آہ! اسلم کولسری مرحوم۔۔۔کچھ یادیں ،کچھ باتیں

آہ! اسلم کولسری مرحوم۔۔۔کچھ یادیں ،کچھ باتیں
 آہ! اسلم کولسری مرحوم۔۔۔کچھ یادیں ،کچھ باتیں

  

زمانہِ طالبِ علمی کی بات ہے دوستوں کے ساتھ ایک مشاعرے میں جانے کا اتفاق ہوا،دیگر نامور شعرائے کرام کے دوران اسلم کولسری کا نام پکارا گیا۔ایک باوقار شخصیت اٹھی اور مشاعرہ پڑھنے کی مخصوص جگہ پہنچی۔باوقار اور پر اثر لہجے میں اشعار پڑھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اپنے کلام کے آخر میں اپنی ایک غزل پڑھی۔۔۔’’ مجھے خار زار بنا دیا بڑی گل آزار سی شام نے،تیرے سامنے‘‘۔۔۔ خدا جانے یہ کلام کا اثر تھا یا لہجے کی تاثیر، پوری غزل میرے دل میں اترتی گئی۔میں اسلم کولسری کا اس ایک غزل کی وجہ سے ہی ’’فین‘‘ ہو گیا۔ان سے انفرادی ملاقات کی خواہش زور پکڑتی رہی،مگر تعلیمی مصروفیات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔میرے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ اسلم کولسری لاہور میں ملازمت کرتے ہیں اور اسی شہر میں اقامت پذیر بھی ہیں۔ میرا تعلق چونکہ گوجرانوالہ سے ہے اور تب میں گورنمنٹ ڈگری کالج پیپلزکالونی گوجرانوالہ میں زیرِ تعلیم تھا، سو لاہور جا کر ان سے شرفِ ملاقات حاصل کرنا تب اتنی آسان بات نہ تھی،لیکن ان سے ملنے کی خواہش توانا ہوتی گئی۔زمانہ طالب علمی میں ہی میرا پہلا مجموعہِ کلام’’گلِ نو شگفتہ‘‘ چھپ کر مارکیٹ میں آگیا۔یہ مئی1996ء کی بات ہے۔دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کے موقع پر ناموشعرائے کرام و اصحابِ علم و دانش کی آراء بھی شاملِ مجموعہ کرنے کی ٹھانی تو اسلم کولسری صاحب کا نام بھی ان صاحبانِ علم و فن کی فہرست میں شامل تھا۔

محبی جناب انوار قمر کی وساطت سے ان تک اپنے اس شعری مجموعہ کے ساتھ افسانوی مجموعہ ’’چھٹی‘‘ بھی پہنچایا۔یہ 2000ء کے اواخر کی بات ہے۔تب میں تعلیم مکمل کرکے لاہور مال روڈ پر ہی جناب انوار قمر کی سرپرستی میں اپنا اشاعتی ادارہ قائم ’’فیومیک‘‘ کے نام سے قائم کر چکا تھا۔نومبر2000 ء کی ایک خوبصورت صبح مجھے میرے دفتر کے نمبر پر کال آئی۔مخاطب نے جب بتایا کہ میں اسلم کولسری بول رہا ہوں تو سچ مچ دل بلیوں اچھل کر حلق میں آگیا۔جب دورانِ گفتگو انہوں نے اسی روزخود دفتر آنے کی ’’اجازت‘‘ چاہی تو شرم اور خوشی کے مارے جو حالت تھی، وہ آج بھی بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ ان سے درخواست کی کہ مجھے عزت بخشیں آپ جہاں بھی ہیں، میں لینے حاضر ہو جاتا ہوں، مگر انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور کچھ ہی دیر میں میرے دفتر کو یہ شرف بخش دیا کہ میں اپنے پسندیدہ شاعر کے سامنے بیٹھا ان کو دیکھ رہا تھا اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کر رہا تھا۔میں سوچ رہا تھاکہ گفتگو کا آغاز اس بات سے کرتا ہوں کہ سر میں آپ کا بہت بڑا ’’فین‘‘ ہوں کہ انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’آپ کی شاعری میں بڑی جان ہے، مجھے بہت اچھی لگی اس لیے اس پر جو بھی لکھا دل سے لکھا ہے۔ مگر آپ کے افسانوں پر ایک جملہ بھی نہیں لکھ پایا،کیونکہ آپ کا افسانہ ’’ چھٹی‘‘ پڑھ کر میں اپ کا’’فین ‘‘ ہو گیا ہوں اور میں سمجھتا ہوں اس پر مجھے رائے دینے کی بجائے اشفاق احمد صاحب سے رائے لکھواتے ہیں‘‘۔

مجھے آج بھی یہ جملے یاد آتے ہیں تو محترم اسلم کولسری مرحوم کی عظمت پر یقین اور بھی پختہ ہو جاتا ہے،جو مجھ جیسے معمولی لکھنے والوں کی بھی اس انداز میں حوصلہ افزائی فرماتے کہ آگے لکھنے اور بڑھنے کی قوت کو پر لگ جاتے۔ میں اسلم کولسری کی اس پہلی ملاقات کو اس طرح سینے سے لگائے پھرتاہوں،جیسے کوئی کم عمر عاشق اپنے محبوب سے اپنی پہلی ملاقات کو لگائے پھرتا ہے۔ ان کی پہلی ملاقات نے جو خوشی اور حوصلہ مجھ کو دیا، وہ میرے سارے ادبی سفرمیں گنجِ گراں مایہ ہے۔ آج اردو ادب صرف ایک ادیب اور شاعر سے محروم ہوا ہے ،لیکن مجھ سے میری وہ بینائی چھن گئی ہے جس سے میں ادبی افق کے اس ’’پار‘‘ بھی دیکھ سکتا تھا۔ 8 اگست 2004ء گوجرانوالہ میں میرے اعزاز میں تقریبِ پذیرائی کا انعقاد کیا گیا۔ میری خواہش تھی کہ صدارت اسلم کولسری کریں۔ اس غرض سے میں ان کی خدمت میں ان کے دفتر ’’ادرو سائنس بورڈ‘‘ حاضر ہوا۔ ان سے اپنا مدعا بیان کیا تو حسبِ عادت انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمانے لگے :میں اس قابل کہاں یار! خالد اقبال یاسرسے کہتے ہیں کہ وہ صدارت فرمائیں۔ پھر میرے اصرار کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے، مجھے اپنے ڈائریکٹر جنرل خالد اقبال یاسر کے پاس لے گئے ۔ ان سے میرا تعارف کروایااور ان سے تقریب کی صدارت کی ہامی لی۔میں نے کارڈز پرکولسری صاحب کا نام بطور مہمانِ خصوسی لکھوا دیا۔ پڑھ کر زیرِ لب مسکرائے اور فرمایا:’’انشاء اللہ آپ کی اس ’’سازش‘‘ کو بھی ناکام بنا دوں گا‘‘۔ میں اس وقت ان کے اس جملے کا مفہوم سمجھ نہ سکا۔

جب تقریب میں خالد اقبال یاسر صاحب کے ساتھ ان کو نہ پایا توان کے کہے جملے کی سمجھ آئی۔ بعد میں جب احتجاجی’’مظاہرہ‘‘ کرنے ان کے دفتر گیا تو مسکرا کر بولے: ’’کارڈ پر بطور مہمانِ خصوصی میرا نام لکھ کر آپ نے جو میری’’بے عزتی‘‘ کی تھی،شرکت نہ کرکے میں نے اس کا بدلہ لے لیا ہے‘‘۔ وہ عجز اورانکسار کا صرف اظہار ہی نہیں کرتے تھے، اس کا عملی مظاہرہ بھی کرتے رہتے۔سادگی و سلاست ان کی شاعری کی ہی اساس نہیں تھی، ان کی طبیعت کا خاصا بھی تھی۔ دیگر شعرا کی طرح وہ صرف انکساری کا اظہار ہی نہیں کرتے رہتے تھے ،سر تا پا اس کے مظہر بھی تھے۔مہمان کی حسبِ استعداد خدمت کرنا ان کی عادت نہیں فطرت میں شامل تھا۔ دوسروں کی خدمت کرکے خوشی حاصل کرنا ان کی ’’نفلی‘‘ عبادات میں شامل تھا۔ اردو ادب میں ان جیسا شاعر پیدا ہو سکتا ہے ، مگر انسان نہیں۔انسانیت، انسانیت سے محبت اور انسانیت کی خدمت ان کی سب سے بڑی پونجی تھی۔ان کی شخصیت کو لفظوں میں سمونا آسان کام نہیں۔

