’’تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں‘‘،’’کِس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے !‘‘

’’تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں‘‘،’’کِس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ...

  

لاہور (جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے یوم اقبالؒ کے موقع پر علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران تواتر کیساتھ کئی بار علامہ اقبالؒ کے مختلف اشعار پڑھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ہم اقبال کے ان اشعار میں دےئے گئے پیغام پر عمل پیرا ہوجائیں تو پاکستان دنیا بھر میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا،اس موقع پر انہوں نے یہ اشعار پڑھے۔

تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں

تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کرلے

نہیں یہ شان خود داری، چمن سے توڑ کر تجکو!

کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زیب گلو کرلے

ایک اور موقع پر وزیراعلیٰ نے یہ شعر پڑھا۔

کِس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے !

ہم سے کب پیار ہے ؟ ہاں نیند تْمہیں پیاری ہے

بعد میں وزیراعلیٰ نے یہ شعر بھی پڑھا۔

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

راہ دکھلائیں کسے؟رہرو منزل ہی نہیں

وزیراعلیٰ نے موجودہ حالات میں اتحاد ،اتفاق اوراخوت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اتحاداوراتفاق کا راستہ اپنا لیں تو پاکستان اپنی کھوئی ہوئی منزل ضرور حاصل کرے گا۔اس موقع پر انہوں نے یہ شعر پڑھا۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

مزید :

کراچی صفحہ اول -