’’سٹیٹس کو ‘‘کیخلاف بغاوت

’’سٹیٹس کو ‘‘کیخلاف بغاوت
 ’’سٹیٹس کو ‘‘کیخلاف بغاوت

  

امریکہ کی تاریخ میں جب پہلی بار ایک سیاہ فام شخصیت باراک حسین اوبامہ کو صدر منتخب کیا گیا تو وہ بھی ایک بہت بڑی تبدیلی تھی ، اس موقع پر دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے غیر معمولی جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے تھے ، راقم کو صدر اوبامہ کی 2009میں تخت نشینی کی تقریب میں شرکت کا تاریخی موقع ملا ،صدر اوبامہ کی حلف برداری کی تقریب میں کیپیٹل ہل کے سامنے طویل ایونیو میں تقریبا30لاکھ امریکی اس تاریخی موقع کو دیکھنے کیلئے بے تابی سے موجود تھے ، میں روزنامہ ڈان کے واشنگٹن میں نمائندہ انور اقبال کے ہمراہ 4ڈگری سینٹی گریڈ کی سخت چبھتی ہوئی سردی میں سٹیج سے چند گز کے فاصلے پر موجود تھے جیسے ہی صدر اوبامہ نے حلف اٹھایا لاکھوں لوگ فرط جذبات سے ایک دوسرے سے بغل گیر ہوگئے ،میرے ارد گرد درجنوں نوجوان گوریاں جذبات سے مغلوب ہوکر رو رہی تھیں ، لوگ خوشی کا اظہار کررہے تھے کیپیٹل ہل سمیت پورے واشنگٹن ڈی سی میں جشن کا سماں تھا ،ڈیموکریٹس امریکی اس بات پر نازاں تھے کہ جمہوری امریکی ریاست کے انکے بانی آباؤ اجداد کے وژن کے مطابق وہ اس ذہنی بلوغت پر پہنچ گئے ہیں جہاں کسی گورے کو کالے پر برتری نہیں ،درحقیقت امریکی سماج کی تاریخ کے تناظر میں یہ واقعی ایک بڑی جوہری تبدیلی تھی ، ری پبلکن دور میں سینئر اور جونئیر بش نے جن عالمی تنازعات کو جنم دیا اور اقوام عالم کو جو زخم لگائے صدر اوبامہ نے ان تنازعات کا خاتمہ کرتے ہوئے دنیا کے زخموں پر مرہم لگانے کی کوشش کی ، امریکہ کو عراق اور افغانستان کی جنگوں کی دلدل سے نکالا ، لیکن 9/11،پھر اس پر صدر بش کی قیادت میں امریکی عوام کا پیمانے سے چھلکنے والے رد عمل کا 8سال کا دورانیہ اور اس کے بعد صدر اوبامہ کی امریکہ کو جنگی ماحول سے نکال کر معمول پر لانے کی کوششوں کے نتیجہ میں امریکی عوام معاشی طورپراور ذہنی طورپر دباؤ کا شکار ہوتے چلے گئے ،اس پر مستزاد کہ 40سال اور اس سے زیادہ عمر کے بعض سفید فام ایک سیاہ فام شخصیت کی صدارت پر تبصرہ کرتے تھے کہ افسوس ہم اپنے ہی بنائے ہوئے ملک کی حکمرانی کے قابل نہیں رہے اس سوچ کے حامل سفید فام ایک طرف سے معاشی دباؤ کا شکار تھے تو دوسری جانب نیشنلزم کی عالمی وبائسے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ،امریکی عوام شائد اس صورتحال پر بہت Fatigueہوگئے تھے ، انہیں اس سے غرض نہیں رہی کہ صدر بش نے امریکہ کو جنگوں میں کیوں جھونکا اور صدر اوبامہ نے امریکہ کو دنیا کے ساتھ کس انداز میں تعلقات کے استوار کے ذریعے اس کے امیج کو بہتر کیا ، ایسا لگتا ہے کہ امریکی عوام نے اس بار دانش وری پر مبنی خارجہ پالیسی کو صدارتی انتخابات میں یکسر مسترد کردیا ، امریکیوں کی زندگیوں میں 9/11کے بعد تواتر سے معاشی ابتری آئی ،امریکہ کا ایک واحدسپر پاور کے طورپر پورے گلوب کو چلانے کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے امریکی عوام نے انکار کردیا ، درحقیقت امریکی عوام نے ’’سٹیٹس کو ‘‘کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے ایک طرح سے اس کے خلاف بغاوت کردی ہے ،اسی لیے تمام انتخابی جائزے تبصرے اور تجزیے غلط ثابت ہوگئے اور امریکہ کے انتخابی جائزوں کا ایک سائنٹیفک نظام اس انقلابی سوچ کی کھوج نہ لگاسکا، انہیں شائد اس سے غرض نہیں کہ اس کے