ان کی شخصیت کو لفظوں میں قید کیا ہی نہیں جاسکتا۔ لفظ ساری زندگی اپنی حیات کے لئے اسلم کولسری کے محتاج رہے۔ اسلم کولسری مرنے کے بعد بھی اپنی’’حیاتِ ابدی‘‘ کے لئے لفظوں کے محتاج نہیں۔اسلم کولسری کوبننے کی عادت نہ تھی،وہ جو تھے، وہی نظر آتے تھے،اور جو وہ نہیں تھے، وہ ہرگز نظر آنا نہیں چاہتے تھے۔تصنع اور بناوٹ ان کی ذات کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا۔ان کی سب سے بڑی خوبی جو انہیں بہت ممتاز کرتی ہے ،وہ یہ ہے کہ وہ اپنی عظمت تسلیم کروانے کی بجائے، دوسروں کی عظمت کو تسلیم کر لیتے تھے۔باتوں باتوں میں جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ گورنمنٹ ڈگری کالج گوجرانوالہ میں مجھے پروفیسر ممتاز محی الدین غوری سے علمی فیض حاصل کرنے کا شرف حاصل رہا ہے تو فواََ کہنے لگے،اب آپ غوری صاحب سے جب بھی ملیں تو انہیں میرا سلام کہنے کے بعد کہیے گا کہ اسلم کولسری کہتا تھا کہ آج میں جو بھی ہوں، وہ پروفیسر ممتاز محی الدین غوری صاحب کی وجہ سے ہوں۔میں نے جب کولسری صاحب کا سلام اور پیغام استادِ محترم کی خدمت میں پیش کیا تو وہ نہایت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، یہ تو مجھے علم تھا کہ کولسری ایک بڑا آدمی ہے ،لیکن وہ اتنابڑا آدمی ہے، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔اسے میں نے وہ صرف اردو کے چار لفظ پڑھائے ہیں اور تو کچھ نہیں کیا۔ مجھے تب غوری صاحب پر بھی فخر محسوس ہوا اور کولسری صاحب پر بھی۔ ان دو عظیم ہستیوں میں سے آج ایک ہم میں نہیں۔اللہ رب العزت استادِ محترم کو صحتِ کاملہ والی لمبی زندگی عطا فرمائے ۔آمین۔

ان سطور میں،مَیں نے قصداََ اسلم کولسری صاحب کے فن پر بات نہیں کی۔ میری کیا اوقات کہ میں اس عظیم شاعر کے فنی محاصن کو احاطہِ قلم کرنے کی سعی کروں۔ اردو ادب سے وابستگان ہمیشہ ان کی فنی عظمت کو سلام پیش کرتے رہیں گے۔میں تو اپنی پسند کی بے شمار غزلیات میں سے ان کی یک غزل پیش کرکے آپ سے رخصت چاہوں گا، کیونکہ اس سے آگے قلم کے پَر جلنے کا خدشہ ہے۔غزل پڑہیے اور حظ اٹھائیے:

یہ جواِک چیز محبت ہے میاں

ہم سے پوچھو تو قیامت ہے میاں

ہجر تو خیر بلائے جاں ہے

وصل بھی ایک مصیبت ہے میاں

جو بھی مشکل ہے، بہت مشکل ہے

بس یہی ایک سہولت ہے میاں

مَیں اگر چپ ہوں تو اس کے پیچھے

کتنے برسوں کی ریاضت ہے میاں

تب اسے میری ضرورت تھی بہت

اب مجھے اس کی ضرورت ہے میاں

مزید :

کالم -