اجمل خان اور دو پروفیسروں کو جاری کردہ کال اپ نوٹس کو چیلنج کر دیا گیا

اجمل خان اور دو پروفیسروں کو جاری کردہ کال اپ نوٹس کو چیلنج کر دیا گیا

  

پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخوااحتساب کمیشن کی جانب سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاورکے سابق وائس چانسلراجمل خان اوردو پروفیسروں کو جاری کردہ کال اپ نوٹس کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے آئین کے آرٹیکل 199کے تحت رٹ پٹیشن سینئر نامورقانون داں اظہریوسف خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرکی گئی ہے جس میں احتساب کمیشن کے نوٹس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاورکے سابق وائس چانسلراجمل خان ٗڈائریکٹرسٹوڈنٹس افیئرزپروفیسرسکندرخان اور پرووسٹ سید کمال کی جانب سے دائررٹ میں خیبرپختونخوا احتساب کمیشن اوردیگرمتعلقہ حکام کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ خیبرپختونخوااحتساب کمیشن نے درخواست گذاروں کو کال اپ نوٹس جاری کئے ہیں جس کے تحت انہیں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹرنعیم خالد کے کیس میں پوچھ گچھ کے لئے طلب کیاگیاہے جبکہ درخواست گذاروں کافنڈزکے خوردبرد سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اسلامیہ کالج ایکٹ2009 ء کے تحت پرچیز کمیٹی ٗ سرویلنس کمیٹی اوردیگرکمیٹیاں ایک قانون کے تحت قائم کی گئی ہیں جو سینیٹ اورسنڈیکیٹ کو جوابدہ ہیں اوردرخواست گذار براہ راست کوئی خرچہ نہیں کرسکتے اورکوئی خریداری بھی نہیں کرسکتے اورتمام امورقواعدوضوابط کے مطابق نمٹائے گئے ہیں احتساب کمیشن کی جانب سے جاری کردہ کال اپ نوٹس منسوخ کئے جائیں کیونکہ قبل ا زیں نیب خیبرپختونخوا اس حوالے سے نوٹس جاری کرچکی ہے اوراسی نوعیت کی تحقیقات نیب کررہی ہے اورایسی صورت میں بیک وقت دو ادارے تحقیقات نہیں کرسکتے لہذاصوبائی احتساب کمیشن کے کال اپ نوٹس کالعدم قرار دئیے جائیں رٹ میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ درخواست گذاراجمل خان کو کالعدم تنظیم نے اغواء کیاتھا اوروہ تین سال تک ان کی حراست میں رہا اوراس دوران بھی انہوں نے تعلیم کے فروغ کیلئے بیش بہااقدامات کئے اوردہشت گردوں کے علاقے میں رہتے ہوئے وہاں ان کے بچوں کی تعلیم کے لئے سکول کھولااوراس حوالے سے ان کی متعدد وڈیوبھی جاری ہوچکی ہیں پشاورہائی کورٹ کادورکنی بنچ گیارہ نومبرکورٹ پٹیشن کی سماعت کرے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -