میٹرو پراجیکٹ کی لاگت بارے حکام کی تضاد بیانیاں، شہری ابہام کا شکار

میٹرو پراجیکٹ کی لاگت بارے حکام کی تضاد بیانیاں، شہری ابہام کا شکار

  

ملتان ( ملک اعظم سے ) اب جبکہ ملتان میٹرو بس پروجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے کسی بھی وقت اس پروجیکٹ کے افتتاح کا اعلان کیا جاسکتا ہے اس مرحلہ پر ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر کے شہریوں میں ایک سوال گردش کررہا ہے کہ زبردستی مسلط کی جانے والی اس سوغات کی اصل لاگت کیا ہے یہ سوال ڈاکٹرز کمیونٹی ،انجینئرز حزب اقتداراور حزب اختلاف کے سیاستدانوں ، مذہبی ، لسانی اور علاقائی جماعتوں میں زیر بحث ہے کہ میٹرو ملتانیوں کو کتنے میں پڑی حتی کہ ضلعی انتظامیہ کو بھی اس اصل لاگت کے بارے میں ہوا نہیں لگنے دی گئی ۔ اس طرح کے کئی اور سوالات بھی گردش کررہے ۔ اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری میٹرو بس پروجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم پر عائد ہوتی ہے ، جس نے گزشتہ 15ماہ کے دوران جاری میٹرو بس پراجیکٹ کی اصل لاگت کے حوالے سے مختلف بیانات جاری کئے ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے 5اگست 2014کو دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ملتان میٹرو بس پروجیکٹ 30کلومیٹر طویل ہوگا اور اس پر 30ارب لاگت آئے گی۔ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس ایم ڈی اے نے 16اپریل کو روزنامہ ’’ڈان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملتان میٹرو بس پروجیکٹ کی لاگت 17ارب 66کروڑ روپے ہے جبکہ یہ 18کلومیٹر طویل ہوگا ۔ 25فروری 2015کو ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے وکمشنر ملتان ڈویژن کیپٹن (ر) اسد اللہ خان نے انگلش نیوز پیپر کسٹم ٹوڈے کو میٹرو بس کی کاسٹ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ 18.5کلومیٹر طویل ہوگا اور اس پر 30ارب صرف ہوں گے ۔ 4ستمبر 2016کو ٹیکنیکل ایڈوائزر میٹرو بس پروجیکٹ صابر خان سدوزئی نے دی نیشن نیوز پیپر سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا کہ میٹرو بس پروجیکٹ 18.5کلومیٹر طویل ہے اور اس پر تقریبا31ارب خرچ ہوں گے ۔ صابر خان سدوزئی نے اسی نیوز پیپر سے 18اکتوبر کو گفتگو کرتے ہوئے بیان جاری کیا 18.5 کلومیٹر طویل ملتان میٹرو بس پروجیکٹ کی کاسٹ 28ارب50کروڑ روپے ہے ۔ ستمبر 2016کو صابر خان سدوزئی نے ملتان میٹرو بس پروجیکٹ کے حوالے سے سرکاری نیوزی ایجنسی اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملتان کے شہریوں کے لئے میٹرو بس پروجیکٹ ایک نعمت ہے ۔ یہ18.5کلومیٹر طویل ہوگا ۔ جبکہ اس کی اصل لاگت 31ارب روپے ہے ۔ 5اگست 2015صابر خان سدوزئی نے ریڈیو پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا کہ میٹرو بس پروجیکٹ 18.5کلومیٹر طویل ہوگا جبکہ اس پر 26ارب لاگت آئے ۔ مذکورہ بالا بیانات کسی متعلقہ افسر کی بجائے ذمہ دار افسران کی جانب سے جاری ہوئے ان ذمہ ذمہ دار افسران کے بیانات میں تضاد نے ملتان کے شہریوں میں ابہام پیدا کردیا اور سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ انہیں اس پروجیکٹ کی حقیقی لاگت کے حوالے سے آگاہ کیوں نہیں کیا جا رہا ان حالات میں ملتان کے باسیوں میں اس کی اصل لاگت جاننے کے حوالے سے جستجو پیدا کردی انھوں نے ایم ڈی اے کی ویب سائٹ سے معلومات حاصل کیں تو ان کا دماغ چکرا رہ گیا ۔ ایم ڈی اے کی ویب سائٹ پر میٹرو بس کی صورتحال میں اس کی اصل کاسٹ 23ارب 47کروڑ 20لاکھ بتائی گئی ۔ اس صورتحال میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے کروڑوں شہری اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ وزیراعلیٰ کے بیان کو اصل حقیقت سمجھا جائے کمشنر ملتان ڈویژن وڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے کے بیان سچ سمجھا جائے یا میٹرو ٹیکنیکل ایڈوائزر کی تفصیلات سند کی حقیقت رکھتی ہے اب سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ رواں ہفتہ کے دوران ٹیکینکل ایڈوائزر نے پاکستان ٹیلی ویژن اور وقت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملتان میٹرو پروجیکٹ کی لاگت 28ارب 50کروڑ روپے ہے ۔ جس نے ایک مرتبہ پھر ابہامی صورتحال پیدا کردی کہ عوام کے ٹیکس کی رقم سے جاری میٹرو بس پروجیکٹ کی اصل لاگت کیوں چھپائی جارہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے میٹرو انتظامیہ کے بدلتے بیانات کیوجہ سے ملتان کے شہری اس پروجیکٹ کی افادیت کے دعوؤں کو ایک بصری دھوکہ قرار دے رہے ہیں ۔

مزید :

ملتان صفحہ اول -