جعلی دستاویزات پر گرفتار ہونے والی افغان ’’مونالیزا‘‘ملک بدر

جعلی دستاویزات پر گرفتار ہونے والی افغان ’’مونالیزا‘‘ملک بدر

  

 پشاور / کابل ( اے این این )افغان مونا لیزا کے نام سے شہرت حاصل کرنے والی شربت گلہ ڈی پورٹ ٗ طورخم بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کردیاگیا ٗ جعلی شناختی کارڈ بنوانے پر افغان خاتون کی 15 روزہ سزا گزشتہ روز ختم ہوگئی تھی ٗ عدالت نے شربت گلہ کو جرم ثابت ہونے پر 15 دن قید اور ملک بدر کرنے کی سزا سنائی تھی افغان حکام نے خیبر پختونخوا حکومت سے 9 نومبر کو شربت گلہ کی سزا ختم ہونے کے بعد افغانستان واپسی کے انتظامات کرنے کی درخواست کی تھی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق افغان خاتون شربت گلہ کی15 روزہ سزا کی مدت ختم ہو گئی جس کے بعد اسے ہسپتال سے پولیٹیکل انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیٹیکل انتظامیہ نے شربت گلہ کو طورخم بارڈر پر افغان حکام کے سپرد کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پاکستان میں رہنے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد شربت گلہ کو طورخم کی سرحد پر افغان سیکیورٹی حکام کے حوالے کیا گیا۔شربت گلہ پر 6 الزمات پر جرم ثابت ہوگیا تھا جن میں پاکستان میں غیر قانونی رہائش، جعلسازی، دھوکہ دہی، دستاویز میں چھیڑ چھاڑ اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔واضح رہے کہ انسداد بدعنوانی اور امیگریشن کی خصوصی عدالت نے شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سبز آنکھوں والی شربت گلہ کو 1985 میں نیشنل جیوگرافک کے میگزین میں شائع ہونے والی تصویر سے شہرت حاصل ہوئی تھی۔عدالت نے شربت گلہ کو غیر قانونی طریقے سے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کرنے کے الزام میں مجرم ٹھہرایا تھا اور انہیں 15 روز قید کے علاوہ جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔شربت گلہ اور افغان حکومت نے خیبر پختونخوا کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ 9 نومبر کو شربت گلہ کی سزا ختم ہونے کے بعد ان کی افغانستان واپسی کے انتظامات کرے۔گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت نے انسانی بنیادوں اور افغانستان کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کے اظہار کے لیے شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا تھا تاہم خود شربت گلہ نے پاکستان میں مزید قیام سے انکار کردیا تھا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی شربت گلہ کی ملک بدری روکنے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت سے بھی رابطہ کیا تھا تاہم خاتون نے وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیاتھا۔ افغان جنگ کے دوران نیشنل جیو گرافک کے سرورق پر تصویر کی اشاعت سے شربت گلہ کو مقبولیت حاصل ہوئی تاہم بعد میں وہ پاکستان منتقل ہو گئی اور اس نے جعلی شناختی کارڈ بھی بنوا لیا۔افغان مونا لیزا کے بچے پہلے ہی افغانستان بھیجے جا چکے ہیں۔پاکستان میں قیام کی پیشکش کے باوجود شربت گلہ نے وطن واپسی کی درخواست کی تھی۔شربت گلہ پر جعلی شناختی کارڈ بنوانے کا جرم تھا جس کا انھوں نے اعتراف بھی کیا تھا۔ شربت گلہ کو جعلی شناختی کارڈ بنانے کے جرم میں نادرا کے3اہلکار بھی گرفتار کئے گئے تھے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -