علامہ اقبالؒ نے زندگی میں پسپائی اختیار کرنے کی بجائے جہدِ مسلسل کا درس دیا: رفیق تارڑ

علامہ اقبالؒ نے زندگی میں پسپائی اختیار کرنے کی بجائے جہدِ مسلسل کا درس دیا: ...

  

لاہور (اپنے خبر نگار سے) علامہ محمد اقبالؒ نے ہمیں زندگی کی مشکلات کے مقابلے میں پسپائی اختیار کرنے کی بجائے جہدِ مسلسل کا درس دیا۔علامہ محمد اقبالؒ نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو جو پیغام دیا اس پر عمل کر کے ہی اسلامی شان و شوکت کا پرانا دور واپس آ سکتا ہے ۔ کلام اقبال کو سمجھنے کی جتنی ضرورت آج تھی پہلے کبھی نہ تھی۔ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ،سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، لاہورمیں مفکر پاکستان‘شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے 139ویں یوم ولادت کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ تقریب کے مہمان خاص صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان تھے ۔اس تقریب کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پروائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد،علامہ محمد اقبالؒ کے پوتے منیب اقبال، خانوادۂ حضرت سلطان باہوؒ صاحبزادہ سلطان احمد علی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ شرقپور شریف صاحبزادہ میاں ولید احمد شرقپوری، مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب رانا محمد ارشد، چودھری نعیم حسین چٹھہ، بیگم مہناز رفیع، بیگم خالدہ جمیل، مولانا محمد شفیع جوش، قیوم نظامی، بیگم صفیہ اسحاق، سعیدہ قاضی، ڈاکٹر پروین خان،ایم کے انور بغدادی، پروفیسر حنیف شاہد، محمد یٰسین وٹو، میجر(ر) صدیق ریحان، انجینئر محمد طفیل ملک، اساتذۂ کرام، طلبا وطالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین وحضرات کثیر تعدادمیں موجود تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام ،نعت رسول مقبولﷺ اور قومی ترانہ سے ہوا۔تلاوت کی سعادت قاری خالد محمودنے حاصل کی جبکہ بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ نعت الحاج اختر حسین قریشی نے پیش کیا ۔ حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے کلام اقبال سنایا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے اداکیے۔ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ اسلامیان ہند پر اﷲ تبارک و تعالیٰ نے خاص احسان فرمایا جو انہیں حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ جیسا دیدہ ور عطا فرمایا۔ ایسی نابغۂ روزگار ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں اور ان کی فکر کے اثرات بھی آئندہ کئی صدیوں پر محیط ہوتے ہیں۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ علامہ محمد اقبالؒ ہماری قوم میں پیدا ہوئے اور ہم اس پر بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں ۔ علامہ محمد اقبالؒ نے بہت عرصہ یورپ میں گزارااور مغربی تہذیب کا بغور تجزیہ کیا ۔ وہ مغربی تہذیب سے بالکل بھی متاثر نہیں ہوئے اور نہ ہی اس کا حصہ بنے۔ بقول اقبالؒ ؂ ’’ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی ،نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحرخیزی ‘‘۔ علامہ محمد اقبالؒ نے نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو جو پیغام دیا اس پر عمل کر کے ہی اسلامی شان و شوکت کا پرانا دور واپس آ سکتا ہے جب مسلمان دنیا کے حکمران تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج پیغامِ اقبال جلسے جلوسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اس پر عمل کی کوئی صورت نظر نہیں آ تی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کو جس نہج پر پڑھایا جائے دلوں میں ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے خود کہا تھا ’’اِک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو‘لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمر قند‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یوم اقبالؒ ہر سطح پر منایا جانا چاہیے‘ اس سے علامہ محمد اقبالؒ کے افکارونظریات کی ترویج میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا 1947ء میں تجارت، صنعت اور تعلیم سمیت ہر شعبے میں ہم صفر تھے۔ علامہ محمدا قبالؒ ، قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے افکار نے ہمیں زندہ رکھا۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اتنا ہی جوش وجذبہ سامنے آرہا ہے۔ اس مرتبہ وزیرا عظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کمال کر دیا ہے۔انہوں نے طلباسے کہا کہ آج کی تقریب میں جو تقریریں ہوئی ہیں وہ بہت پر جوش اور ولولہ پیدا کرنے والی تھیں۔ ان تقریروں کو اپنے ذہنو ں میں بٹھا لیں۔ انہوں نے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ جسے غلام حیدرو ائیں نے قائم کیا اور مجید نظامی نے اسے عروج بخشا مشاہیر تحریک پاکستان کے افکار کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -