پختون قوم کی خدمت اور بقاء ہماری جنگ ہے، سی پیک منصوبہ سے دوستی کا رشتہ مضبوط ہوگا، حیدر ہوتی

پختون قوم کی خدمت اور بقاء ہماری جنگ ہے، سی پیک منصوبہ سے دوستی کا رشتہ مضبوط ...

  

کرک ( بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ نواز شریف ، عمران خان دونوں کی نظریں پنجاب پر لگی ہیں تحت لاہور اور تحت اسلام آباد کے حصول کی اس جنگ میں پنجاب ترقی کر رہا ہے اور خیبر پختونخوا کے حصے میں روز بروز پسماندگی اور بربادی آرہی ہے پختون قوم کی خدمت اور بقا ہماری جنگ ہے سی پیک منصوبے سے پاک چین دوستی کا رشتہ مزید مضبوط ہو گا اور ہم اس منصوبے سے پنجابی بھائیوں کو ملنے والی ترقی کے ہر گز خلاف نہیں مگر پختونوں کی استحصال پر بھی ہر گز خاموش نہیں رہ سکتے ان خیالات کااظہار انہوں نے دورہ کرک کے موقع پر تحصیل تخت نصرتی کے سپورٹس سٹیڈیم میں بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسے میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و سابق وزیر تعلیم سردار حسین بابک ، صوبائی جائنٹ سیکرٹری خورشید خٹک ، دیگر قائدین مجاہد حسینی ، خورشیدہ بیگم ، مسرت شفیع ایڈووکیٹ ، یاسمین ضیاء ، مرید کاظم کوہاٹ ، پارٹی کے ضلعی صدر سجاد احمد ،جنرل سیکرٹری قدرت علی خان ، ملگری استاذان کے عہد یداروں ، پختون ایس ایف ، نیشنل یوتھ کے جوانوں سمیت پارٹی کارکنان اور عوام علاقہ نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی حیدر ہوتی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ وفاقی حکومت سی پیک کے حوالے سے پختونوں کو اپنا حصہ ضرور دے جنوبی اضلاع کو ڈبل سڑک کی منظوری تجارتی رہداری نہیں بلکہ دھوکہ ہے سی پیک کیلئے پنجاب میں کوئلے پر کام ہوسکتا ہے تو شمالی اضلاع کی دریاؤں اور کرک سمیت جنوبی اضلاع میں موجود تیل و گیس کے ذخائر سمیت دیگر معدنی وسائل کو کیوں بروئے کار نہیں لایا جا رہا ہے خیبر پختونخوا کے عوام نے دھرنوں ، ناچ گانوں کی سیاست مسترد کر دی ہے اور انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ جو شخص اپنا گھر نہیں سنبھال سکتا وہ پاکستان کو کیسے سنبھالے گا انہوں نے مزید کہا کہ ناکام ترین صوبائی حکومت کا خزانہ خالی ہو چکا ہے حالات یوں رہے تو صوبے اور وزیر اعلیٰ کی صحت ایک جیسی ہو جا ئیگی ، ترقیاتی کام ، میگا پراجیکٹس تو درکنار ڈر ہے کہ چند ماہ بعد صوبائی خزانے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے پیسے نہ ہو اور کہا کہ 2013میں ہم نے خزانہ بھرا ہوا چھوڑا تھا دوسروں کی تلاشی لینے والے خود تلاشی دے کہ خزانے کا پیسہ کہاں گیا ؟کیا یہی ان کی تبدیلی تھی ملک کے دیگر صوبے کس انداز میں ترقی کر رہے ہیں اور خیبرپختونخوا کا کیا حال بنا دیا گیا ہے ؟اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام سونامی نہیں باچا خوانی چاہتے ہیں اور پختونوں کو مزید دھوکہ نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ میں اپنی حکومت میں کرک آیا تو جیبیں بھر کر لا یا خالی جیبوں والوں نے فنڈ ز دستیاب ہونے کے باوجود ہماری منظور کردہ خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کی عمارت کا اینٹ بھی نہیں رکھا وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کرک کے عوام کا احساس تھا میں نے تیل و گیس رائلٹی کی رقم دگنا کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں تعلیمی ترقی کیلئے یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ کالجز اور سکولوں کی تعمیر کا ایسا نیٹ ورک دیا جو اے این پی سے پہلے کسی بھی حکومت نے یہاں کے عوام کو دیا ہے اور نہ دے سکیں گے انہوں نے پختونوں کی بیداری کیلئے چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ہر گاؤں ہر شہر جا کر فخر افغان باچا خان کا پیغام پہنچاؤنگا اور کہا کہ 2013کے الیکشن کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کا نام مٹنے کی تجزئے کرنیوالے چارسدہ ، مردان چھوڑ کر آج کرک میں آکر دیکھے کہ یہاں کے غیور پختون کس جذبے اور حوصلے کے ساتھ سرخ جھنڈے تلے متحد ہونے کی ثبوت کے طور پر یہاں آئے ہیں اور کہا کہ میں کرک میں آباد غیور خٹک برادری کو سلام پیش کرتا ہوں اور کہا کہ یہاں جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں عوام کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں کرک میں نہیں بلکہ چارسدہ یا مردان میں جلسے سے مخاطب ہوں انہوں نے مزید کہا کہ 2018کے الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبہ بھر میں کلین سویپ کریگی اور کہا کہ صوبے میں حکومت قائم کرتے ہی خوشحال خان خٹک یونیورسٹی عمارت کی تعمیر سمیت یہاں اپنے ادھورے منصوبوں پر کام کا آغاز کرینگے ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -