بین الاقوامی کمپنیاں سی پیک میں ملوث ہونے کی خواہاں ہیں،بلال خان

بین الاقوامی کمپنیاں سی پیک میں ملوث ہونے کی خواہاں ہیں،بلال خان

  

اسلام آباد(آن لائن) سینئر ماہر اقتصادیات بلال خان نے کہا ہے کہ پہلے چینی ٹرک کنٹینروں کے گذشتہ ہفتہ شمال میں ایک پاکستانی خشک گودی میں داخل ہونے اور پہلے بڑے سائیڈز کے جہاز کے گذشتہ ماہ چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے اختتامی مقام گوادر بندرگاہ میں لنگر انداز ہونے سے کئی بلین امریکی ڈالر لاگت کا منصوبہ سی پیک پاکستان اور پورے خطے کیلئے مرئی ’’ گیم چینجر‘‘ بن گیا ہے، جنوب ایشیائی ملک میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہونے کے ساتھ پاکستان کی مائیکرو اکانومی مستحکم ہورہی ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے رفتار پکڑ رہی ہے،حال ہی میں اس ملک کو مورگن سٹینلے ایم ایس سی آئی انڈیکس پر فرنٹیئر اکانومی سے بڑھا کر ابھرتی ہوئی معیشت کا درجہ دیا گیا ہے،سی پیک بذات خود پاکستان کیلئے کم ازکم ایسے ملک کیلئے نمایاں موقع کی پیش کش کرسکتا ہے۔

جو کمزور غیر ملکی سرمایہ کی آمد جیسے اپنے سپلائی سائیڈ کی دشواریوں کا ازالہ کرسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل قریب میں خام تیل کے نرخوں میں اضافے کے پس منظر میں جس کا مطلب یہ ہے پاکستان کے تیل کا درآمدی بل بڑھ جائے گا،سی پیک پاکستان میں متوازن کرنٹ اکاؤنٹ رکھنے میں مدد دینے کیلئے نجی اور سرکاری شعبوں دونوں سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرسکتاہے،سی پیک کے ذریعے سڑکوں اور ریلوے جیسے بہتر انفراسٹرکچر کی وجہ سے ہم یہ پیشنگوئی کرسکتے ہیں کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی)گذشتہ سال کی 4.7فیصد سے بڑھ کر 2019میں قریباً 6فیصد ہونی چاہیے اور 2020میں بھی پیداوار ی شرح اسی طرح پر رہنی چاہیے۔

مزید :

کامرس -