احمد رضا قصوری کا پلس ون فارمولا موجود حالات میں کامیاب نہیں ہوسکتا

احمد رضا قصوری کا پلس ون فارمولا موجود حالات میں کامیاب نہیں ہوسکتا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف خود تو کئی مرتبہ اس بات کی تردید کرچکے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کی سربراہی کے خواہش مند ہیں لیکن ان کے بہی خواہ تھوڑے تھوڑے عرصے بعد یہ ہوائی اڑاتے رہتے ہیں کہ انہیں ایم کیو ایم کا سربراہ بنا دیا جائے، تازہ ہوائی احمد رضا قصوری نے اڑائی ہے اور اپنی طرف سے ’’پلس ون‘‘ فارمولا پیش کر دیا ہے جس سے یہ مراد لی گئی ہے کہ ایم کیو ایم کے تمام دھڑے متحد ہو جائیں اور ان سب دھڑوں کی سربراہی جنرل (ر) پرویز مشرف کے سپرد کر دی جائے، کیا خود جنرل صاحب کو اس فارمولے سے اتفاق ہے یا نہیں؟ فی الحال اس سوال کو ایک طرف رکھ کر اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا موجودہ حالات میں ایم کیو ایم کے یہ دھڑے متحد بھی ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ 22 اگست والی متنازعہ تقریر کے بعد جو صورت حال پیدا ہوچکی ہے، اس کے بعد اس جماعت میں تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اب اس ’’تقسیم‘‘ میں ’’جمع‘‘ (پلس ون) کی گنجائش کہاں ہے، اس کا جائزہ بعد میں لیتے ہیں۔

1992ء کے آپریشن کے بعد جس میں الطاف حسین بیرون ملک فرار ہوگئے تھے، ایم کیو ایم کے دو لیڈر عامر خان اور آفاق احمد اس سے الگ ہوگئے ان کے ساتھ کچھ اور ساتھی بھی تھے جنہوں نے ایم کیو ایم (حقیقی) کے نام سے اپنا دھڑا بنایا، جب مہاجر قومی موومنٹ نے اپنا نام بدل کر متحدہ رکھ لیا تو ایم کیو ایم (حقیقی) خود کو مہاجر قومی موومنٹ کہلانے لگی، اس وقت سے لے کر مارچ 2016ء تک یہی دونوں دھڑے کام کر رہے تھے۔ البتہ عامر خان واپس ایم کیو ایم میں آگئے تھے، اس مہینے میں مصطفی کمال، انیس قائم خانی کے ساتھ اب اچانک نمودار ہوئے اور انہوں نے بانی ایم کیو ایم کے خلاف ایک خوفناک چارج شیٹ مرتب کی اور مہاجروں کو ایک اور پلیٹ فارم مہیا کر دیا جس کا نام پاک سرزمین پارٹی رکھ دیا گیا۔ سندھ اسمبلی کے بہت سے ارکان ایم کیو ایم چھوڑ کر اس جماعت میں شامل ہوگئے۔ بانی ایم کیو ایم اگر بم کو دولتی نہ مارتے تو شاید اب تک حالات اس نہج پر چلتے رہتے لیکن انہوں نے ایک ایسی تقریر کر دی جس کے بعد ان کا ساتھ دینا خاصا دشوار ہوگیا، چنانچہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ان سے اپنا راستہ الگ کرلیا۔ یہ کہنے والے تو بہت تھے کہ فاروق ستار نے ایسا حکمت عملی کے تحت کیا ورنہ ان کی اندر خانے ہمدردیاں اب تک جماعت کے بانی کے ساتھ ہیں لیکن فاروق ستار تدریجاً آگے بڑھتے رہے اور پھر انہوں نے باقاعدہ ’’ایم کیو ایم پاکستان‘‘ قائم کرلی۔ اس وقت ایم این اے، سینیٹرز، سندھ اسمبلی کے ارکان اور بلدیاتی اداروں کے ارکان اور عہدیداروں کی بہت بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے اور انہیں ہی ’’اصلی تے وڈی‘‘ ایم کیو ایم گردانا جاتا ہے، لیکن بانی جماعت نے بھی اپنے چند مہرے آگے بڑھا دئیے ہیں جو لندن کی ایم کیو ایم کے ساتھ منسلک ہیں اور کراچی میں سیاست کرنا چاہتے ہیں، وہ بانی ایم کیو ایم کو مائنس کرکے کسی ایم کیو ایم کو ماننے کے لئے تیار نہیں، یوں اگر دیکھا جائے تو مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والے اس وقت چار دھڑے ہیں یعنی ایم کیو ایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی، مہاجر قومی موومنٹ اور ایم کیو ایم لندن (کراچی)

