حکومت اپنے بکھیڑوں میں پھنسی ہے، اسے اقبال سے کوئی غرض نہیں: عارف نظامی

حکومت اپنے بکھیڑوں میں پھنسی ہے، اسے اقبال سے کوئی غرض نہیں: عارف نظامی

  

لا ہو ر (خبر نگار خصوصی) علامہ اقبال نے سا ری زند گی بید اری واتحا د امت کی دعوت دی اور امت مسلمہ کو غلا می سے نکلنے اور خو دی اپنانے کا درس دیا ۔ان خیا لا ت کا اظہا ر مقر رین نے ایوان اقبال کمپلیکس اور مر کز یہ مجلس اقبال کے اشتراک سے یوم اقبال کی خصوصی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔تقر یب کی صدارت صدر مر کز یہ مجلس اقبا ل میاں افضل حیا ت نے کی ۔تقر یب کے میز بان چیئر مین ایوان اقبال کمپلیکس و سیکر ٹر ی جنرل مر کز یہ مجلس اقبال عارف نظامی تھے جس سے مجیب الر حمن شامی، عارف نظامی ڈا کٹر محمد سلیم مظہر، یا سر پیر زادہ ،اوریا مقبول جان ، ،منیب اقبال،میاں افضل حیات،ڈاکٹر رؤف صدیقی اور نے خطاب کیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر صحا فی مجیب الر حما ن شامی نے کہا کہ ہمیں آ ج یہ معلو م نہیں کہ پاکستان کو کہا ں لے کے جا نا ہے یا کد ھر لے کر جا نا ہے ۔ایسا لگتا ہے ہم ایک دوسر ے سے دست وگر یبان ہیں ۔اقبال نے کہا تھا غلامی سے بدتر بے یقینی ہیں ۔مجیب الر حمان شامی نے یوم اقبال پر چھٹی نہ کر نے کی مذمت کی ۔انھوں نے کہا کہ یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ ٹی وی چینلز نے امر یکی صدارتی انتخا بات کی تو لگاتا ر کو ریج کی لیکن مزار اقبال پر گا رڈز کی تبد یلی کا کچھ نہیں دکھا یا ۔اگر رنگ نسل اور زبان پر قوم ایک ہو سکتی تو محمدؐعربی کا کفار سے کیا جھگڑا تھا ۔ فر قہ پر ستی، نسل پرستی ،زبان پرستی، صوبہ پر ستی اور رنگ پر ستی کی پاکستان میں پابندی ہو نی چاہیے تا کہ ملک آ گے بڑ ھ سکے۔ پر وفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر نے کہا کہ انسان اپنی غلامانہ خصلت کی وجہ سے کتوں سے بھی بد تر ہے، اقبال کے نز دیک ایک خو بی یہ ہے کہ انسان خو ددار ہو ۔علامہ اقبال نے پیغام بھی خو دی کا دیا ۔ اقبال نے نو جوان نسل کو یہ تلقین کی کہ وہ خو ددار ہو ۔عشق زوال پذیر کے ساتھ نہیں لگا نا چا ہیے بلکہ لا فانی اور حی وقیوم کے ساتھ کر نا چاہیے۔ڈاکٹر سلیم مظہر نے مز ید کہا کہ اقبال نے ساری زند گی امت مسلمہ کی بیداری اور اتحا د کا درس دیا اور کہا کہ آ گے بڑ ھیں اور آ س وامید کا دامن نہ چھو ڑ یں ۔ ممتاز دانشور اوریا مقبول جان نے کہا کہ جن کو علامہ اقبال کی شاعر ی میں درس نظر نہیں آ تا وہ ان کے کر دار کو کر یدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اقبال نے پو ری زند گی مغر بی تہذیب کے خلا ف لکھا اور پو ری زند گی عشق محمدؐ میں گز اری۔ انھوں نے کہا کہ اقبال نے پو ری زند گی مغر ب کی غلا می سے آزادی کی دعوت دی ۔ انھوں نے کہا کہ جس طر ح اللہ تعالیٰ اور رسول اللہؐ سے محبت فر ض ہے اسی طر ح پاکستان سے محبت بھی فر ض ہے۔ قومیں آئین کے بغیر چل سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بغیر نہیں ۔انھو ں نے مزید کہا کہ اگر ہم علا مہ اقبال کی پیروی کر یں گے تو ملک پاکستان کا کو ئی بھی بال بیکا نہیں کر سکتا ہے۔