اورنج ٹرین معاہدوں کے خلاف درخواستوں پر حکومت اور مدعا علیہان سے جواب طلب

اورنج ٹرین معاہدوں کے خلاف درخواستوں پر حکومت اور مدعا علیہان سے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم پرمشتمل ڈویژن بنچ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے لئے کئے گئے معاہدوں اور ٹینڈرز کے خلاف دائردرخواستوں پرنوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت اور دیگر مدعا علیہان سے8دسمبر تک جواب طلب کرلیا ہے ۔درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کے لئے ایگزم بنک چائنہ سے 250 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا جارہا ہے جبکہ اس منصوبے کا بجٹ ایک صوبے کے پورے مالی سال کے بجٹ کے قریب ہے، درخواست گزاروں کا کہنا ہے تھا کہ لوگ علاج کی سہولتوں کو ترس رہے ہیں اور حکمران اربوں روپے ایک ٹرین پر خرچ کررہے ہیں۔درخواستوں میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ منصوبے کی تعمیر کے دوران ناقص انتظامات کی وجہ کے باعث پلر گرنے سے 27 سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور اس منصوبہ کو شروع کرنے سے قبل کسی قسم کے ٹینڈرجاری نہیں کیے گئے اور نیسپاک کو ٹھیکہ دے دیا گیاجو کہ منصوبے کی شفافیت پر ایک بڑاسوالیہ نشان ہے، درخواست گزاروں کے وکلاء کے مطابق نیسپاک اور ایل ڈی اے تاریخی عمارات کے حوالے سے نا کوئی تجربہ رکھتے ہیں اور نا ہی اس حوالے سے اہل ہیں لہٰذا اورنج لائن ٹرین منصوبے کے لیے حاصل کیے جانے والے قرضے کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا جائے اور شفاف معاہدے نہ ہونے کی بنا پر اورنج لائن ٹرین منصوبے کو کالعدم قرار دینے کا حکم دیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -