کل یومِ اقبال تھا!

کل یومِ اقبال تھا!
کل یومِ اقبال تھا!

  

کل قوم نے اقبال کا یومِ پیدائش منایا۔ وہ 9نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے اور یہ ان کا 139 واں یومِ پیدائش تھا۔ دنیا بھر میں کسی بھی زبان میں آج تک کوئی ایسا شاعر پیدا نہیں ہوا جس نے اپنی پس ماندہ اور غلام قوم کو نہ صرف درسِ بیداری دیا بلکہ اس کے لئے ایک الگ ملک کی تشکیل میں بھی عملاً حصہ لیا۔ اس تناظر میں وہ محض مفکرِ پاکستان نہیں تھے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بانیانِ پاکستان کے اُس قافلے کے رکنِ رکین بھی تھے جس نے حصولِ آزادی کے لئے کوشش و کاوش کی اور ہزار مخالفتوں کے باوجود ایک نیا ملک اور ایک نئی قوم کو متشکل کیا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اقبال کی ایسی تقاریر کا کوئی مجموعہ دستیاب نہیں جس میں انہوں نے کسی الگ اور تفصیلی انداز میں تشکیلِ پاکستان کے تانے بانے پر زور دیا ہو۔ ایک دو تقاریر ضرور ایسی ہیں جو ان کی فکر کی غماز ہیں اور چند خطوط بھی ہیں لیکن ان کی بیشتر فکر ان کی شاعری کی شکل میں موجود ہے جس میں انہوں نے غلامی سے آزادی تک کے سفر کی مشکلات کا ذکر بھی کیا ہے اور ساتھ ہی آزادی کی برکات کے گیت بھی گائے ہیں۔ اگر وہ نو دس برس اور زندہ رہتے تو شائد ان کی شاعری، ان کی عملی جدوجہدِ آزادی کے سامنے پس منظر میں چلی جاتی۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے تحریکِ آزادی کا جو پودا بویا تھا اور جوں ان کی زندگی ہی میں پروان چڑھنا شروع ہو گیا تھا، وہ اتنی جلد برگ و بار لے آئے گا۔ قوموں کی زندگی میں دس سال کا عرصہ بھی کوئی عرصہ ہوتا ہے؟ لیکن 21اپریل 1938ء سے 14 اگست 1947ء تک کے درمیان 9برس، 3ماہ اور 24دنوں میں اقبال کا دیرینہ اور بظاہر ناممکن خواب شرمندۂ تعبیر ہوگیا!۔۔۔ یہ واقعی ایک تاریخی معجزہ تھا۔ لیکن جس قوم نے اس معجزے کو ایک خیالی پیکر سے اٹھا کر ایک مادی پیکر میں ڈھالا، وہی قوم آج دربدر ہے۔ اسے ایک اور اقبال کی ضرورت ہے۔۔۔ ایک ایسے دوسرے اقبال کی جو تعمیرِ قوم کے پلازے کی خشتِ اول کو دیکھ کر اس کی خشتِ آخر کی تشکیل میں بھی اسی جانسوزی اور جدوجہد کا مظاہرہ کرے جو ’’پہلے اقبال‘‘ نے کیا تھا!

اس ’’پہلے اقبال‘‘ نے ایک اور بڑا کام بھی کیا تھا۔ اس نے اپنی غلام قوم کو جذبہ ء آزادی سے سرشار کرنے کے بعد کے مرحلے پر بھی ایک بسیط لیکچر دیا تھا جو اس کی اردو اور فارسی شاعری کی تصنیفات کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے اور جسے ہم نے ناقابلِ فہم وجوہات کی بناء پر یا تو پس پشت ڈال رکھا ہے یا پھر یکسر فراموش کر دیا ہے۔ ہم ہر سال 9نومبر اور 21اپریل کو اقبال کا یومِ پیدائش اور یومِ وفات تو مناتے ہیں لیکن ان کے ارشادات کی توضیح، تشریح اور ترویج کا کچھ خیال نہیں کرتے۔۔۔ اس کی شائد وجوہات بھی ہیں!ان وجوہات میں ایک بڑی وجہ شائد ان کی اپنی ذات ہے کہ انہوں نے اپنے ارشادات (کلام) کا دو تہائی حصہ فارسی میں نظم کیا جبکہ ایک تہائی اردو میں۔۔۔ اور وہ بھی ایسی اردو میں جو عام قاری کے دائرۂ تفہیم میں مشکل سے آتی اور سماتی ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اگر ایسا تھا تو ان کی حیات میں ان کی اسی مشکل شاعری نے غلام ہندوستان کے مسلمانوں کے سینوں میں آزادی کے جوالامکھی کس طرح اور کیسے روشن کر دیئے تھے؟۔۔۔ میں اس کا جواب یہ دوں گا کہ مسلم قوم میں قیامِ پاکستان سے قبل ایسے مترجم اور شارحین وافر تعداد میں موجود تھے جو حضرت علامہ کی بظاہر مشکل اردو اور فارسی شاعری کا ترجمہ اور تشریح کرنے کے نہ صرف اہل تھے بلکہ انہوں نے شاعر مشرق کے پیغام کی ترویج و اشاعت میں عملی طور پر بھی جدوجہد کی۔ انہوں نے تحریری اور زبانی طور پر اقبال کے مشکل کلام کو سلیس اردو میں ڈھال کر قارئین اور سامعین کے سامنے رکھا۔ نہ صرف اقبال بلکہ بانی ء پاکستان حضرت قائداعظم کے افکار و ارشادات کو بھی انگریزی زبان سے ترجمہ کرکے سلیس اور آسان اردو اور دوسری علاقائی زبانوں میں بیان کیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ 20ویں صدی کے نصف اول میں ایک اوسط ہندوستانی مسلمان کی تعلیم اور اس کی فکری استعداد کیا تھی۔ اس اَن پڑھ یا نیم خواندہ مسلمان تک اقبال اور جناح کی مشکل فارسی اور مشکل تر انگریزی کو سہل اور سادہ بنا کر جن لوگوں نے قوم کے سامنے پیش کیا، وہ بھی تشکیلِ پاکستان کے ویسے ہی قابلِ تحسین کردار ہیں جیسے مفکر پاکستان اور بانیء پاکستان خود تھے!۔۔۔

تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ جب پاکستان وجود میں آ گیا تو یہ ’’شارحین و مترجمین‘‘ اپنا مشن بھول گئے؟ یا ان کی جدوجہد میں وہ شدتِ شوق باقی نہ رہی جو 14اگست 1947ء سے پہلے تھی؟۔۔۔ یا وہ اتنے تھک چکے تھے کہ لمبی تان کر سو گئے اور حصولِ آزادی کے بعد ایک ’’طویل آرام‘‘ (Prolonged Rest) نے ان کو آ لیا؟۔۔۔ کیا ان پر لازم نہ تھا کہ وہ اس امر کا احساس کرتے کہ قیامِ پاکستان اگرچہ ان کی اولین منزل تھی لیکن تعمیرِ پاکستان کا مرحلہ، تشکیل پاکستان سے بھی کہیں زیادہ مشکل اور صبر آزما تھا۔۔۔ میرا خیال ہے ہم پاکستانیوں کے ساتھ یہی ’’ہاتھ‘‘ ہوا۔ ہم جو پاکستان کے قیام کے بعد نئی نسل کہلاتے تھے، ہم نے ان بزرگوں کی قدر نہ کی جو ’’طویل آرام‘‘ کر رہے تھے۔ ہمارا فرض تھا کہ ان سے اس ریلے ریس کا ڈنڈا (Batton) تھام لیتے!۔۔۔شائد یہ ہماری کم عمری تھی، کم عقلی تھی یا کم فہمی تھی کہ ہم نے ان بزرگوں سے ارشاداتِ اقبال اور فرمودات قائد کی مشکل نظم و نثر کی وضاحت، تشریح اور توضیح طلب کرنے کی روائت کا سلسلہ آگے نہ بڑھایا۔

آج قائداعظم کی تقاریر کی کئی مبسوط جلدیں اردو زبان میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ اسی طرح شاعرِ مشرق کی فارسی اور اردو تصنیفاتِ شعر کی شرحیں بھی دستیاب ہیں لیکن یا تو ہم نے ان سے عمداً صرفِ نظر کیا ہوا ہے، یا سرکاری سطح پران کی تدریس و ترویج کا کوئی اہتمام نہیں یا نجی سطح پر کسی ادارے یا NGO نے ان بانیانِ پاکستان کے افکار و ارشادات کی تفہیم کو عام کرنے کی طرف نوجوانانِ قوم کی رہنمائی نہیں کی۔۔۔ میرا خیال ہے، یہ تینوں وجوہات وہ اہم اور کلیدی وجوہات ہیں جن سے ہم نے اب تک پہلو تہی کر رکھی ہے۔۔۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر اس مرض کا کیا علاج ہے؟ آئیے اس پر تھوڑا سا مزید غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں کس طبقے کو اس ضمن میں کیا کرنا چاہیے۔

