ڈبلیو ایف پی اورداؤد فاؤنڈیشن کی تھرپارکر میں اگاہی مہم

ڈبلیو ایف پی اورداؤد فاؤنڈیشن کی تھرپارکر میں اگاہی مہم

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ خوارک (WFP)برائے پاکستان اورداؤد فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد صوبہ سندھ کے کم ترقی یافتہ ضلع تھرپارکر میں لوگوں کے غذائیت کے حصول کے طریقوں میں تبدیلی لانا ہے۔ضلع تھرپارکر گزشتہ چار برسوں کے دوران شدید قحط سالی سے متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں اکثر اموات بھی واقع ہوئی ہیں ۔ ناقص غذا اور خوراک کی شدید کمی نے مناسب طبی سہولتوں کی عدم دستیابی ، ذرائع نقل و حمل کی کمی اور سڑکوں کی حالت زار سے پیدا ہونے والے مسائل میں مزیدپیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ مہم سندھی زبان میں ریڈیو پروگراموں، بینروں اور آگاہی کے ورکشاپوں کے ذریعے پیغامات کی تقسیم پر مشتمل ہے ۔اس کا مقصد افراد اور کمیونٹیز کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ ناقص خوراک کے شکار بچوں، حاملہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی ماؤں کی مختلف اقسام کی غذائیت بخش خوراک تک رسائی کو یقینی بنائیں۔اس میں چھاتی سے دودھ پلانے، اضافی خوراک، صحت بخش طور طریقوں اور بچوں کی نشوونما کی نگرانی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔اس مہم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارۂ خوراک کے صوبائی دفترسندھ میں ہیڈ آف پروگرام، عرفان ملک نے کہا:’’ناقص غذا محض صحت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے تمام سیکٹرزپر اقدامات کرنا چاہیے اورکمیونٹی سے لے کر قومی سطح تک ترجیح دینا چاہیے ۔ داؤد فاؤنڈیشن کے ساتھ حکمت عملی پر مبنی یہ شراکت پاکستان میں سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گو لز (SGD) کے حصول میں نجی شعبہ کے مثبت کردار کا مظہر ہے۔‘‘ اپنے پیغام میں دی داؤد فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر، سبرینہ داؤد نے کہا:’’یہ مہم تھرپارکر کے لوگوں میں حفظان صحت اور غذائی طور طریقوں کے بارے میں لوگوں کی تعلیم اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہی ہے اور یہ ویژن 2025کے لیے حکومت کی جانب سے غذائیت کو ترجیح دینے کے ہدف کو حاصل کرنے میں اعانت فراہم کرے گی۔ ‘‘ اس موقع پر دی داؤد فاؤنڈیشن کی نمائندگی ادارے کے سیکیوریٹی اور سروسز منیجر عامر شبیر نے کی۔اپنے اختتامی کلمات میں کہا: اگر تمام اسٹیک ہولڈرز سندھ میں ناقص غذاء سے تعلق رکھنے والے اس مسئلہ کے حل کے لیے مل جل کر کام کریں توغذائیت کے حوالے سے ہدف کا حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘سندھ کے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ اور نیوٹریشن سپورٹ پروگرام کو تیکنکی اور پالیسی سپورٹ فراہم کرنے میں عالمی ادارۂ صحت کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے۔اس ادارے نے سندھ کے صوبائی فورٹیفکیشن پروگرام (PFA) کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے جو نیوٹریشن پالیسی اور پروگراموں پر عمل درآمد کا پلیٹ فارم ہے۔ حال ہی میں حکومت سندھ کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجہ میں عالمی ادارۂ خوراک نے کراچی میں اسکیلنگ اپ نیوٹریشن (SUN)سیکریٹریٹ قائم کیا ہے تاکہ مقامی سطح پر ناقص غذائیت سے نمٹا جا سکے۔ یہ ویژن 2025 میں درج اہداف کے حصول کی جانب ایک اور قدم ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -