دُہری شہریت کے انکشاف کے بعد عشرت العباد کا گورنر رہنا ممکن نہیں رہا تھا

دُہری شہریت کے انکشاف کے بعد عشرت العباد کا گورنر رہنا ممکن نہیں رہا تھا

  

تجزیہ: نصیر احمد سلیمی

 کراچی:سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ایوان صدر کے ذرائع نے تصدیق کی ہے ۔ صدر مملکت اور وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس نام پر اتفاق ہو چکا ہے۔منگل کی صبح ایوان صدر میں وزیراعظم نے صدر مملکت سے مشاورت کی جس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کے ذرائع سے میڈیا میں یہ خبر آئی۔ جسٹس(ر) سعید الزماں صدیقی نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم نے دو روز قبل ا نہیں اعتماد سے لیا تھااور مشاورت کی تھی ۔ جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی نے گورنر کے منصب پر فائز کرنے کے بعد اپنی تر جیحات میں صوبے میں مکمل امن کی بحالی، قانونی حکمرانی کے عملی نفاذ ، تعلیم اور تعلیمی اداروں کی ترقی، صوبہ میں آباد تمام شہریوں کی فلاح و بہبود اوربلا امتیاز زبان و نسل، مسلک اور مذہب خدمت کرنا ہوگا ۔ وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے یہ میری آئینی ذمہ داری ہوگیکہ حکومت سندھ کے عوامی مفادعامہ کے منصوبوں کے لئے مرکز کا تعاون حاصل کروں اور وفاقی حکومت نے سندھ میں ساجو ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہوئے ہیں۔ وہ جلد از جلد مکمل کئے جا سکیں۔ جس سے قومی یکجہتی اور قومی ہم آہنگی کو فروغ بھی حاصل ہوگااور صوبہ کے عوام کی مشکلات میں پرکمی آئے گی۔ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی سندھ کے 30ویں گورنر ہونگے۔ موجودہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو سندھ کا طویل ترین گورنر رہنے اور سب سے زیادہ متنازعہ گورنر کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عشرت العباد کے کم و بیش چودہ سال گورنر کے منصب پر فائز رہے۔ وہ دسمبر 2002ء میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے وقت جنرل (ر) پرویز مشرف اور الطاف حسین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے بعد لندن سے بلا کر گورنر بنایا گیا تھا۔ اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احسان کی منظوری کے بعد وہ پہلے لندن سے اسلام آباد آئے ۔ گورنر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے لئے شیروانی بھی ان کو اسلام آباد کے ایئرپورٹ پر فراہم کی گئی تھی۔ ان کو نامزد کرنے والے الطاف حسین نے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوا۔ لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ ڈاکٹر فاروق ستار بہت پہلے الطاف حسین کے حکم پر ان کے ساتھ ایم کیو ایم کے تعلق ختم کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ الطاف حسین کے نئے باغی پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ بلیم گیم کی جنگ کے بعد انکا گورنر کے منصب پر فائز رہنے کا اخلاقی جوا ز بھی ختم ہو گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد کہ ان کے پاس دہری شہریت ہے، اُن کا گورنر کے منصب پر ویسے بھی رہنا ناممکن تھا۔ گورنر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد اخلاقی اور قانونی طور پر جماعتی سیاست کو خیر بار کہنا ضروری ہوتا ہے لیکن عشرت العباد بطور گورنر ایم کیو ایم کی ہر لحاظ سے سر پرستی کرتے رہے۔ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کے بارے میں قانونی اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ وہ اپنے آپ کو جماعتی سیاست سے بالا تر رکھیں گے۔ اس نامہ نگار کو ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ 2008ء میں جب میاں محمد نواز شریف نے انہیں آصف علی زرداری کے مقابلے میں امیدوار بنانے کی پیشکش کی تھی تو انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ میں اس شرط پر آپ کی طرف سے امیدوار بنوں گا کہ نہ میں آپ کی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرونگا اور نہ ہی جماعتی سیاست اختیار کرونگا۔ 2013ء کے عام انتخاب کے بعد صدارتی انتخاب کے لئے بھی ان کا نام اخبارات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر آیا تھا ۔ تاہم میاں نواز شریف نے اس حوالے سے ان کو اعتمادمیں لیا تھا اور نہ ہی وزیراعظم کی ان سے کوئی ملاقات ہوئی تھی۔اگرچہ حکومت سندھ کے ترجمان مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے ان کے تقرر پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سخت تنقید کا ہدف بنایا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے سندھ حکومت سے مشاورت نہیں کی۔ آئینی اور قانونی بہترین کے مطابق گورنر نے تقرر کے لئے صوبائی حکومت سے وزیر اعظم کا مشورہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ واضح رہے ایک عرصہ تک گورنر کی تقرر ی صدر مملکت کا صوابدیدی استحقاق رہا ہے۔ اپنے دور صدارت میں اس معاملے میں وزیر اعظم کی سفارش کو لائق اتمنا نہیں سمجھا تھا، کیونکہ آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت صدر کا یہ صوابدیدی اختیار تھا۔ اب یہ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اس لئے قانونی ماہرین کے نزدیک سندھ کے ترجمان کا اعتراض بلا جواز ہے۔ صوبے کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ وفاق کے نامزد گورنر کو خوش دلی سے قبول کر کے آئین کی بالادستی کو تسلیم کرنے کا عملی مظاہرہ کرے۔ اس سے سیاسی عمل کو تقویت حاصل ہوگی اور جمہوریت کو استحکام ملے گا۔ اس سے قبل اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے چار جج سندھ کے گورنر رہ چکے ہیں۔ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی پانچویں جج ہیں۔ جو اس منصب پر فائز ہونگے۔ فخر الدین جی ابراہیم کے بعد جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی دوسرے گورنر ہونگے۔ جنہوں نے مارشل لاء کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کے بزرگوں کے تعلق غیر منقسم ہندوستان میں لکھنو شہر سے تھا۔ اُن کے خاندان کا ذریعہ معاشی تجارت رہا ہے۔ ان کے پردادا لکھنو سے کلکتہ ہجرت کر گئے تھے، جہاں ان کا کاروبار تھا۔ اُن کے والد خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کے ساتھ تجارت کو ذریعہ معاش بنانے کے بجائے ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد جسٹس (ر) کا خاندان مشرقی پاکستان منتقل ہو گیا تھا۔ جسٹس (ر) صاحب 1937ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔

دوسری جنگ عظیم شروع ہونے کے بعد جسٹس (ر) صاحب کا خاندان کلکتہ سے اپنے آبائی شہر لکھنو میں منتقل ہوگیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنو شہر میں حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد میٹرک ڈھاکہ بورڈ سے پاس کیا اور انٹر سائنس جگن ناتھ کالج ڈھاکہ سے کیا۔ 1956ء میں ان کا خاندان ڈھاکہ سے کراچی منتقل ہوگیا۔ بی اے اسلامیہ کالج کراچی سے کیا۔ 1960ء میں سندھ مسلم لاء کالج کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1961ء میں ادریس قریشی ایڈووکیٹ کے چیمبر میں پریکٹس شروع کی۔ 1970ء میں اپنا الگ چیمبر قائم کیا۔ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی 5 نومبر 1990ء سے 21 نومبر 1992ء تک سندھ کے چیف جسٹس رہے۔ جام صادق علی کی حکومت نے آصف علی زرداری کو گرفتار کیا تو جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی نے حکومتی دباؤ کے باوجود آصف علی زرداری کی پیٹشن سماعت کے لئے منظور کی تھی۔ بعدازاں انہیں سپریم کورٹ کا جج بنا دیا گیا۔

تجزیہ : نصیر سلیمی

مزید :

تجزیہ -