پروفیسر کو معطل کرنے کیخلاف مجاہد کامران کا کینیڈین یونیورسٹی کو احتجاجی خط

پروفیسر کو معطل کرنے کیخلاف مجاہد کامران کا کینیڈین یونیورسٹی کو احتجاجی خط

  

لاہور(خبرنگار) وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کینیڈا کی یونیورسٹی آف لیتھ برج کے پریذیڈنٹ اور وائس چانسلر پروفیسر مائیک میہون کو پروفیسر انتھونی ہال کے بین الاقوامی سازشوں سے پردہ اٹھانے پر انہیں معطل کرنے اور تنخواہ روکنے پر احتجاجی خط لکھ دیا ہے ۔ یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ و وائس چانسلر پروفیسر مائیک میہون کو لکھے گئے اپنے خط میں ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان کینیڈا سے تعلیم و تحقیق اور دیگر شعبوں میں کہیں پیچھے ہے تاہم پاکستان جیسے ملک کی کسی بھی یونیورسٹی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ اور الزامات درست ثابت ہونے کے واضح ثبوت ملے بغیر کسی استاد / ملازم کو معطل نہیں کیا جاتا اور یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ معطل شدہ استاد کو اس دوران مکمل تنخواہ ملتی رہتی ہے۔ پروفیسر انتھونی ہال کو اس انداز میں معطل کرنا اور ان کی تنخواہ روکنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کینیڈا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے ، مروجہ قوانین اور مراحل کو اپنانے میں پاکستان سے پیچھے ہے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے اپنے احتجاجی خط میں لکھا ہے کہ پروفیسر انتھونی ہال اپنی تحریروں میں ان عناصر کی سازشوں اور جرائم سے پردہ اٹھاتے رہے ہیں جو اس دنیا کو عالمی جنگ کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ پروفیسر انتھونی ہال کی تحریریں انتہائی غیرجانبدارہیں۔ انہیں معطل کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان طاقتور عناصر نے پروفیسر انتھونی ہال کو نشانہ بنایا ہے جو آزادی اظہارِ رائے کے خلاف ہیں۔ صہیونی تنظیم بی نائی بی رتھ آزادی اظہارِ رائے کو ختم کرنے کی اس مہم کے پیچھے ہے ۔ یہ امر پریشان کن ہے کہ بی نائی بی رتھ نے اب کینیڈین معاشرے اور کینیڈین یونیورسٹیز کو اپنا نشانہ بنا لیا ہے ۔

مزید :

علاقائی -