مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور پروگرام پیش کیا جائیگا ‘حریت قیادت

مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اور پروگرام پیش کیا جائیگا ‘حریت قیادت

  

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے موجودہ انتفاضہ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ تمام متعلقین نے حریت قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر میں حیدر پورہ سرینگر میں مختلف شعبہ زندگی کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جدوجہد آزادی کشمیر ایک مقدس تحریک ہے جس کیلئے لوگ مسلسل 1931سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس میں تمام فریقین نے حریت قیادت پر اعتماد ظاہرکیا جبکہ قیادت بھی عوام پر بھر پور اعتماد کرتی ہے۔انہوں نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انکی بنیاد ہی دھوکہ پر ہے۔انہوں نے لوگوں کو نام نہاد انتظامیہ کی سازشوں اور چالوں سے باخبر رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کٹھ پتلی وزیر علیٰ محبوبہ مفتی کشمیر میں غیر یقینیت کا ماحول پیدا کرکے لوگوں کو بد ظن کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں غلط رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔سید علی گیلانی نے لوگوں سے کہا کہ انسانی کردار اور نظم و ضبط پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور وہ ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔اس موقع پرحریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقین نے اجلاس میں اپنی آرا ء اور نقطہ نظر پیش کیا۔

اور تحریک آزادی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔انہوں نے کہاکہ اب مشترکہ حریت قیادت آئندہ کا لائحہ عمل وضع کریگی ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ جدوجہد تحریک آزادی کا ایک حساس اور نازک مرحلہ ہے جس میں اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس موقعہ پرجموں وکشمیرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ حریت قیادت نے مذہبی،تجارتی اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں سمیت تمام متعلقین سے مشاورت کے بعد جدوجہد آزادی کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کٹھ پتلی انتظامیہ سمیت بھارت نواز حکمران احتجاجی لہر کسی کے اشارے پر چلنے کا اشارہ دے رہے تھے تاہم تمام متعلقین نے یک زبان ہوکر تحریک جاری رکھنے کی صلاح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشاور ت کے بعد اب آئندہ کا پروگرام منظر عام پر لایا جائے گا۔نوجوانوں کو تحریک کا ترجمان قرار دیتے ہوئے محمد یاسین ملک نے انہیں نظم و ضبط اور تدبر سے کام لینے کامشورہ دیا ۔

مزید :

عالمی منظر -