اب آئیے احمد رضا قصوری کے ’’پلس ون‘‘ فارمولے کی طرف جو ان سب گروہوں یا دھڑوں کو ایک کرکے ان کی سربراہی پلیٹ میں رکھ کر جنرل پرویز مشرف کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں، اس فارمولے کو اسی صورت میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے جب اس میں جنرل پرویز مشرف اپنے لئے کوئی کشش محسوس کریں اور اس کی سربراہی قبول کرکے سیاست کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ جنرل پرویز مشرف نے 2002ء کے الیکشن کرانے سے پہلے ریاستی اداروں کی مدد سے اس بات کا اہتمام کیا کہ جو سیاستدان ان کی نظر میں پسندیدہ نہیں تھے، انہیں کسی نہ کسی طریقے سے سیاست سے باہر کر دیا جائے۔ ایم این اے کے لئے گریجوایٹ ہونے کی شرط بھی اسی کے پیش نظر لگائی گئی تھی۔ نواز شریف کو تو خاندان سمیت جلد وطن کر دیا گیا، جس مسلم لیگ کے نواز شریف صدر تھے، اس کے بعض رہنماؤں نے ان کی حکومت کے آخری دنوں میں ان کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ یہ رہنما جن کی سربراہی میاں محمد اظہر کر رہے تھے، اپنے لئے مسلم لیگ (ہم خیال) کا پلیٹ فارم استعمال کرتے تھے، الیکشن کی رات تک عام خیال یہ تھا میاں محمد اظہر اگلے وزیراعظم ہوں گے لیکن وہ اپنی نشست بھی نہ جیت سکے۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ہم خیال) کی صدارت بھی چودھری شجاعت حسین لے اڑے۔ یہ جماعت الیکشن کمیشن میں تو پاکستان مسلم لیگ کے نام سے رجسٹر ہے لیکن عرف عام میں یہ مسلم لیگ (قائداعظم) کہلائی۔ یہ جماعت 2002ء کے الیکشن کے نتیجے میں اکثریتی جماعت تو نہ بن سکی البتہ سب سے بڑی جماعت ضرور بن گئی۔ حکومت سازی کے لئے پیپلز پارٹی کے دو ٹکڑے کرکے ایک چھوٹا سا ٹکڑا راؤ سکندر حیات کی قیادت میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ملایا گیا جس نے مل کر حکومت بنائی۔ جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ق) کی تشکیل کا سہرا اپنی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں اپنے سر باندھا، ان کا منصوبہ یہ بھی تھا کہ جب وہ اقتدار سے الگ ہوں گے تو اس جماعت کے سربراہ بن جائیں گے لیکن چودھری شجاعت حسین نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ حتیٰ کہ شیخ رشید احمد نے بھی انہیں اپنی جماعت کے قریب نہ پھٹکنے دیا۔ ایم کیو ایم میں ابھی وہ بے سرو سامانی نہیں تھی جو آج کل نظر آتی ہے۔ چنانچہ وہاں بھی ان کا خیر مقدم نہ ہوا، پھر انہوں نے اپنی جماعت بنا لی، اس وقت وہ اس جماعت کے صدر اور سب کچھ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ انہیں ایم کیو ایم کا سربراہ بنانے سے کیا حاصل ہوگا؟ اول تو یہ مشکل کام ہے کہ موجودہ حالات میں تمام دھڑے متحد ہو جائیں اور اگر ہو بھی جائیں تو وہ کیوں چاہیں گے کہ پرویز مشرف کو اپنا سربراہ بنالیں، جو اس وقت ملک میں موجود نہیں اور اس وقت تک آنا بھی نہیں چاہتے جب تک انہیں یہ یقین دہانی نہ کرا دی جائے کہ انہیں عدالتوں میں نہیں گھسیٹا جائیگا۔ یہ یقین دہانی کون کراے گا؟ اور جو مقدمات چل رہے ہیں، ان کا کیا بنے گا؟ اس لئے احمد رضا قصوری کا یہ فارمولا فی الحال چلتا ہوا نطر نہیں آتا۔

مزید :

تجزیہ -