بلوچستان سے آئے ما ہر اقبالیا ت ڈاکٹر رؤف صدیقی نے کہا کہ مجھے افسو س ہو رہا ہے کہ سٹیج پر بیٹھے لو گو ں کے ہونے کے با وجو د چھٹی نہیں ہو سکی ۔ ہم اقبال کے ساتھ کیا کر رہے ہیں یہ ایک لمحہ فکر یہ ہے ۔انھوں نے کہا کہ اقبال کے لاکھوں چاہنے والوں کے باوجود نگا ہیں خا مو ش کیوں ہیں ۔ علامہ نے کہا تھا کہ میں مشر ق ومغر ب کو خشکی کے راستے جڑتے ہو ئے دیکھ رہاہوں اور رسی پیک اس کی تعبیر ہے ۔انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی ہمہ جہت اور متنو ع شخصیت مسلمہ ہے ،ایک مجا ہد بھی اقبال کا تذکر ہ کر تا ہے اور مز دور بھی ۔علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال نے کہا کہ اگر چہ حکومت نے یوم اقبال کی چھٹی ختم کر دی ہے لیکن علامہ اقبال لوگو ں کے دلوں میں اسی طر ح راج کرتے ہیں جیسے چھٹی کے وقت کر تے تھے ۔ چھٹی ہو نے یا ہو نے سے حضرت اقبال کو کو ئی فر ق نہیں پڑتا ۔ انہوں نے مز ید کہا کہ اقبال نے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ جگا یا انھیں خو اب سے غفلت سے بیدار کیا ۔ بڑ ے افسوس کی بات ہے کہ نصاب سے اقبال کے خطوط اور کلام کو ہٹا دیا گیا ہے ۔علامہ اقبال ایک اسلامی فلا حی ریا ست کا قیام چاہتے تھے ۔کالم نگا ر یاسرپیر زادہ نے خو بصورت پیرائے میں مکا لمہ پڑ ھا جس میں انہوں نے ’’عاشقان اقبال ‘‘ اور’’ الٹرا سیکولر‘‘ طبقوں کو بڑے لطیف اور احسن انداز سے رگیدا۔چیئر مین ایوان اقبال عارف نظامی نے خطبہ استقبا لیہ پیش کیا اورمہما نوں اور شر کا کو بھر پو ر طر یقے سے خو ش آمدید کہا ۔ چیئر مین ایوان اقبال نے بھی اقبال ڈے کی چھٹی ختم ہو نے کی مذمت کی ۔ عارف نظامی نے کہا کہ حکو مت اپنے بکھیڑوں میں پھنسی ہو ئی ہے اسے اقبال سے کوئی غر ض نہیں ہے،دوسری طرف پڑ ھا لکھنا مو جودہ مسلم لیگ کا مشن بھی نہیں ۔ انھو ں نے اس با ت پر بھی افسوس کیا کہ حکومت نے چھٹی نہ کر نے کے با وجود بڑ ی سطح پر کو ئی تقر یب کا بھی انعقا د نہیں کیا ۔ انھو ں نے تنقید کرتے ہو ئے کہا کہ وزیر اعلیٰ شہباز شر یف کو بھی نظر یا تی جھمیلوں میں پڑ نے کی ضرورت نہیں ۔انھوں نے کہا کہ تمام لو گ علا مہ اقبال کے کلام سے اپنے موقف کی تا ئید کی بات نکال لیتے ہیں خو اہ ان کا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو ۔ یوم اقبال یہی درس دیتا ہے کہ ہمیں علامہ اقبال کے افکا ر پر عمل پیر ا ہو نا چاہیے۔ صدر مجلس میاں افضل حیا ت نے شرکا کو خو ش آمد ید کہتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنا مصروف دن نظر اند از کر کے اقبال کو اہمیت دی ۔ انھوں نے یوم اقبال پر شاندار تقر یب منعقد کر نے پر انتظا میہ ایوان اقبال کا بھی شکر یہ ادا کیا۔قبل ازیں تلا وت قر آن پاک قاری پر وفیسر منیر احمد نے حا صل کی جبکہ نعت رسول مقبول قاری سیف اللہ نقشبندی نے پڑ ھی ۔ تقر یب کی نقابت کے فر ائض انجم وحید نے ا نجا م دیئے ۔تقر یب میں ارشاد احمد عارف ، چو ہدری نذیر احمد ،ماجد رزاق،رضوان کر یم ،رانا ظفر اقبال ،ڈاکٹر ارشا د ،مو لا نا محبو ب احمد،محسن علی، اساتذہ ،طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔تقر یب میں طلبہ وطالبات نے کلام اقبال سنا کر شرکا کے دل گرما دئیے ۔

مزید :

صفحہ آخر -