ڈونلڈ ٹرمپ 45ویں امریکی صدر منتخب

ڈونلڈ ٹرمپ 45ویں امریکی صدر منتخب

  

ہلیری روڈھم کلنٹن ایک پُر زور صدارتی مہم کے بعد اپنے مد مقابل امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ہار گئی ہیں۔ 218ووٹ کم نہیں ہیں لیکن امریکی ووٹروں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی زمامِ کار کسی خاتون کے ہاتھوں میں دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو اس کی عظمت رفتہ لوٹانے کا وعدہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی مفاد ہر حال میں سرفہرست ہو گا ۔ملک کی بہتری اور ترقی کے لئے ان کے پاس ٹھوس منصوبے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم ان ممالک کا ساتھ دیں گے جو ہمارا ساتھ دیں گے۔بیشتر امریکیوں کے لئے یہ تبدیلی اچانک اور پریشان کن ہے۔ ٹرمپ نے منتخب ہونے کے بعد اس بات کو سراہا کہ ہلیری نے ان کا بھرپور مقابلہ کیا ۔

امریکہ کی آزادی کو 241برس ہو رہے ہیں۔ 1789ء میں امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن سے لے کر باراک حسین اوباما کی صدارت تک کبھی کسی خاتون صدر نے امریکی حکومت کی باگ ڈور نہیں سنبھالی۔

ستمبر 2016ء میں ایک مستند امریکی اخبار ایری زونا ری پبلک نے جو 1890ء سے شائع ہو رہا ہے ایک حیران کن اعلان کیا۔ اخبار نے اپنی اشاعتی تاریخ میں پہلی بار کسی ڈیموکریٹ کی تائید کی تھی۔ ایری زونا ری پبلک نے ری پبلیکن خیالات کا حامی ہونے کے باوجود اپنے نمائندے کو ناموزوں قرار دیاتھا۔ یوں اخبار ان دو ہم عصروں کی فہرست میں شامل ہوگیا جنہوں نے ری پبلیکن نظریات رکھنے کے باوجود ایک ڈیمو کریٹ امید وار کے حق میں آواز بلند کی تھی۔ وہ گھڑی امریکی خواتین کے لئے تاریخی فتح کی گھڑی تھی جب ہلیری کلنٹن نے فلاڈلفیا میں ہونے والے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کی یاد گار تقریب میں امریکی صدر کے عہدے کے لئے اپنی پارٹی کی استدعا قبول کی تھی۔

ہلیری کلنٹن اپنی عمر کے 69ویں برس میں ہیں۔ امریکہ کے 42ویں صدر بل کلنٹن کی اہلیہ 2001ء میں امریکی سینٹ کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ وہ پہلی خاتون اول ہیں جنہیں یہ نمائندگی ملی تھی۔ 2009ء ہلیری 67ویں سیکرٹری آف سٹیٹ مقرر ہوئیں۔ انہوں نے 2013ء تک اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ امریکی تاریخ میں وہ پہلی خاتون ہیں جو ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے صدارت کے لئے نامزد ہوئی ہیں۔

بُرج عقرب کی حامل ہلیری روڈھم کلنٹن اپنے علم و آگہی کے حوالے سے ایک منجھی ہوئی، زیرک سیاستدان خاتون ہیں۔ گھریلو زندگی کے نشیب و فراز سے آگاہ وہ ایک معاملہ فہم اہلیہ، سمجھدار ماں اور پر شفقت نانی ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی عورتوں کے لئے بالخصوص اور دنیا بھر کی خواتین کے لئے بالعموم ایک مخلص، دانا و بینا اور درد مند دل رکھنے والی خاتون تصور کی جاتی ہیں۔

ہلیری روڈھم کلنٹن کی ترجیح تعلیم ،صحت اور ایک پر امن معاشرے کا قیام ہے۔ وہ صرف اپنے ملک کی بہتری کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کی ترقی اور فوز و فلاح کے جذبے سے سر شار ہیں۔ بطور امریکی خاتون اول(1993-2001ء ) انہوں نے دنیائے عالم کے کٹھن مسائل اور بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ اس لئے ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے تجربوں اور مشاہدوں کی روشنی میں ایسی راہیں روشن و منور ضرور کریں گی جو دنیا کو بہتری، ترقی اور امن کی جانب لے جانے والی ہیں۔ وہ عورتوں کی فلاح و بہبود کے لئے مضطرب ہیں ۔

ہلیری کہتی ہیں’’ ہمیں عورتوں کی ان تمام مساعی وکاوشوں کا احترام کرنا چاہیے جن کا اہتمام وہ اپنی ذات اور اپنے خاندان کی بہتری کے حوالے سے کرتی ہیں۔ ہر عورت اس بات کا حق رکھتی ہے کہ اسے خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں کا ادراک ہو اور وہ ان سے فائدہ حاصل کرے۔‘‘

ہلیری کلنٹن نے اپنی سوانح عمری ’’ہارڈ چوائسسز(Hard Choices) کے عنوان سے 2014ء میں لکھی اور جسے مشہور اشاعتی ادارے سائمن اینڈ شُسٹر نے شائع کیا تھا۔ اس خوبصورت چشم کشا کتاب میں ہلیری نے اپنے ان اہم اور یادگاری لمحات کا تذکرہ کیا ہے جس کا تجربہ انہیں بطور سیکرٹری آف سٹیٹ ہوا تھا۔

قانون دان ہلیری کلنٹن نے بلند امیدوں اور آدرشوں کے ساتھ اپنی صدارتی مہم چلائی ہے۔ انہوں نے امریکی عوام کے سامنے اپنی ذات میں ایک ایسی شخصیت کو پیش کیا ہے جس پر لوگ آنکھیں بند کر کے اعتماد کر سکیں۔ ان کی باریک بینی ، بردباری، حکمت و دانش اور حوصلہ مندی نے امید بندھائی ہے کہ دنیا کی عظیم سپر پاور کی قیادت ایک ایسی شخصیت کے ہاتھوں میں آنے والی ہے جو دنیا میں امن و سکون اور بہتری و ترقی کی ضامن ہو گی۔

ہلیری کلنٹن بہ حیثیت خاتون اول اور سیکرٹری آف سٹیٹ ہمارے ملک پاکستان کے دورے کر چکی ہیں۔ ہماری خواتین کی سوچ و فکر اور صلاحیتوں سے واقف ہیں۔ ***

مزید :

ایڈیشن 1 -