علامہ اقبالؒ کی زندگی اور اُن کی شاعری(2)

علامہ اقبالؒ کی زندگی اور اُن کی شاعری(2)

  

لالہ صحرائی کی ایک یادگار تحریر

1905ء میں اقبال اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے یورپ گئے اور وہاں پہنچتے ہی کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہوگئے۔ کیمبرج سے فلسفہ کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے ایران کے فلسفہ کے متعلق ایک مقالہ لکھ کر جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور ڈاکٹر محمد اقبال کہلائے۔ جرمنی سے واپس آکر انہوں نے لندن میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ وہاں ان کا باقی وقت مشرقی اور مربی زبانوں کے علمی شاہکاروں کے مطالعہ میں صرف ہوتا۔ یورپ کے قیام کے دوران میں اقبال کو بعض شہرہ آفاق مغربی عالموں اور مفکروں سے بھی ملنے اور ان کے خیالات سننے کا اتفاق ہوا، ان میں ڈاکٹر نکلسن اقبال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جب اقبال نے اپنی مشہور کتاب ’’اسرار خودی‘‘ لکھی تو ڈاکٹر نکلسن نے یورپ میں اس کا انگریزی ترجمہ کر کے شائع کرایا اور اس ترجمہ نے ابتداً اقبال کو یورپ کے وسیع تر علمی حلقوں سے روشناس کیا۔

اسی زمانے میں اقبال کی زندگی کا ایک نیا اور یادگار دور شروع ہوا۔ اب تک انہوں نے جو نظمیں کہیں تھیں، ان کا انداز یورپ کے شاعروں سے بہت ملتا جلتا تھا، لیکن جب انہیں علم کے ایک وسیع سمندر سے فیض اٹھانے کا موقعہ ملا تو اس قسم کی شاعری ان کی نظر سے بالکل گر گئی۔ چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ آیندہ اشعار کہنے سے ہمیشہ باز رہیں گے، لیکن جب انہوں نے اس ارادے کا ذکر اپنے ہم سفر شیخ عبدالقادر صاحب سے کیا تو موصوف نے اس کی شدت کی ساتھ مخالفت کی اور کہا کہ آپ بے مقصد شاعری کرنے کی بجائے اگر اسے کسی مفید مقصد کے ماتحت کر دیں تو اس کی برتری میں اضافہ ہو جائے گا۔ اسے اردو زبان کی خوش قسمتی کہنا چاہئے کہ اقبال مرحوم نے شیخ عبدالقادر کے اس مشورہ کو قبول فرمایا اور یوں ہندی مسلمانوں اور خاص کر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ایک ایسا فکری رہنما میسر آ گیا، جس نے اپنی حکیمانہ شاعری کے ذریعہ اُن کی کئی ذہنی بیماریوں کا علاج کیا اور انہیں فکری لحاظ سے صحت مند و توانا بنا کر اقوام عالم میں لاکھڑا کیا، جس کا نتیجہ بالآخر یہی نکلا کہ آج ہم پاکستان کے نام سے ایک آزاد خطۂ زمین کے وارث بن کر آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔

یورپ کے قیام کے دوران میں اقبال کی ذہنی دُنیا میں کئی انقلاب آئے، جس کے آثار ان کی اس دور کی نظموں میں بھی ملتے ہیں۔ ان کے قیام کا ابتدائی عرصہ ان کی طبیعت کی کچھ بے کلی اور بے چینی کا آئینہ دار ہے، جیسے وہ کسی چیز کی کھوج میں ہیں،جس کا کوئی اتا پتا نہیں ملتا۔ ان کے سامنے کچھ الجھنیں ہیں اور ان کے دل میں بار بار کچھ سوال پیدا ہو رہے ہیں، جن کا جواب انہیں نہیں ملتا۔ دراصل یورپ میں جاکر جب اقبال نے ایک نئی دنیا دیکھی تو انہیں وہاں کی تہذیب میں خوبیاں بھی نظر آئیں اور برائیاں بھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی ظاہری بھڑک تو دلوں میں چکا چوند پیدا کر دیتی ہے، لیکن جب گہری نگاہ سے اسے ٹٹولا، تو اسے محض جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری پایا۔ یورپ جانے سے پہلے اقبال نے وطن کی محبت،بلکہ پرستش تک کے جذبہ سے بعض نظمیں لکھی تھیں، لیکن یورپ جانے پر انہیں معلوم ہوا کہ وطن پرستی کا یہ نظریہ اور یہ جذبہ وہاں کیا گل کھلا رہا ہے اور اس کی آڑ میں اس براعظم کی تمام اقوام آیا دھاپی اور باہمی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔ یورپ والوں کی اس روش سے ان کی آنکھوں کے سامنے نیشنلزم اور وطنیت کے حسین تصورات کی ساری قلعی کھل گئی اور وہ حقیقت حال جان کر سخت مضطرب ہوگئے۔ بار بار ان کے ذہن میں یہ سوال سر اٹھانے لگا۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا طاقتور اسی طرح کمزور پر ظلم کرتا رہے گا۔ کیا دُنیا کو ان مصیبتوں سے بچانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ان سوالات کا جواب بالآخر انہیں وہیں سے ملا، جہاں سے کہ یہ ملنا چاہتے تھا اور جب انہوں نے اسلام کی تعلیمات پر غور کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ دُنیا میں تنہا صرف یہی ایک ایسا دین ہے جس کے نظام کی بنیاد عالمگیر اخوت اور مساوات پر قائم کی گئی ہے اور جس کی نظر میں ایک کلمہ کے دہرانے کے ساتھ ہی دنیا کی تمام مختلف نسلوں کے لوگ آن واحد میں ایک ناقابلِ شکست کنبہ کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ جہاں عربی اور عجمی، کالے اور گورے، آقا اور غلام کی کوئی تمیز نہیں،سب کے حقوق اور مفاد بھی یکساں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے اسی زمانے میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب مسلمانوں کے درمیان صحیح اسلامی افکار اُبھارنے اور گری ہوئی قوم کو اُٹھانے پر اپنی شاعری کی ساری خدا داد قوت صرف کر دیں گے، چنانچہ اس زمانے میں انہوں نے اہلِ یورپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا:

دیار مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا

اور پھر:

میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارداں کو

شرر فشاں ہو گی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہو گا

اپنے اس ارادہ کی وجہ سے انہوں نے اُردو کی بجائے فارسی زبان کو اپنی شاعری کا ذریعہ اظہار بنایا۔ ایک تو فارسی مقابلتاً زیادہ وسیع زبان تھی اور اس میں اعلیٰ درجہ کے مضامین کا زیادہ خوبی سے کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے اب وہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے، صرف ہندی مسلمانوں کے لئے نہیں کہنا چاہتے تھے بلکہ ان کے پیش نظر ساری دُنیا کے مسلمان تھے اور اس لئے فارسی کے سوا اور کوئی زبان انہیں موزوں نظر نہ آئی۔

اقبال جنوری1908ء میں یورپ سے واپس آئے اور گورنمنٹ کالج کی ملازمت ترک کرکے انہوں نے وکالت شروع کر دی۔ اب ان کا دھیان پوری طرح اسلام کی طرف ہو گیا تھا اور وہ احیائے قوم کی کوشش میں مشغول ہو گئے۔ اس زمانے میں اطالیہ نے ترکی سے طرابلس چھین لیا اور ساتھ ہی بلقان میں ترکوں کے خلاف جنگ چھڑ گئی۔ ترک چونکہ اس وقت اسلامی خلافت کے علم بردار تھے، لہٰذا عالمِ اسلام میں اس پر سخت تشویش پیدا ہوئی۔ اقبال کی طبیعت پر بھی ان واقعات کا بہت اثر ہوا، چنانچہ آپ نے اس زمانے میں اپنی مشہور نظم ’’شکو ہ‘‘ لکھی۔ ان کی دوسری مشہور نظم ’’طرابلس کے شہیدوں کا لہو‘‘ بھی اس زمانے کی یادگار ہے۔ ان نظموں نے مسلمانوں کے جذبات کی بیداری میں بہت کام کیا۔

اقبال نے یورپ سے واپس آکر جب وکالت کا آغاز کیا تو مسلمانوں میں خال خال ولایت پلٹ بیرسٹر حضرات ملتے تھے۔ لہٰذا وہ اگر چاہتے تو اپنے لئے بے اندازہ دولت جمع کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے متاع دنیا کی بجائے اپنی نگاہیں اس وقت بھی اس اعلیٰ مقصد کی جانب مبذول رکھیں، جسے وہ اپنی زندگی کا نصب العین بنا چکے تھے اور وہ تھا شاعری کے ذریعہ ملت کے احیا کا مقصد۔ چنانچہ وکالت کے لئے صرف اسی قدر مقدمے لیتے تھے، جن سے ان کی گزر بسر کا سامان ہو جائے اور باقی وقت اپنی علمی سرگرمیوں کی نذر کرد یتے تھے۔