تنائج کیا نکلیں گے ، کیا واقعی ان کے ووٹ سے امریکہ کا جمود ٹوٹ جائے گا اور ان کی زندگی میں معاشی بہتری آجائے گی ، میں ایک روز قبل بھی تحریر کر چکا ہوں کہ ترقی یافتہ ممالک کے اقوام کی یہ سوچ بالکل نئی نہیں اس سے قبل اسکے مظاہرے یورپ میں دیکھنے میں آچکے ہیں ، جبکہ حال ہی میں برطانیہ کی جانب سے سے یورپی یونین چھوڑنے کا برطانوی عوام کا فیصلہ شائد امریکی عوام کی جانب سے ٹرمپ کو منتخب کرنے کے فیصلہ سے زیادہ انقلابی تھا ، درحقیقت پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے عوام میں تو پہلے سے معاشی عدم مساوات کا احساس تھا لیکن اب ترقی یافتہ ممالک میں بھی سرمایہ کارانہ نظام میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے حوالے سے احساس جاگزین ہوگیا ہے کیونکہ دنیا کی آدھی دولت صرف دنیا کے پچا س لوگوں کے پاس ہے جوایک بس میں پورے آجاتے ہیں اور باقی دنیا کی آدھی دولت سات ارب لوگوں میں تقسیم ہوتی ہے ،امریکی عوام نے’’ سٹیٹس کو ‘‘اور پورے گلوب کو چلانے کی امریکی ذمہ داری کے اصول پر مبنی خارجہ پالیسی کی سیاست کو مسترد کردیا ہے ، امریکی عوام ایسا صدر چاہتے تھے جو سب سے پہلے ان کی معاشی ترقی کی طرف توجہ دے ،ڈونلڈ ٹرمپ نے معاشی بدحالی کے شکار امریکی عوام کو ایک ایسے خوشحال امریکہ کے سبز باغ دکھائے جہاں حقیقی امریکی عوام راج کرے ان کیلئے زیادہ آسانیاں اورامیگریشن کیلئے دشواریاں ہوں،ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کے سامنے دنیا سے امریکہ کے تعلقات کو سیاہ و سفید میں واضح طورپر تقسیم کردیا جبکہ اقوام عالم کے ساتھ تعلقات عمومی طورپر اتنے بلیک اینڈ وائیٹ نہیں ہوتے ، اگر چہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگوں کی ہمدردیاں ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کے ساتھ تھیں لیکن شاہد ہمارے سمیت وہ سب لوگ یہ بھول گئے کہ وہ امریکی ووٹرنہیں ہیں انکی پسند نا پسند امریکی الیکشن پراثرانداز نہیں ہوسکتی ، اس لئے پوری دنیا پر سکتہ طاری ہے ٹرمپ کا کارڈ چل گیا اور باوجود کہ ٹرمپ صدر بننے کے بعد امریکی نظام سیاست میں چیک اینڈ بیلنس کی بدولت شاہد وہ نہ کر سکیں جو انہوں نے انتخابی مہم کی تقریروں میں دعوے کئے لیکن اس کے باوجود ان کے دور صدارت کے آغاز کے بعد ایک نیا ورلڈ آرڈر آئیگا ، ٹرمپ کی انتخابی تقریروں کو دیکھ کر اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ ان کی داخلی وخارجی پالیسیاں دوٹوک ہونگی ، امریکی انتظامیہ داخلی ایشوز اور عالمی تنازعات پر فیصلہ کن رویہ اپنائے گی ، ان کے اس رویہ کی بدولت انکا انتخاب عالمی سطح پر ایک اپ سیٹ کے طورپر دیکھا جارہاہے ،امریکی عوام میں بھی تقسیم شدید ہے شائد امریکی صدارتی انتخابات کے بعد پہلی بار امریکی قوم اس قدر منقسم ہے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو ساس بہو کے تعلقات سے تشبیہہ دی جاتی ہے ، اب پاکستان کو ساس کی خوشنودی کیلئے زیادہ کوشش کرنا ہوگی تاہم گلوب پر پاکستان کی ایک مسلمہ سٹریٹجک پوزیشن کی بناء پر اس کیلئے شائد ٹرمپ کے اتنے سنگین اثرات نہ ہوں جتنے مڈل ایسٹ کیلئے نظر آرہے ہیں ٹرمپ کے دور میں مڈل ایسٹ کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن اقدام سامنے آئیں گے اس بدلتے ہوئے عالمی سیاست کے تھیٹر میں پاکستان اپنا ’’ہاؤس ان آرڈر‘‘ کئے بغیر نئے چیلنجز سے عہدہ برآں نہیں ہوسکتا ۔

مزید :

کالم -