بچے کا خاندانی نام باپ پر ہونا ضروری نہیں: اٹلی کی عدالت کا فیصلہ

بچے کا خاندانی نام باپ پر ہونا ضروری نہیں: اٹلی کی عدالت کا فیصلہ

  

روم(این این آئی) اٹلی میں آئینی عدالت نے ایک قانون کو ختم کر دیا ہے جس کے مطابق شادی شدہ جوڑوں کے بچوں کا خاندانی نام والد کے خاندانی نام پر رکھ دیا جاتا ہے۔عدالت میں وکلا نے کہا کہ یہ قانون خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے ٗاس سے قبل انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے اس قانون کی مذمت کی تھی اور اٹلی سے کہا تھا کہ وہ اسے تبدیل کرے۔ یہ قانون قدیم روم کے وقت سے لاگو ہے۔کارکنان نے آئے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا اور پارلیمان سے استدعا کی کہ وہ اس فیصلے کی تائید کرے۔عدالت کا کہنا تھا کہ خاندانی نام کو خود کار طور پر والدین کی مرضی کے خلاف طے کر دینا غیر قانونی ہے۔کیس میں برازیل اور اٹلی سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا تھا جس کی خواہش تھی کہ ہسپانوی ممالک کی روایت کے مطابق ان کے بیٹے کو دونوں والدین کے نام کا مرکب بطور خاندانی نام دیا جائے۔اٹلی کے حکام نے جب ان کی یہ درخواست نہیں مانی تو وہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں چلے گئے جس نے 2014 میں ان کے حق میں فیصلہ دیا۔یورپی عدالت کے مطابق یہ قانون اٹلی کے آئین میں صنفی برابری کے اصول کے منافی ہے۔اٹلی میں ایوان زیریں نے اس قانون کو تبدیل کرنے کیلئے ایک بل پاس کر رکھا ہے تاہم ایوانِ بالا یعنی سینٹ میں اسے کئی سالوں نے روکا جا رہا ہے۔بائیں بازو کی سیاسی کارکن اور رکنِ پارلمیان فیبریضیہ جولیانی کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت نے ہمارے معاشرے کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سینیٹ کے پاس اب کوئی بہانہ نہیں ہے کہ وہ اس قانون کو تبدیل نہ کرے۔

مزید :

عالمی منظر -