بلدیاتی انتخابات کا مخمصہ

بلدیاتی انتخابات کا مخمصہ

  

                                                                                                                                                                ہمارے اربابِ سیاست و حکومت کی ترجیحات سمجھ سے بالاتر ہیں، جہاں چاہتے ہیں، مل بیٹھتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں،ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔لگتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کی بلدیاتی انتخابات سے جان جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے پر سب اختلافات بھلا کر ایک ہو گئے اور یہ قرارداد پاس کردی کہ سپریم کورٹ کو انتخابات کی تاریخ دینے کا کوئی اختیار نہیں اور یہ کہ دی گئی مدت میں شفاف بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔کیا تجاہل عارفانہ ہے۔وہ لوگ جن پر عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام ہے۔یہ تاویل گھڑ رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کو جلد بازی میں کرایا گیا تو وہ شفاف نہیں ہوں گے۔صاف کیوں نہیں کہتے کہ مفادات کا جو لہو منہ کو لگا ہوا ہے، اسے چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ترقیاتی گرانٹوں کے نام پر ہونے والی لوٹ مار بلدیاتی اداروں کے بعد جاری نہیں رہتی، اس لئے گزشتہ پانچ برسوں میں بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے اور اب یہ نیا جمہوری سیٹ اپ بھی ان سے جان چھڑا رہا ہے۔

حیرت ہے کہ جمہوریت کے نام لیوا جمہوریت کی بنیاد بننے والے اداروں کو فعال نہیں ہونے دے رہے۔سپریم کورٹ کو بے جا مداخلت کا طعنہ دینے والے اپنے گریبانوں میں جھانک کر یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ آئین کی کھلی خلاف ورزی تو وہ خود کر رہے ہیں کہ بنیادی جمہوریتوں کو لاگو نہیں ہونے دے رہے۔وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے ایک بیان پر ٹینٹ اسمبلی کا ڈرامہ رچانے والے کبھی حقیقی عوامی مسائل کے لئے بھی ایسے ہی پارلیمنٹ سے باہر نکلیں۔ایک جملے کو انا کا مسئلہ بنانے والے کبھی عوام کے دکھوں اور تکلیفوں کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ حکومت نے گزشتہ پانچ مہینوں میں عوام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔ مہنگائی اور غربت نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ عوام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، انہیں اپنا کوئی پُرسان حال نظر نہیں آتا۔ یہی ٹینٹ اسمبلیاں اگر مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف لگائی جاتیں تو آج اندھیر نگری چوپٹ راج کی صورتِ حال نہ ہوتی، مگر یہ سب تو ان کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں۔

اسمبلی کے فلور پر عوامی مفاد کی بات کتنے ارکان کرتے ہیں۔شاید ان کی تعداد اتنی بھی نہیں، جتنی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ہیں۔دہشت گردی اور ڈرون حملوں میں مرنے والوں کے اعدادوشمار کی غلطی پر سینٹ سے باہر آکر ٹینٹ لگانے والوں پر اچانک یہ انکشاف کیسے ہوا کہ انہیں دھوکہ دیا جارہا ہے۔اعدادوشمار کی شعبدہ بازی تو ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔بجٹ کے اعدادوشمار ہوں یا دہشت گردی کے، ان میں سچ کب اور کہاں بولا گیا ہے؟پھر صرف چودھری نثار علی خان کے اعدادوشمار پر ہی اس قدر واویلا کیوں؟ شخصی تصادم کو قومی مسئلہ بنا کر پیش کرنے والے عوام کی آنکھوں میں کب تک دھول جھونکتے رہیں گے۔نان ایشوز پر اس قدر ہنگامہ اور اصل مسائل سے پہلو تہی ،کیا اسی کا نام جمہوریت ہے؟اسمبلی میں ابھی تک ایک آواز نہیں اُٹھی، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہو کہ وزیراعظم کے دورئہ امریکہ پر ایوان میں بحث کی جائے،کسی نے یہ تک نہیں پوچھا یا اس ضمن میں تحریک التواءپیش نہیں کی کہ دورئہ امریکہ کے فوراً بعد ڈرون حملہ کیوں کیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری تو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف کے دورئہ امریکہ میں ڈرون حملوں کا سرے سے ذکر ہی نہیں آیا.... جس یقین سے وہ بات کرتے ہیں، لگتا ہے مذاکرات میں خود موجود تھے یا اُن کا کوئی فریسندہ وہاں تھا۔

اگر بالفرض ہم نے وہاں ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ ہی نہیں کیا تو پھر ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر اتنی لے دے کیوں کر رہے ہیں؟پھر کسی سیاسی جماعت میں اتنی جرا¿ت نہیں کہ وہ اسمبلی میں ڈرون حملوں کے خلاف مذمت کی قرارداد ہی پیش کر سکے۔ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہ بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ حکیم اللہ محسود کو شہید کہنا چاہیے یا دہشت گرد، حالانکہ اس کا اب کوئی فائدہ ہی نہیں۔بحث یا احتجاج تو اس نکتے پر ہونا چاہیے کہ امریکہ ہماری خود مختاری اور اقتداراعلیٰ کی ڈرون حملوں کے ذریعے جس طرح بے حرمتی اور پامالی کررہا ہے، اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ٹینٹ ڈرامہ بھی اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لئے رچایا گیا، تاکہ قوم کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ اپوزیشن چپ نہیں بیٹھی، بلکہ حکومت کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کررہی ہے۔اس خیال کو تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ ٹینٹ ڈرامے میں ایک دوسرے کے متحارب نظر آنے والی جماعتیں سپریم کورٹ اور بلدیاتی انتخابات کے خلاف ایک ہو جاتی ہیں اور ایک ایسی متفقہ قرارداد منظور کرلیتی ہیں، جو درحقیقت جمہوریت کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔

رفتہ رفتہ یہ راز فاش ہو گیا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام عوام کے مسائل کو سرے سے اہمیت ہی نہیں دیتا۔عوامی مسائل کو زبان پر لانا ارکان اسمبلی شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں۔کسی کو یہ فکر نہیں کہ حالات کی ستم ظریفی کیا گل کھلا رہی ہے۔عوام کے وسائل سکڑتے اور مسائل پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ ارکان اسمبلی نے چودھری نثار علی خان کو تو آڑے ہاتھوں لیا، مگر کبھی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی بھی خبر لیتے۔کبھی ان کے خلاف بھی ایک ٹینٹ اسمبلی لگا کر یہ سوال کرتے کہ انہوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں کیوں یرغمال بنا رکھا ہے؟وہ کام جو اپوزیشن کو کرنا چاہیے، سپریم کورٹ کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس عوام کی ترجمانی ہے کہ حکومت اپنے چہیتوں کو نواز رہی ہے اور اسے عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔یہ تاثر عوام میں بھی موجود ہے کہ جمہوریت نے انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔اس تاثر کی موجودگی میں جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ انہی کے منتخب نمائندے بلدیاتی انتخابات کو موخر کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو ان کی حیرت اور مایوسی آسمان کو چھونے لگتی ہے۔

یوں نظر آ رہاہے جیسے ساری طاقتیں بلدیاتی انتخابات کو کوئی ایسا سونامی سمجھ رہی ہیں، جسے روکنا ضروری ہے۔ سیکرٹری دفاع پہلے ہی اس حوالے سے توہین عدالت کی زد میں آ چکے ہیں کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کی بھی پروا نہیں کی اور کنٹونمنٹس کے علاقوں میں گزشتہ پندرہ برسوں سے انتخابات نہ ہونے کی روایت برقرار رکھنے کے لئے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔چلیں ان کی تو سمجھ آتی ہے کہ ایک خاص ذہنیت کے باعث وہاں عوام کو بلدیاتی نظام سے محروم رکھا جاتا ہے، لیکن جہاں ہمیشہ سول حکومت کی عملداری رہی ہے،وہاں بلدیاتی انتخابت کو مختلف حیلوں بہانوں سے کیوں ٹالا جا رہا ہے،ووٹر لسٹیں وہی ہیں، جن پر عام انتخابات ہوئے۔صوبائی حکومتوں نے اپنی ضرورت کے مطابق حلقہ بندیاں بھی کردی ہیں، سرکاری مشینری بھی موجود ہے، صرف بیلٹ پیپرز کی چھپائی کو بنیاد بنا کر انتخابات کو موخر کرایا جا رہا ہے، جس کے بعد یہ کہا جائے گا کہ سخت سردی کا موسم آ گیا ہے، اس لئے انتخابات نہیں ہو سکتے۔لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے یہ فیصلہ آنے کے بعد کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں۔یہ ابہام بھی ختم ہو گیا ہے کہ تین صوبوں میں انتخابات جماعتی اور سب سے بڑے صوبے میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔

میرا ذاتی نظریہ یہ ہے کہ موجودہ غیر جواب دہ جمہوریت کے کس بل نکالنے کے لئے بنیادی جمہوری اداروں کا قیام ضروری ہے، انہیں زیادہ سے زیادہ اختیارات بھی دیئے جانے چاہئیں، تاکہ عوام کو بنیادی مسائل اور حقوق کے حوالے سے انہی کی دہلیز پر ریلیف مل سکے۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اسمبلیوں کی حد تک پائی جانے والی جمہوریت عوام کو ریلیف دینے سے قاصر رہی ہے۔جمہوریت کا اعتبار بڑھانے اور عوام تک اس کے مثبت اثرات پہنچانے کے لئے بلدیاتی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، ارکان اسمبلی ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے عوام دشمنی کا مظاہرہ نہ کریں۔     ٭

مزید :

کالم -