امریکہ کا صدارتی انتخاب، لمحہ فکر یہ، پاکستان میں سیاسی استحکام کی ضرورت!

امریکہ کا صدارتی انتخاب، لمحہ فکر یہ، پاکستان میں سیاسی استحکام کی ضرورت!

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں تمام عوامی سروے اور تجزئیے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ڈونلڈ ٹرمپ واضح اکثریت سے آئندہ چار سال کے لئے اس سپر پاور کے صدر منتخب ہو گئے، برتری حاصل ہوتے ہی ٹرمپ کے بیانات بھی تبدیل ہو گئے اور بد تمیز کہلانے والا امیدوار وائٹ ہاؤس میں جانے والا مہمان بنتے ہی سنجیدہ ہوگیا اور اب وہ رنگ و نسل کی تمیز کی بات کرنے لگا ہے، بلکہ یہ تک کہہ دیا کہ جو قومیں ہمارے ساتھ چلیں گی، ہم بھی ان کے ساتھ چلیں گے۔

امریکی صدارتی انتخاب کے اس نتیجے نے تبصرہ اور تجزیہ نگاروں کی بھارتی اکثریت کو حیران کر دیا ہے کہ پولنگ کے وقت تک بھی ہیلری کو سبقت حاصل تھی اور یہی بتایا جا رہا تھا، صرف نیویارک ٹائمز نے پالیسی تبدیل کی اور ٹرمپ کی فتح کے گن گانے لگا، جبکہ عوامی سروے کے ذریعے ہیلری کی برتری بتائی جارہی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانات اور اپنی بدزبانی کے علاوہ خواتین کے ساتھ بد سلوکی کے باعث بدنام بھی رہا اس کے باوجود اسے کامیابی ملی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹ صدر کے ہوتے ہوئے بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا دکھایا اور ہیلری کے ای میلز والے معاملے کو ابھار کر اس کی شخصیت پر دھبہ لگایا، آخری وقت میں ایف۔بی۔آئی کے یہ کہہ دینے سے کہ ہیلری کی ای میلز سے کوئی نقصان یا جرم نہیں ہوا کوئی فائدہ نہیں ہوا، یوں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے نسلی تعصب کا جو کارڈ کھیلا وہ بھی کار آمد رہا اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گوری نسل نے رنگ و نسل کا اثر قبول کرتے ہوئے تعصب کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ ہیلری کا عورت ہونا بھی اس کے لئے نقصان دہ ہوا کہ جدید تہذیب ہونے کے باوجود شاید مجموعی طور پر امریکی معاشرے نے ابھی تک عورت کی برتری اس حد تک قبول نہیں کی کہ وہ ایک خاتون کو ملک کی تقدیر کا مالک بنا دیں۔

امریکی صدارتی انتخاب کے حوالے سے تارکین وطن بھی ایک اہم جزو رہے، مسلمان امریکی پہلی بار کھل کر صدارتی انتخاب میں سامنے آئے کہ ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف بہت کچھ کہا تھا، اس میں بھی پاکستان نژاد مسلمانوں کا زیادہ حصہ تھا،اگرچہ یہ مہم کافی زو ر دار تھی تاہم مکمل اتفاق رائے نہیں تھا، بعض مسلمان گروپوں نے ٹرمپ کی حمائت بھی کی، پاکستان نژاد امریکیوں کے مقابلے میں بھارت نژاد ہندوؤں نے دامے،درمے، سخنے ٹرمپ کی حمائت کی نہ صرف امریکہ میں کامیابی کے لئے دعائیں کیں بلکہ پورے بھارت میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔

صدارت کے دونوں امیدواروں کے حوالے سے امریکہ کی پاکستان بارے پالیسی میں کوئی بڑا فرق نہیں تھا، تاہم ہیلری نے ٹرمپ کی طرح کھل کر مسلمانوں کے خلاف کچھ نہیں کہا، جہاں تک امریکہ کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو نئے صدر کے آجانے سے اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی البتہ صدر کا رویہ ضرور اہمیت رکھتا ہے اور موجودہ حالات میں ٹرمپ کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے جہاں اس کی اپنی سرمایہ کاری بھی ہے، اس لئے پاکستان کو اپنی آئندہ کی پالیسی میں بہت اختیاط کرنا ہوگی کہ پہلے ہی ڈو مور کے مطالبے نے اب تک جان نہیں چھوڑی اور اب ایک ایسا صدر آگیاجو پہلے ہی بھارت کا دوست اور مسلمانوں کا مجموعی طور پر مخالف ہے، پاکستان کی شہرت ایک مذہبی ریاست کی ہے اور ہمسائے بھی دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں، امریکہ کی موجودہ انتظامیہ صدر اوباما حقانی گروپ کا نام لے کر کہتے ہیں کہ تمام تر قربانیوں کے باوجود پاکستان دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک ختم نہیں کرپایا، اس لئے ایٹمی پاکستان کو کچھ مشکل تو پیش آئے گی اور یہاں بھی خارجہ پالیسی پر بہت غور کرنا ہوگا، اور ملک کے اندر مجموعی طور پر سیاسی استحکام کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے اس نئی صورت حال میں اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے بھی سوچنا ہوگا کہ امریکی امداد یا تعاون میں جو رکاوٹیں امریکی کانگرس کی طرف سے پیدا کی گئیں اور انتظامیہ نے بھی اثر لیا، اب زیادہ زور سے دباؤ آئے گا اور مالی تعاون میں رکاوٹ ہوگی جبکہ امریکہ، افغانستان اور بھارت گٹھ جوڑ زیادہ مضبوط ہوگا، ایسے میں ہمارے بر سر اقتدار حضرات اور حکومت کا فرض ہے کہ تمام تر سیاسی تحفظات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، ملک کے اندر اتحاد پیدا کرنے کے لئے اقدامات کرے اور نہ صرف اعتدال والی سیاسی جماعتوں بلکہ مخالف جماعتوں کوبھی اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، حکمران جماعت نئے سر ے سے مذاکرات اور میل ملاپ کا آغاز کرے۔

سیاسی استحکام

مزید :

تجزیہ -