فرشتے کہاں سے لائیں؟

فرشتے کہاں سے لائیں؟
فرشتے کہاں سے لائیں؟

  

پاکستان میں فرشتے پیدا نہیں ہوتے، پھر بھی ہر کوئی فرشتوں کا ہی طلب گار ہے، سیکیورٹی اجلاس کی خبر لیک ہونے کے کیس پر حکومت نے جو انکوائری کمیٹی بٹھائی ہے،اُس کا سربراہ ریٹائرڈ جج کو بنایا گیا ہے،جن پر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے یہ کہہ کر اعتراض کر دیا ہے کہ وہ شریف فیملی کے ذاتی ملازم ہیں، اِس لئے اُن سے غیر جانبدارانہ انکوائری کی توقع نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے علاوہ بھی حکومت کسی کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ بناتی تو اُس پر بھی اِسی طرح اعتراض ہوتا، کیونکہ اب وطنِ عزیز میں کوئی فرشتہ رہا ہی نہیں، سب بشریت کے مختلف خانوں میں بانٹ دیئے گئے ہیں اور ہر خانے پر کوئی نہ کوئی نشان لگا ہوا ہے۔

وہ تو شکر ہے کہ ابھی حاضر سروس ججوں کے بارے میں احتیاط برتی جاتی ہے وگرنہ اُن پر بھی طعن و تنقید کے تیر تو چلانے والے بہت ہیں، مَیں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم ایک بے اعتبار معاشرہ بن کر رہ گئے ہیں ایسا معاشرہ، جس کے اندر یہ یقین باقی نہیں رہا کہ انصاف بھی ہو سکتا ہے اور مُلک میں سچ کا ساتھ دینے والے بھی بہت موجود ہیں۔ اب تو یہ سلسلہ ہی چل نکلا کہ ہر شخص پر عدم اعتماد کرنا ہے۔ اعتماد صرف اُس پر کرنا ہے جو اپنا ہو، جس نے اپنی وفاداری کا یقین دِلا دیا ہو، جہاں چیف الیکشن کمشنر یا چیئرمین نیب لگانے کے لئے میرٹ کی بجائے ذاتی مشاورت ہوتی ہو اور قابلیت و ایمانداری کی بجائے وفاداری کو پیش نظر رکھا جاتا ہو، وہاں اعتماد کہاں سے آئے۔ہمارے ہاں مسئلہ اب شاید یہ ہے کہ اپوزیشن والے فرشتے ڈھونڈتے ہیں اور حکومت اپنے وفادار، اس کشمکش میں رگڑا ہمارے ایمان، انصاف اور غیر جانبداری کا نکل جاتا ہے، حکومت بھی ان کاموں کے لئے ایسے نابغۂ روزگار افراد ڈھونڈ کر لاتی ہے کہ جن کا کوئی نہ کوئی خاص پس منظر ہوتا ہے۔ اب اس عمر میں ریٹائرڈ جسٹس عامر رضا کو یہ بھی سننا پڑ گیا ہے کہ وہ شریف فیملی کے ملازم ہیں۔ اُن کی اس جرأت کو بے معنی حقیقت سمجھ لیا گیا ہے کہ انہوں نے مشرف دور میں پی سی او جج کی حیثیت سے حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اگر ایک شخص اپنی سرکاری نوکری بچانے کی بجائے اپنے ضمیر کو بچاتا ہے تو یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ ایک پرائیویٹ نوکری کی خاطر وہ انصاف سے پہلو تہی کرے گا۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ اپوزیشن کے تابڑ توڑ حملے اسی طرح جاری رہے تو جسٹس(ریٹائرڈ) عامر رضا اس کمیٹی کی سربراہی سے معذرت ہی نہ کر لیں۔ یوں یہ معاملہ لٹک جائے گا اور کسی دوسرے فرشتے کی تلاش کے لئے پھر ایک لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔

اُدھر پانامہ لیکس کیس کو بھی فرشتے نہ ملنے کی وجہ سے متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ کیس کی سماعت بھی فرشتے نہیں،بلکہ انسان کر رہے ہیں، کیسی کیسی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری تو یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کو کلین چٹ دینے کی تیاریاں ہو رہی ہیں،انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ تحریک انصاف پر یہ الزام بھی لگا دیا ہے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ مُک مُکا کر چکی ہے اور میچ فکس ہو چکا ہے کل تک وہ عمران خان کی جدوجہد پر خراجِ تحسین پیش کرتے رہے ہیں،اب انہیں بے وفائی کے ساتھ ساتھ ’’بے ایمانی‘‘ کا طعنہ بھی دے رہے ہیں، وہ کہتے ہیں مجھے معلوم تھا اسلام آباد میں دھرنا نہیں ہو گا، مگر اس بات کا اُن کے پاس کیا جواب ہے کہ اگر دھرنا دینا اتنا ہی ضروری تھا تو انہوں نے دھرنے میں شرکت کیوں نہیں کی، کیوں اُن مصروفیات میں اُلجھے رہے جو دھرنے کی نسبت کہیں کمتر تھیں لگے ہاتھوں وہ اس بات کا بھی جواب دے دیں کہ وہ یورپی یونین کو شکایت لگانے کے بہانے ملک سے فرار کیوں ہوگئے شکایت تو اب تک لگا نہیں پائے پانامہ کیس کا فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کرنا ہے، پھر کلین چٹ عمران خان کیسے دلوا سکتے ہیں۔ اس کا تو صاف مطلب یہی ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی بالواسطہ طور پر عدم اعتماد کر رہے ہیں،مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دینے کی بجائے اُن کے جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ کے باہر صرف اپنی چہرہ نمائی کے لئے تحریک انصاف کے لیڈروں کو ننگی گالیاں دیتے ہیں اور کسی سیاسی اہمیت یا شناخت کے بغیر ایک بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھربھی ڈاکٹر طاہر القادری یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو کلین چٹ دینے کی سازش ہو رہی ہے۔ اصل کلین چٹ تو خود ڈاکٹر صاحب نے دی ہے۔ بار بار مُلک میں آنا، دو چار روز حکومت کے خلاف بیان بازی کر کے پھر بیرون مُلک گوشۂ عافیت میں چلّہ کشی کے لئے چلے جانا، کیا اس طرح کے غیر سنجیدہ رویئے سے حکومتیں بدلتی ہیں یا انقلاب آتے ہیں، پھر آپ تو خود ہی کہتے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کو نواز شریف کی کرپشن کا نوٹس لینا چاہئے، نوٹس لیا ہے تو اب بے اعتمادی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ مُلک میں کچھ اور قسم کے فرشتوں کا ذکر کیا جاتا تھا،انتخابات کے نتائج بدلتے تو کہا جاتا فرشتوں نے کام دکھا دیا ہے۔ کوئی سیاسی تحریک چلتی تو اُس کے پیچھے فرشتوں کی تلاش شروع کر دی جاتی۔ حالیہ دِنوں میں جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بینرز لگے تو اُس کے پیچھے بھی فرشتوں کا ہاتھ ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر آج حقیقت یہ ہے کہ فوج میں واقعی فرشتے بیٹھے ہیں،جنہوں نے صبر و ضبط کا دامن پکڑا ہوا ہے، جو یہ طے کر چکے ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے مُلک میں جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا، جو طعنے بھی سُن رہے ہیں اور تنقید کی بھی زد میں ہیں، مگر وہ اُس عالمِ بشریت میں آنے کو تیار نہیں، جو جمہوریت کی بساط لپیٹتی تھی اور وردی والا امیر المومنین بن جاتا تھا۔ فوجی قیادت کے اس جذبے اور رویئے کی تعریف کی جانی چاہئے،لیکن اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی مل کے فوج میں وہ روایتی فرشتے تلاش کرنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں، جو فی الوقت مکمل طور پر ناپید ہیں۔ ایک طرف ایماندار فرشتوں کو کوئی مانتا نہیں اور دوسری طرف ایسے فرشتوں کی موجودگی کا ذکر تواتر سے کیا جاتا ہے، جو اِس وقت کہیں موجود ہی نہیں۔

شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا میں کوئی مُلک یا معاشرہ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے، جب قومی ادارے بے توقیر ہو جائیں، تمیز بندہ و آقا صاف نظر آنے لگے، حتیٰ کہ نظام انصاف کی سب سے بڑی عدالت بھی اسی رویے کی زد میں آ جائے تو مُلک کیسے چلے، حالات کیسے بدلیں، آئین میں تو لکھا ہے کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان کسی بھی تنازعے یا کسی بھی مسئلے کے آئینی یا غیر آئینی ہونے کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گا، مگر آئین کے بڑے بڑے علمبردار بھی جب سیاست کے زیر اثر آتے ہیں،تو اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ پانامہ لیکس کیس کو سننے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں،کیونکہ یہ معاملہ پارلیمینٹ میں زیر بحث ہے۔پارلیمینٹ میں اگر کوئی معاملہ آ جائے تو کیا اُس کے بارے میں عدلیہ میں پہلے سے دائر درخواستوں کو سننے کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔یہ معاملہ کس حد تک پارلیمینٹ میں ہے، اُس کا اندازہ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے اُس احتجاج سے کیا جا سکتا ہے، جو انہوں نے پانامہ لیکس پر ٹی او آر بل کا مسودہ قائمہ کمیٹی میں پیش نہ کرنے پر کیا اور انہیں یہ جواب دیا گیا کہ معاملہ چونکہ سپریم کورٹ میں ہے،اِس لئے اس پر پارلیمینٹ میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ ایسے ابہام زدہ ماحول میں کون ہے جو صحیح راستے کا تعین کرے۔ظاہر ہے پھر فرشتوں کو ہی زمین پر آنا پڑے گا، جو فی الوقت ممکن نظر نہیں آتا، اِس لئے صورتِ حال بے یقینی کا شکار ہے۔

صرف خود کو فرشتہ بنا کر پیش کرنے کی رسم بد اب ختم ہونی چاہئے۔ کچھ باتیں دوسروں کے ضمیر پر بھی چھوڑ دینی چاہئیں،ہم انسانوں کی دُنیا میں رہ رہے ہیں، فرشتوں کی دُنیا ایک تخیلاتی جہان ہے، جسے ڈھونڈنے کی سعی کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ اسی ماحول سے اپنے ارادوں کی روایات اور کارکردگی کو بہتر بناکر ہم نے مستقبل کا راستہ نکالنا ہے۔ ہر بات پر اعتراض اور ہر شخص پر عدم اعتماد مسائل کو جنم تو دے سکتا ہے، اُن کا حل پیش نہیں کر سکتا۔ اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ موجودہ عہد میں کوئی فردِ واحد یا ادارہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کر سکتا۔ قوم کا اداروں پر اعتماد مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، اداروں پر سے اعتماد اُٹھ جائے توانارکی پھیلتی ہے، معاشروں کے لئے اس سے بڑی تباہی اور کوئی نہیں ہوتی۔

مزید :

کالم -