امریکہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے

امریکہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے

  

امریکی ووٹروں نے اپنے ہم وطن تجزیہ نگاروں اور دُنیا بھر کے سیاسی پنڈتوں کو غلط ثابت کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا45واں صدر منتخب کر لیا ہے، جن کی مخالفت کا یہ عالم تھا کہ اُن کی اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کے بڑے بڑے رہنما اُن کے حق میں نہیں تھے، نامزدگی کے مراحل میں بھی اُن کی مخالفت کی گئی تھی اب جب وہ جیت گئے ہیں تو دُنیا انگشت بدنداں ہونے کے ساتھ ساتھ رسم کے مطابق مبارکیں بھی دے رہی ہے، یورپی یونین نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے کے ساتھ ہی اپنے اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دے دی ہے جبکہ عالمی رہنماؤں کے مبارکباد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا، وزیراعظم نواز شریف نے بھی پیغامِ تہنیت ارسال کر دیا ہے۔

صدر منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جو تقریر کی اس میں انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کی خدمت کریں گے، امریکہ کا مفاد اُن کی پہلی ترجیح ہوگا۔امریکہ کے لئے اُن کے پاس مثبت اقتصادی پالیسی ہے،جو قومیں ساتھ چلنا چاہیں گی اُن کے ساتھ چلیں گے۔ اپنی انتخابی مہم میں وہ جس طرح کے انتہا پسندانہ خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور امریکی عوام کے بعض طبقات کے خلاف ایسے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں،جنہیں پسندنہیں کیا گیا۔ کامیابی کے بعد کی تقریر میں اُن کا شائبہ تک نہ تھا اور یہ ایک معتدل اور متوازن تقریر تھی تاہم ایسی تقاریر عام طور پر رسمی ہوتی ہیں اور کامیابی کے بعد سابقہ بہت سے صدور کی تقریروں کو اگر یاد کیا جائے تو ان میں اور نومنتخب صدر کی تقریر میں بڑی حد تک مماثلت نظر آئے گی۔ اِس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب رسمی باتیں ہیں۔اب اصل اہمیت اِس بات کی ہو گی کہ نئے امریکی صدر کون سی پالیسیاں اپناتے ہیں اور کس حد تک اپنی پارٹی کی لائن پر چلتے ہیں،کیونکہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران جن خیالات کا اظہار کیا پارٹی اسٹیبلشمنٹ نے اُسے پسند نہیں کیا تھا۔

امریکہ اِس وقت دُنیا کی واحد سپر طاقت ہے، دوسری سپر طاقت سوویت یونین کی یہ حیثیت افغانوں نے ختم کر دی تھی اب روس دوبارہ عالمی امور میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے، اور شاید پہلی بار ایسا ہو گا کہ امریکی صدر روس کے بارے میں بھی نیک خواہشات کا اظہار کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب تک روس کا ذکر اچھے لفظوں میں کرتے رہے ہیں اور روسی صدر پیوٹن بھی انتخابی مہم میں ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے،اِس لئے اب جبکہ اُن کا پسندیدہ امیدوار کامیاب ہو گیا ہے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں مُلک بہتر تعلقات کی سمت گامزن ہوں گے۔روسی صدر نے توقع بھی ظاہر کی ہے کہ اب روس اور امریکہ کے مثبت تعلقات کے لئے مذاکرات ہوں گے۔سرد جنگ تو عرصہ ہوا ختم ہو گئی، اب اگر دونوں مُلک مل کر دُنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسے ایک مثبت تبدیلی سے تعبیر کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران عراق جنگ اور افغان جنگ کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں،اِس لئے امید رکھنی چاہئے کہ اب وہ اِن دونوں خطوں کے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کریں گے۔اگرچہ صدر باراک اوباما بھی افغان جنگ کے خلاف تھے اور وہاں سے امریکی افواج واپس بلانے کے بڑے سرگرم وکیل تھے اس کے باوجود جب وہ صدر بنے تو انہوں نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کی بجائے اس میں مزید اضافہ کر دیا۔اگرچہ یہ اضافہ فوجی کمانڈروں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مشورے پرکیا گیا، اس کے باوجود جو امریکی افغانستان سے فوج واپس بلانے کے حق میں تھے انہوں نے اوباما کے اِس اقدام کو پسند نہیں کیا،اِسی طرح اوباما نے گوانتانا موبے کا عقوبت خانہ بند کرنے کے بڑے دعوے کئے تھے، جو اب تک بند نہیں ہو سکا، اِس لئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ٹرمپ نے جو وعدے اور دعوے کئے ہیں،وہ پورے ہوں گے،لیکن انہیں اپنے کہے کا کچھ نہ کچھ تو پاس رکھنا ہو گا۔

اگرچہ امریکہ میں برسراقتدار جماعت بدل گئی ہے اور وائٹ ہاؤس کا مکین بھی نیا ہے اس کے باوجود دنیا اور جنوبی ایشیا کے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے،جہاں تک پاکستان اور بھارت کا تعلق ہے امریکہ اپنی حمایت کا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال چکا،اس کے معاشی مفادات کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اب امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بھی بھارت بن گیا ہے،جو اسلحے کے انبار لگا رہا ہے،اِس لئے امریکی اسلحہ ساز کمپنیاں اپنے کارخانے بھی بھارت منتقل کر رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کی سیاسی اور معاشی بنیاد بھی مضبوط ہے۔ امریکہ نے کھل کر بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رُکن بنانے کی حمایت کر دی ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ نیو کلیئر سپلائرز گروپ(این ایس جی) کے دروازے بھی اس پر چوپٹ کھول دیئے جائیں، اِس امر کے باوجود کہ بھارت نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے،لیکن دوغلی پالیسی کا یہ مظاہرہ برسر عام ہو رہا ہے کہ پاکستان کو تودستخط نہ کرنے کے ’’جرم‘‘ کی سزا دی جا رہی ہے اور بھارت کو نوازا جا رہا ہے۔چین نے اِس ضمن میں جرأت مندانہ موقف اختیار نہ کیا ہوتا تو امریکہ کی حمایت کی وجہ سے اب تک بھارت کو این ایس جی کی رکنیت طشتری میں رکھ کر پیش کر دی گئی ہوتی۔ بھارت میں تو ٹرمپ کی جیت کے لئے بتوں سے منتیں بھی مانی جا رہی تھیں اور پوجا پاٹ بھی کی جا رہی تھی،اِس لئے ٹرمپ جنوبی ایشیا میں بھارت نواز پالیسی کو بہرحال جاری رکھیں گے۔البتہ انہوں نے افغانستان سے فوجیں واپس بُلا لیں تو یہ ایک بڑی تبدیلی ہو گی۔اگرچہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ سے بظاہر مطمئن دکھائی دیتا رہا ہے تاہم ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے، اِس لئے ٹرمپ کے عہد میں بھی یہی پالیسی جاری رہے گی اور اس میں کسی تبدیلی کا امکان بہت کم ہے۔

ایران کے بارے میں اب امریکی پالیسی کیا ہو گی یہ بڑا اہم سوال ہے امریکہ نے پانچ دوسرے یورپی ممالک سے مل کر ایران کے ساتھ جو کامیاب نیو کلیئر ڈیل کیا تھا صدر اوباما اسے اپنا بہت بڑا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہتے رہے ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے میں انہیں بڑی کامیابی ملی ہے۔ایران کو بم گریڈ یورینیم کی افزودگی سے روک دیا گیا تھا اور افزودہ یورینیم کے جو ذخائر ایران میں موجود تھے ایران انہیں ایٹمی طاقتوں کے پاس فروخت کرنے کے لئے بھی تیار ہو گیا تھا اس معاہدے کے بعد ایران پر بہت سی معاشی پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں تاہم امریکہ میں اوباما مخالف لابی اِس معاہدے سے خوش نہیں تھی اور امریکی کانگرس کے ارکان نے تمام تر سفارتی نزاکتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایرانی صدر کو ایک خط لکھ مارا تھا، جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ نیو کلیئر ڈیل سے انکار کر دیں،کیونکہ امریکہ کا نیا صدر یہ معاہدہ منسوخ کر دے گا۔ امریکہ میں اسرئیلی لابی بھی ہر حالت میں اس معاہدے کو ختم کرنے کے حق میں تھی، خود ایران میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای بھی اب اس معاہدے کے خلاف کھل کر اظہارِ خیال کرنے لگے ہیں، اِس لئے اس کا مستقبل کوئی زیادہ روشن نہیں۔ایرانی صدر حسن روحانی کے حامی اگر ایران میں کمزور ہوئے تو پھر اس معاہدے کے جاری رہنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

صدر اوباما کو اپنے پورے عہد میں یہ مسئلہ درپیش رہا کہ کانگرس میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان کی اکثریت نہیں تھی اور بل منظور کرانے کے لئے انتظامیہ کو کافی محنت کرنا پڑتی تھی۔ ہیلتھ کیئر بل اِس کی مثال ہے، جو بڑی مشکلوں سے پاس ہوا اور ری پبلکن ہمیشہ کہتے رہے کہ اُن کا صدر آیا تو یہ قانون ختم کر دیں گے۔ اب دیکھیں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ ٹرمپ کو کانگرس کے ساتھ وہ مشکلات درپیش نہیں ہوں گی، جو صدر اوباما کو پیش آتی رہیں، اب اگلے چار سال کے لئے امریکہ ٹرمپ کے حوالے ہے جن کے پاس اِس سے پہلے کوئی ادنیٰ سا سرکاری عہدہ بھی کبھی نہیں رہا، دیکھیں وہ کتنے کامیاب صدر ثابت ہوتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -