سیاست ، انصاف کہاں ہے؟

سیاست ، انصاف کہاں ہے؟
سیاست ، انصاف کہاں ہے؟

  

لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن ذہن یکسو نہیں ہو پا رہا کہ دو روزتو سموگ سے کچھ چھٹکارا ملا لیکن آج پھر سے وہی اترتی نظر آ رہی ہے، یہ طبیعت کے بوجھل پن کا بھی ذریعہ بن گئی ہے، بہر حال لکھنا تو ہے، اس لئے قلم سنبھال لیااور آج ارادہ ہے کہ ایک ہی ہلے میں بہت کچھ کہہ لیا جائے، بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کی تشکیل اور ان کے منشور بڑے دل لبھانے والے ہوتے ہیں اگرچہ یہ سب نمائشی ہی رہتے ہیں کہ جب کوئی جماعت بر سراقتدار آتی ہے تو منشور کو طاق پر رکھ دیتی ہے اور اس لیڈرکا اپنا منشور شروع ہو جاتا ہے پاکستان پیپلز پارٹی ذو الفقار علی بھٹو نے بنائی تو طاقت کا سرچشمہ عوام اور سو شلزم معیشت تھا جو بتدریج اسلامی سوشلزم سے اسلامی مساوات ہوا، مشرف بہ اسلام ایک عالم دین نے اور مشاورتی نظام ایک دانشور کی تخلیق تھا، جی ہاں، اسلامی سوشلزم کا نعرہ محترم مولانا کو ثر علی نیازی نے میلہ رام بیرون بھاٹی دروازے متصل داتا دربار میں پان سگریٹ فروش یونین کے سالانہ اجلاس میں لگایا، جسے سید اکمل علیمی نے دل لگا کر لکھا اور روزنامہ امروز میں نمایاں شائع ہوا، اس کے بعد اسے بتدریج فتوؤں کی زد سے بچانے کا عمل شروع ہوا۔ محترم محمد حنیف رامے نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اسلامی مساوات کہنا شروع کردیا ان کا مجلہ ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ بھی یہی پر چار کرنے لگا، وجہ اس کی دائیں بازو کے شدت پسندوں کے فتوے تھے جنہوں نے سوشلزم کو کفر قرار دیا تھا، پیپلز پارٹی کا ایک نعرہ چونکہ ’’اسلام ہمارا دین ہے‘‘ بھی تھا اس لئے ان حضرات نے برابری کے معاشی نظام کو اسلام میں داخل کرادیا، یہ پارٹی غریبوں اور مزدوروں کی پارٹی ہے لیکن اس کی تنزلی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں ہوئی ۔

آج کل تحریک انصاف کا بھی چرچا ہے، پارٹی کے نام کے مطابق چیئرمین عمران خان انصاف کا پرچم اٹھائے پھرتے اور عوام سمیت اپنے لئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ خود ان کی اپنی جماعت میں انصاف دور دور تک نہیں ہے اور اب تو واحد طاقتور سربراہ جماعت کی حیثیت سے انہوں نے جماعتی انتخابات کا بستر بوریا گول کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن کے ساتھ کمیٹی اور انتخابی دفتر بھی ختم کر دیا ہے، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ماشاء اللہ عالم دین، تاریخ دان اور محقق ہیں وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے دین کا نظام لانا چاہتے ہیں لیکن ان کے اپنے فیصلے ان کے بیان اور منشور سے مختلف ہوتے ہیں، وہ دور اندیش ہیں اور لفافہ دیکھ کر مضمون بھی بھانپ لیتے ہیں، سنتے سب کی اور کرتے اپنی ہیں، یہ صاحب بھی انصاف ہی کے لئے قصاص تحریک چلا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور دوسری مسلم لیگیں ایک سے بڑھ کر ایک اور قائد اعظم محمد علی جناح کی فراست اور وراثت کی دعویدار ہیں وہ قائد اعظم جو قومی خزانے سے اپنے لئے ایک دمڑی بھی حرام قرار دیتے تھے۔ ثبوت کے لئے جناح پونجا کے خاندان کی حالت دیکھ لیں کہ کس کسمپرسی میں مبتلا ہیں حالانکہ خود جناح پونجا ایک بڑے تاجر تھے جنہوں نے اپنے صاحبزادے محمد علی جناح کو بیرسٹر بنایا۔

ان جماعتوں کی اقتدار والی کارکردگی ملاحظہ فرمائیں تو عوام کے نام پر ووٹ لے کر بھی عوام کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔

پہلے ہی عرض کیا تھا کہ ذہن یکسو نہیں، اس لئے بات اِدھر اُدھر نکلتی چلی گئی ، یہی دیکھ لیں کہ یہاں ڈاکٹر فاروق ستار، محترم عمران خان اور ہمارے محب پروفیسر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اور کئی دیگر سیاسی احباب اشتہاری مجرم ہیں، عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں۔ یہ صاحبان چھپے بھی نہیں سر عام پھرتے اور جلسے بھی کرتے ہیں، عدالت سختی اور برہمی سے حکم دیتی ہے کہ ان کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی بھی فرد ان کو گرفتار نہیں کرتا وہ کھلم کھلا پھرتے، پریس کانفرنسز اور جلسے کرتے اور تقریریں سناتے ہیں، اس سے کیا مرادلی جائے کہ یہ حضرات قومی رہنما ہیں، اور عدالت کے حکم کی پرواہ کئے بغیر پورے ملک میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، ان کی گرفتاری کی کوئی کوشش ہی نہیں کی جاتی، یہی حال عمران خان اور محترم ڈاکٹر طاہر القادری کا ہے کہ وہ بھی پاکستان آئے تو اعلیٰ حکام سے بھی ملتے رہے، انتظامیہ ان حضرات کی سیکیورٹی کے لئے تربیت یافتہ کمانڈو تعینات کرتی ہے، یوں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے یہ سب حضرات آزادانہ گھومتے پھرتے اور سیاست کرتے ہیں ، لیکن ان کو کوئی بھی گرفتار کر کے عدالت میں نہیں بھیجتا، یوں ایک ہی ملک کے قوانین عمل کے حوالے سے کسی کے لئے کچھ اور کسی کے لئے کچھ اور ہوتے ہیں۔

مزید :

کالم -