید کے معیار پر پور ا اترتے نظر آ رہے ہیں!

ہم نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ بجلی پیدا کریں گے، وہ مہنگائی پیدا کر بیٹھے، سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی ہوئی تو قوم خوش تھی ، ادائیگی سے مہنگائی نے جنم لیا تو قوم ناراض ہوگئی، ہم نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ ملک میں امن لائیں گے، امن کے حصول میں حکیم اللہ محسود مارا گیا تو طوفان کھڑا ہوگیا ، اپوزیشن سینٹ سے اٹھ کر باہر سڑک پر بیٹھ گئی کہ ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار غلط کیوں دیئے ، حالانکہ اعداد و شمار درست بھی دے دیئے جائیں ،تو اپوزیشن امریکہ کا کیا بگاڑ لے گی !

بجلی کی کمی پر قابو پاتے پاتے حکومت مہنگائی بے قابو کر بیٹھی ، اب مہنگائی پر قابو پائے گی، تو بےروزگاری بڑھ جائے گی ،ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے مسائل ایک دوسرے سے انگور کے خوشوں کی طرح گچھے سے جڑے ہوتے ہیں، ہم انہیں علیحدہ علیحدہ کر کے صاف نہیں کر سکتے، لیکن ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں ....نہیں ہوگا!  ٭

مزید :

کالم -