ایرانی ایٹمی پروگرام اور جنیوا مذاکرات

ایرانی ایٹمی پروگرام اور جنیوا مذاکرات

  

                                                                                        ایران کی طرف سے اپنے ایٹمی پروگرام کو منجمد کرنے اور اپنی ایٹمی تنصیبات کا عالمی ماہرین سے معائنہ کرانے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد جنیوا میں سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ اس کے مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور اس سلسلے میں اہم پیش رفت کی توقع ہے۔ ایران مذاکرات میں یہ موقف لے کر آیا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو مزید آگے نہیں بڑھائے گا، اس کے عوض اس پر عائد کی گئی اقوام متحدہ، امریکہ اور دنیا کے دوسرے بڑے ملکوںکی طرف سے عائد کردہ پابندیاں نرم کر دی جائیں، جنہیں بالآخر بالکل ختم کر دیا جائے ۔ مذاکرات میں ایران کے مثبت رویہ کے پیش نظر امریکہ ، جرمنی، برطانیہ ، فرانس ، روس اور چین کے وزرائے خارجہ بھی جنیوا پہنچ رہے ہیں۔ مغربی ممالک کے ساتھ ایران کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات پر اسرائیل اور مشرق وسطی کے بعض ممالک کی طرف سے بے چینی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ جنیوا میں جو بھی معاہدہ ہو، اسرائیل ایران کے خلاف جو کارروائی کرنا چاہتا ہے وہ کر کے رہے گا۔ بحرین کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کو چاہئے کہ وہ مغرب سے دوستی کی پینگیں بڑھانے سے پہلے خطے میں اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر کرنے پر توجہ دے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے مذاکرات کے متعلق محتاط انداز میں اچھی توقعات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سال پرانا تنازعہ طے کرنے کے لئے اِسی ہفتہ کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔ ہم سنجیدہ مذاکرات کی توقع رکھتے ہیں۔ ایران کے ساتھ ان مذاکرات میں دنیا کی چھ بڑی طاقتوں روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس ، چین اور جرمنی کی طرف سے یورپین یونین کے امور خارجہ کی سربراہ کیتھرائن اشٹون حصہ لے رہی ہیں۔ مذاکرات کے سلسلے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی رائے ہے کہ گزشتہ جون میں ایران کے نئے منتخب ہونے والے صدر حسن روحانی کی طرف سے دیئے جانے والے دوستانہ بیانات حوصلہ افزا رہے ہیں۔ دشمنی کے کئی برسوں کے بعد روحانی مغربی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر کے ایران پر عائد کی گئی عالمی پابندیوں میں کچھ نرمی چاہتے ہیں،جن کی وجہ سے ایران کی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی صدرحسن روحانی نیو یارک گئے تھے ، جسے ایران امریکہ تعلقات میں بہتری کی طرف ایک اہم پیشرفت سمجھا گیا ہے۔ یہاں آنے سے قبل انہوں نے یہ کہا تھا کہ ایران امریکہ سے مذاکرات شروع کرنے کے لئے تیار ہے۔صدرروحانی کی امریکی صدر اوباماسے ملاقات تو نہیں ہوئی۔ تاہم دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے ایک روز بعد 27ستمبر کو امریکی صدر بارک اوباما اور ایرانی صدرحسن روحانی کی ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ 1979ءکے انقلاب ایران کے بعد سے دونوں ملکوں میں یہ پہلا اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ تھا، لیکن ایران میں امریکہ مخالف طبقات نے اس رابطے کو پسند نہیں کیا ، جب صدر حسن روحانی نیو یارک سے واپس تہران پہنچے تو ایئر پورٹ پر امریکہ مردہ باد کے نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا تھا۔

ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایران اور امریکہ کے تعلقات بہت گہرے رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی روسی اور برطانوی استعمار سے خوفزدہ ایران نے جنگ عظیم سے قبل امریکہ سے تعلقات کو فوقیت دی۔ اس وقت کے شاہ ایران نے دو امریکی جنرلوں کو ایرانی فوج میں تعینات کیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں ایران پر حملہ کرنے والے روس اور برطانیہ دونوں امریکہ کے اتحادی تھے، تاہم اس کے باوجود امریکہ سے ایران کے تعلقات بہتر رہے۔ امریکی سی آئی اے کی مدد سے ایران میں ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، جس کے بعد محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کے امریکہ سے بہت قریبی تعلقات رہے، لیکن1979ءمیں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے ایرانی تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی۔ بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق امریکہ کے87 فیصد شہری ایران کے خلاف رائے رکھتے ہیں، جبکہ ایران کو پسند کرنے والے امریکیوں کی تعداد صرف پانچ فیصد ہے۔ امریکہ نے1995ءمیں ایران پر تجارتی پابندیاں عائد کردی تھیں۔امریکہ کی طرف سے 2003ءسے ایران پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ ایٹمی دھماکے کرنے کا پروگرام رکھتا ہے، جبکہ ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف بجلی پیدا کرنے کے لئے ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا یہ ہے کہ اس کے لئے ایک ایٹمی ایران ناقابل قبول ہے۔ امریکہ کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے بھی ایران سے یورینیم کی افزودگی بند کرنے کے لئے کہا۔ جون 2005ءمیں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادی سے کہا کہ انہیں ایران کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا چاہئے یا پھر انہیں تیسری بار اس ایجنسی کا سربراہ منتخب نہیں کیا جانا چاہئے۔ ایران اور امریکہ دونوں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاﺅ معاہدہ کے رکن ہیں۔ امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ معاہدہ تحفظ کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اپنے جوہری اثاثوں کے سلسلے میں درست معلومات فراہم نہیں کر رہا۔ اس سلسلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان سخت کشیدگی رہی، اس دوران اقوام متحدہ کے ماہرین ایرانی ایٹمی مراکز کا دورہ بھی کرتے رہے۔ 8مارچ2006ءکو امریکن اور یورپین نمائندوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ایران کے پاس دس ایٹم بم تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ کہا گیا کہ یہ وقت ہے کہ سیکیورٹی کونسل اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس وقت ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کا شدید خطرہ موجود رہا۔ 2006ءمیں امریکہ نے ایک ایکٹ منظورکیا، جس کے ذریعے ایران کو انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد روک دی، جس کے بعد جنگ کا خطرہ محسوس کیا جانے لگا۔ 2006ءسے اقوم متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ایران پر چار طرح کی پابندیاں عائد کر دیں۔ سلامتی کونسل کی طرف سے 9جون2010ءسے ایران پر پابندیوں میں اضافہ کر دیا گیا۔2011ءمیں ان عالمی مالیاتی اداروں کا سرمایہ منجمد کر دیا گیا جو ایران میں کام کرتے تھے۔31 جولائی2012ءکو اوباما انتظامیہ نے ایران کی تیل کی برآمد پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔ 3جون 2013ءکو امریکہ نے کرنسی اور آٹو سیکٹر میں بھی ایران پر پابندیاں عائد کر دیں۔ موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی کے اقتدار میں آنے سے صرف تین روز قبل امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف بعض نئی پابندیوں کی منظوری دی، جس کے بعد یورپی یونین نے بھی ایران کے خلاف بہت سی پابندیاں عائد کر دیں۔

ان پابندیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کی طرف سے ایران کے اندر خفیہ کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔2006ءمیں عراقی سرحد کے ساتھ موجود ایرانی کردوں نے امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے ایرانی فوج پر حملے شروع کئے۔2007ءمیں امریکن براڈ کاسٹنگ کمپنی نے انکشاف کیا کہ امریکہ 2005ءسے جنداللہ کی مدد کر رہا ہے، جو پاکستان کے علاقہ وزیرستان میں موجود ایک اسلامی تنظیم ہے اور القاعدہ سے منسلک ہے اس تنظیم نے400ایرانی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سابق امریکی صدر بش نے ایران کے اندر خفیہ حملوں کے لئے کانگرس سے 40کروڑ ڈالر کی منظوری حاصل کی تھی۔ ان حملوں کا مقصد ایران کی مذہبی حکومت کو کمزور کرنا بتایا گیا۔ 2008ءسے ایران کے اندر ایسی کارروائیوں کو وسعت مل چکی ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ایران عراق میں شیعہ ملیشیا کی مدد کر رہا ہے اور اس پراکسی جنگ میں عراق میں موجود170 امریکی مارے گئے ہیں۔ ایران ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔اس کے علاوہ ایک موقع پر عراقی وزیراعظم نوری السعیدنے بھی عراق کے اندر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کی طرف سے کی جانے والی مدد کی تعریف کی۔ مئی2008ءمیں امریکی اخبار ”لاس اینجلس ٹائمز“ نے خبر دی کہ عراقی اور امریکی حکام دونوں کی طرف سے ایران پر عائد کئے گئے کچھ الزامات اس وقت واپس لے لئے گئے، جب امریکی ماہرین نے شیعہ ملیشیا کے افراد سے برآمد کئے گئے کچھ ہتھیاروں کا کیمیائی معائنہ کیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ یہ اسلحہ ایرانی نہیں ہے۔ اس دوران عراق میں موجود امریکی اور ایرانی سفیر دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے باوجود براہ راست بات چیت کرتے رہے۔ تاہم دونوں طرف سے ایک دوسرے ملک کے اندر ایسی کارروائیوں کے سلسلے میں کشیدگی موجود رہی۔ 2007ءمیں امریکی فوجوں نے عراق میں موجود ایرانی قونصلیٹ پر حملہ کر کے عملے کے پانچ افراد کو گرفتا ر کر لیا اور یہاں سے بہت سی دستاویز قبضے میں لے لیں۔ امریکہ نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ پورے مشرق وسطی میں دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں، اس کے علاوہ عراق اور افغانستان کے معاملات میں بھی مداخلت کر رہے ہیں۔ 2008ءکی ایک اشاعت میں امریکی اخبار ”نیویارکر“ نے انکشاف کیا کہ امریکہ ایران کے اندر کارروائیاں کرنے والے کئی گروہوں کی مدد کر رہا ہے۔

جب نومبر2008ءمیں بارک اوباما امریکی صدر منتخب ہوئے تو ایرانی صدر احمدی نژاد نے انہیں مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ کسی ایرانی صدر کی طرف سے 1979ءکے بعد امریکی صدر کو پہلی بار ایسا پیغام بھیجا گیا تھا۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر القاعدہ کی حمایت کا شبہ بھی ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم امریکہ کی نظر میں ایران کا ایٹمی پروگرام امریکہ ایران تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ 2010ءمیں ایرانی صدر احمدی نژاد نے اعلان کیا کہ ایران ایٹمی ملک بن چکا ہے اور اس نے 20فیصد تک یورینم افزودگی کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ امریکہ نے ایران کے جوہری طاقت بننے کے حق کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کی طرف سے مسلسل یہ کوشش رہی ہے کہ ایران اپنا یہ پروگرام بند کر دے۔ گزشتہ سال سے دونوں طرف سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ دونوں ملک اس سلسلے میں مذاکرات پر آمادہ ہیں۔

اب فریقین میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے متعلق مذاکرات جاری ہیں اور ان سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع ہے۔ اس وقت ایران کی کرنسی کی قدر گر کر نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس کے پاس تیل اور دوسرے معدنی وسائل کی دولت موجود ہے، جس سے استفادہ کر کے وہ اپنے عوام کو خوشحالی بخش سکتا ہے، لیکن اس کے لئے اسے اپنا تیل فروخت کرنے اور مغربی ممالک کے فنی تعاون کی ضرورت ہے۔ ایران سے مغربی ممالک کی پابندیاں ختم ہونا خطے کے لئے ایک بہت اہم بات ہو گی ، جس کے بعد خطے کی سیاست اور فوجی توازن میں واضح تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔    ٭

مزید :

اداریہ -