سب سے پہلے معاشرے کو اس استاد کی تلاش کرنی چاہیے جوکلامِ اقبال کا شناساہو اور وہ مخاطبین کو سمجھا سکے کہ اقبال کا کلام کیا ہے اور ان کا مقصود نظر کیا تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ استاد کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی وغیرہ میں پڑھاتا رہا ہو۔ مجھے بہت سے ایسے حضرات یاد آ رہے ہیں جو کلامِ اقبال کے شناسا تھے لیکن ان کا پیشہ معلمی نہیں تھا۔ علاوہ ازیں سکولوں، کالجوں اور جامعات میں ایسے کئی اساتذہ مل جائیں گے جو اردو یا فارسی کے ٹیچر نہیں ہوں گے، ان کے مضامینِ تدریس اور ہوں گے لیکن اقبال کے کلام پران کی گہری نظر ہوگی۔ ان کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کے اربابِ بست و کشاد کا فرض ہے کہ وہ گاہ گاہ ایسے حضرات و خواتین کو ڈھونڈ کر انہیں اپنے اداروں میں بطور گیسٹ سپیکر بلوانے کی طرح ڈالیں!

دوسرے کلامِ اقبال کے ان حصوں کا انتخاب کیا جائے جن میں قیادت، کردار سازی،کشمکشِ حیات اور اسلامی تشخص کا تذکرہ ہو۔ اس انتخاب کو فارسی اور اردو میں ( بمعہ ترجمعہ و تشریح) الگ الگ ایک باتصویر کتابچے کی صورت میں شائع کیا جائے اور ان کی وسیع تر تقسیم کا اہتمام کیا جائے۔ بہت سے اسلام پسند حضرات اور ادارے اسلامی اقوال وغیرہ کو اکثر طبع کروا کر مفت تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی سلوک ’’کلامِ اقبال‘‘ سے بھی کردیں تو کیا ’’ہرج‘‘ ہے؟

کلامِ اقبال کے جن موضوعات پر زیادہ زور دیا جاتا ہے وہ ان کا فلسفہ خودی، شاہین،مردِ مومن، جہاد، وطنیت اور آزادی وغیرہ ہیں۔ تاہم ان کی تشریح و تبلیغ کے سلسلے میں جو زبان اختیار کی جاتی ہے وہ ازراہِ احتیاج ہی سہی، آسان نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں اقبال کے کسی فکری پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے ہم جن اشعارِ اقبال کا حوالہ دیتے ہیں، وہ نفس موضوع سے یا تو ہٹ کر ہوتے ہیں یا ان کی زبان زیادہ مشکل ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں اصل کام اقبال کے شارح اور ترجمہ کے کرنے والے کا ہے۔ کسی بھی شرح کرنے والے یا ترجمہ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اقبال کے ادق اور مشکل لسانی پہلوؤں کو آسان اردو (اور اگر ضرورت ہو تو مقامی بولی/ زبان یعنی پنجابی ، سندھی، پشتو، بلوچی اور شینا وغیرہ) میں اپنے سامین کو سمجھائے۔

ایک اور پہلو جس کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کلامِ اقبال کا مطالعہ اس مقصد کے لئے نہ کیا جائے کہ اس سے روزگار ملنے میں کوئی آسانی ہوگی۔ اس روش کو اقبال نے خود یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا:

وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں

جس علم کا حاصل ہو جہاں میں دوکفِ جو

اور مولانا روم نے تو اس نقطہ نظر سے شدید اختلاف کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا:

علم را برتن زنی مارے بود

علم را بر جاں زنی یارے بود

پاکستان کی سول سوسائٹی کو کلامِ اقبال اور فکرِ اقبال کی ترسیل و ترویج میں آگے آنے چاہیے۔ ہمارے ہاں بہت سے خیراتی اور فلاحی ادارے سرگرم عمل ہیں۔ ان کا کام غریب اور حاجت مند پاکستانیوں کی مالی مدد ہے۔ اسی طرح بہت سے فیکٹری مالکان اور دیگر کاروباری اداروں کے سر پرست اور سربراہ بھی ہوں گے جو ضرورت مند پاکستانیوں کی مالی ،طبی، مذہبی اور اخلاقی ضروریات وغیرہ کا خیال رکھتے ہوں گے۔ کیا عجب ان کے دل میں کبھی یہ خیال بھی آ جائے کہ فکرِ اقبال کو عام کرنے کے لئے بھی اگر ان کا ہاتھ ان کی جیب کی طرف اٹھ جائے تو یہ ثواب اسی طرح کا ثواب ہوگا جس کا ذکر حضرت وارث شاہ نے ہیر کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کیا تھا:

کہی ہیر دی کرے تعریف شاعر متھے چمکدا حسن مہتاب دا جی

چلو لیلتہ القدر دی کرو زیارت، وارث شاہ ایہہ کم ثواب دا جی

مزید :

کالم -