1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوگئی۔ اقبال اس زمانے میں اپنی مشہور مثنوی ’’اسرار خودی‘‘ لکھنے میں مصروف تھے۔ ان کی یہ کتاب 1915ء میں شائع ہوگئی اور پھر اس کے دو سال بعد اسی سلسلہ کی دوسری کتاب ’’رموز بے خودی‘‘ بھی اشاعت پذیر ہوگئی۔ ان دونوں کتابوں کی اشاعت نے لوگوں کو چونکا دیا۔ ان کے اندر اقبال نے اپنا مشہور فلسفہ خودی پیش کیا اور ملت اسلامیہ کے سامنے حیات نو کا ایک دروازہ کھول دیا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ دونوں کتابیں اقبال کے افکار اسلامی کی بنیادی کتابیں ہیں اور اکثر کہا جاتا ہے کہ بعض لوگوں نے صرف اقبال کی یہ کتابیں پڑھنے کے لئے فارسی شروع کر دی تھی۔

1918ء میں جنگ عظیم کے خاتمہ کے ساتھ ہی ہندوستان کو دولت ایک کا تحفہ ملا، جس کے ذریعے ملک کے آزادی خواہ کارکنوں پر سختیوں کا آغاز ہوگیا۔ امرتسر کے مشہور جلیاں والے باغ کا واقعہ انھی دنوں میں پیش آیا اور خلافت کی تحریک بھی اسی زمانے میں شروع ہوئی۔ اقبال کی دو طویل نظمیں ’’خضر راہ‘‘ اور ’’طلوع اسلام‘‘ اسی دور کی یادگار ہیں۔ انھی دنوں ان کی دو کتابیں ’’بانگ درا‘‘ اور ’’پیامِ مشرق‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’بانگ درا‘‘ میں کئی پرانی نظمیں تھیں لیکن ’’پیامِ مشرق‘‘ بزبان فارسی ایک نیا مجموعہ کلام تھا اور یہ انہوں نے جرمنی کے مشہور شاعر گونٹے کے ایک دیوان کے جواب میں لکھا تھا۔ چنانچہ یورپی ممالک میں اس کا خوب چرچا ہوا اور وہاں کی کئی زبانوں میں اس کے تراجم شائع کئے گئے۔

1926ء میں اقبال لوگوں کے مطالبہ سے متاثر ہوکر لاہورکے حلقہ سے کونسل کی ممبری کے لئے کھڑے ہوکر کامیاب ہوئے اور پنجاب کے سیاسی معاملات میں حصہ لیتے لگے، لیکن یہ فضا انہیں راس نہ آئی۔ ایک تو اس وجہ سے کہ کونسل کے اختیارات محدود تھے اور دوسرے ان کی طبع سادہ سیاسی داؤ پیچ کو اختیار نہ کرسکی۔ اسی زمانے میں ان کی ایک کتاب فارسی ’’زبور عجم‘‘ کے نام سے شائع ہوئی، جس میں انہوں نے خودی کا فلسفہ کو زیادہ کھول کر بیان کیا۔ (جاری ہے)

1928ء میں انہوں نے ایک دعوت پر مدارس جا کر اپنے مشہور لیکچر پیش کیے، جن کا اردو ترجمہ بعد میں ’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ان لیکچروں میں اسلام کے متعلق بڑی دقیق اور مفید باتیں بیان کی گئی ہیں۔ 1930ء میں مسلم لیگ نے اپنا سالانہ جلسہ الٰہ آباد میں کیا اور ڈاکٹر اقبال کو اس کا صدر چنا گیا۔ انہوں نے اس موقع پر جو صدارتی تقریر کی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اگر پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ کو ملا کر مسلمانوں کی ایک علیحدہ حکومت بنا دی جائے تو ہند و مسلمانوں کے جھگڑے خود بخود مٹ جائیں گے۔ ان کی اس تقریر کو بجا طور پر تصور پاکستان کی بنیاد کہا جاتا ہے، کچھ عرصہ بعد ہندوستان کے طرز حکومت کا ڈھانچا تیار کرنے کے لئے لندن میں گول میز کانفرنس منعقد کی گئی، جس کے ہندوستانی نمائندوں میں ڈاکٹر اقبال بھی شامل تھے۔ آپ نے واپسی پر اطالیہ، مصر اور فلسطین کی بھی سیاحت کی۔ اگلے سال وہ پھر یورپ گئے اور اس دورے میں ہسپانیہ کی سیاحت بھی کی، وہاں پہنچ کر جب انہیں مسلمانوں کی پرانی شوکت کی نشانیاں دیکھنے کا اتفاق ہوا، تو ان پر بہت اثر ہوا۔ چنانچہ انہوں نے ہسپانیہ کے قیام کے دوران میں کئی اردو نظمیں لکھیں۔ جن میں ایک نظم تو انہوں نے قرطبہ کی مسجد میں بیٹھ کر کہی تھی اور اس کا عنوان بھی ’’مسجد قرطبہ‘‘ ہے۔ چند شعر سنیے:

تیرا جلال و جمال مردِ خدا کی دلیل

وہ بھی جلیل و جمیل، تو بھی جلیل و جمیل

آئینہ ارباب فن، سطوتِ دین مبیں

تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں

ہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیر

قلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیں

آہ! وہ مروان حق وہ عربی شہسوار

حامل خلق عظیم، صاحب صدق و یقیں

جن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غرب

ظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں

اپنی زندگی میں اقبال نے کچھ تو طبیعت کی غیر مناسبت اور کچھ خرابی صحت کے باعث عملی سیاست میں زیادہ حصہ نہیں لیا، لیکن وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کسی نہ کسی حد تک پنجاب میں مسلم لیگ کے ضرور ہم نوا رہے۔1932ء میں ڈاکٹر اقبال کے ایک اور کتاب شائع ہوئی، جس کا نام انہوں نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام پر ’’جاوید نامہ‘‘ رکھا تھا۔ اس کتاب میں شاعر نے ایک عجیب طرز پر آسمان کی سیر کے حالات بیان کرتے ہوئے کئی علمی مسائل کی گتھیاں سلجھائیں اور حقائق زندگی کے راز کھولے۔ ادبی لحاظ سے یہ کتاب ایک بے نظیر شاہکار ہے۔ 1935ء میں ان کی اردو نظموں کا ایک اور مجموعہ ’’بال جبریل‘‘ چھپا اور اس کے ڈیڑھ سال بعد ’’ضرب کلیم‘‘ شائع ہوئی۔ ’’بال جبریل‘‘ علامہ اقبال ؒ کی اُردو کتابوں میں سے سب سے اونچا درجہ رکھتی ہے اور ان کے کلام کے ایک ارتقائی دور کی مظہر ہے، ’’ضرب کلیم‘‘ زیادہ تر ان کے سیاسی تبصروں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں سے بھی فکر و نظر پر خوب خوب بات کی گئی ہیں۔ اطالیہ نے جب حبشہ پر قبضہ کیا تو انہوں نے ایک اور فارسی ’’مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘‘ کے نام سے لکھی۔ اس مثنوی کے بعد ان کی کوئی اور کتاب ان کی زندگی میں شائع نہیں ہوئی۔

1934ء میں اقبال کو یکایک گلے کی ایک تکلیف ہو گئی، جس کی وجہ سے ان کی آواز بیٹھ گئی اور بہت علاج کرانے کے باوجود بقیہ زندگی یہ تکلیف قائم رہی۔ پھر انہوں نے ہائی کورٹ جانا بھی چھوڑ دیا۔ کچھ عرصہ بعد نواب صاحب بھوپال نے آپ کا پانچ سو روپیہ وظیفہ مقرر کر دیا جو وفات تک انہیں برابر ملتا رہا۔ 1935ء میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا، جس کا ان پر بہت اثر ہوا۔ 1936ء میں انہیں موتیا بند اور اس کے ساتھ ہی سانس پھولنے کی بھی شکایت ہوگئی۔ دسمبر 1937ء میں ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ معالج حضرات نے شدید دمہ تشخیص کیا۔ آخر کار علامہ نے21 اپریل 1938ء کو اپنی کوٹھی جاوید منزل لاہور میں داعی اجل کو لبیک کیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر65 سال سے اوپر تھی۔

زندگی کے آخری ایام میں علامہ اقبال کو حج بیت اللہ کا شدید اشتیاق پیدا ہوگیا تھا، لیکن وہ بوجہ خرابی صحت اپنے اس ارادے کی تکمیل نہ فرما سکے۔ حالاں کہ وہ اپنی وفات سے سال ڈیڑھ سال پہلے اس کی تیاریوں میں مشغول رہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بہت سا کلام محض اس غرض سے کہا کہ حج سے واپسی پر اسے قوم کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کریں گے، لیکن قدرت نے ایسا موقع نہ آنے دیا اور ان کا یہ کلام جو زیادہ تر فارسی رباعیات پر مشتمل ہے، ان کو موت کے بعد ’’ارمغان حجاز‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ یہ کتاب اسلام سے ان کی محبت و شگفتگی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے بے پناہ عشق کی زبردست آئینہ دار ہے۔

علامہ اقبال جب تک جیے، مخلوق کا مرجع بن کر جیے۔ یورپ سے واپسی کے بعد تو ان کی ذات خاص طور پر افراد ملت کے نزدیک حد درجہ محبوب ہوگئی تھی۔ چنانچہ ان کی قیام گاہ ہر وقت مرجع خاص و عام بنی رہتی تھی۔ جس میں جاہل و فاضل، بزرگ اور نوجوان، علما و مشائخ اور ادیب و دانش رو نیز طلبہ و اساتذہ ہر قسم کے لوگ شامل ہوتے تھے۔ اقبال ہر ایک کے ساتھ یکساں مروت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ ان کی ذات سادگی، شرافت اور عام محبت کی مومنانہ صفات کا مرقع تھی۔ ان میں دُنیاوی بڑائی کا ذرہ برابر حصہ نہ پایا جاتا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ ایک دُنیا کے دِل پر حکومت کرتے تھے۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں دینی و سیاسی طور پر حیات نو کا جو احساس پیداہوا، اس میں اقبال کی کوششوں سے آج کوئی کور نظر ہی انکار کر سکتا ہے۔ خصوصاً ہماری نئی نسل کو الحاد و بے دینی اور مغربی علوم کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے جس شخصیت نے ماضی میں سب سے زیادہ کام کیا ہے، وہ ڈاکٹر اقبال کی ذات گرامی ہے۔ اس شہادت کے لئے ایک نوجوان مسلمان کے مضمون کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے، آپ ڈاکٹر اقبال سے متاثر ہوکر لکھتے ہیں:

’’انہوں نے اپنے اندر وہ یقین پیدا کر لیا تھا جو دُنیا میں ایمان پھیلاتا ہے اور زندگی کا سارا بوجھ سنبھال لیتا ہے۔ ان کے ذہن میں انسانیت کا جو تصور تھا وہ وہی ہے جس نے دُنیا کو بارہا نئی دُنیا بنا دیا ہے۔ کم تر درجہ کی شخصیتیں سمندر کی کشتیوں کی مانند ہوتی ہیں۔ جو صرف دوسروں کے سہارے سفر کر سکتی ہیں۔ ان کشتیوں کا بھلا اس موج سے کیا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، جو سمندر کی تھاہ لیتی ہے۔ اس کی گہرائیوں کو رندتی ہے، وہ ہوا کو للکارتی ہے کہ دم ہو تو اپنا زور دکھا، آسمان سے کہتی ہے کہ ذرا اونچا ہوسکتا ہو تو ہو جا، اے ساحل سے عداوت ہوتی ہے، وہ آپ اپنی منزل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اقبال کی شخصیت ایک ایسی ہی موج تھی، اس کا سمندر عالم اسلام تھا اور اس کی منزل رضائے الٰہی تھی۔ مَیں جو کہ سمندر کا محض ایک قطرہ ہوں، اس موج کی پہنائی کا بھلا کس طرح اندازہ لگا سکتا ہوں، میں تو بس یہ جانتا ہوں کہ یہ موج نہ ہوتی تو کوئی نہ تھا، جو مجھے اپنے آغوش میں لیتا اور اتنا اونچا اٹھا دیتا کہ سمندر کو دیکھوں، اس کی وسعت پرنظر دوڑاؤں، دونوں جہانوں پر نگاہ ڈالوں اور تھوڑی دیر کے لئے سمجھ لوں کہ قطرہ کی بھی یہ ہستی ہوتی ہے۔‘‘

اس نوجوان کا یہ احساس کوئی منفرد حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ اسے اس دور کے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کی آواز سمجھنا چاہئے کہ اقبال نے اپنی آتش نوائی سے واقعی قوم میں زندگی کی ایک نئی روح پھونک دی، اوربھلا ایسا کیوں نہ ہوتا، یہ اقبال ہی تو تھا جس نے بصد سوز و گداز اور بہزار صدق و خلوص بارہا یہ دعائیں کی تھیں:

شراب کہن پھر پلا ساقیا

وہی جام گردش میں لا ساقیا

مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا

مری خاک جگنو بنا کر اڑا

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے

دل مرتضےٰ سوزِ صدیق دے

جگر سے وہی تیر پھر پار کر

تمنا کو سینوں میں بیدار کر

ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر

زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر

جوانوں کو سوز جگر بخش دے

مرا عشق میری نظر بخش دے

انگیں مری آرزوئیں مری

امیدیں مری جستجوئیں مری!

مرا دل مری رزم گاہ حیات

گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات

یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر

اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

مرے قافلے میں لٹا دے اسے

لٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے

مزید :

کالم -